لوگ سازشی نظریات پر کیوں یقین رکھتے ہیں؟

978

جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے، انسانی سوچ اور فکر، سازشی نظریات کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں سازشی نظریات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپ سازشی نظریات سے بھرے پڑے ہیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے انٹرنیشینل میڈیا میں بھی بہت سے سازشی نظریات سننے کو مل رہے ہیں۔ ایسی ایک سازشی تھیوری یا نظریہ جنوری میں وائرل ہوا تھا جس کے مطابق کورونا وائرس ایک سائنسی لیبارٹری میں حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ ایک سازشی نظریہ یہ بھی ہے کہ کرونا وائرس کو آمریکا اور اسرائیل نے مل کر بنایا ہے اور اس وائرس کو چین کے شہر وہان میں آمریکی فوج لائی تھی تا کہ چین کی معاشی ترقی کو کسی طرح سے روکا جا سکے۔ ایک اور تھیوری کے مطابق یہ وائرس چین نے اپنے شہر ووہان کی لیبارٹری میں تیار کیا ہے تا کہ وہ “کرونا ڈپلومیسی” کے ذریعے دنیا کے دوسرے ملکوں کی مدد کر کے انہیں اپنا گرویدہ بنا دے۔ چین “ون بیلٹ ون روڈ” کا دائرہ پوری دنیا تک پھیلانا چاہتا ہے۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ یہ وائرس ایک لیبارٹری میں بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں فی الحال ابھی تک یہ سب باتیں محض سازشی نظریات ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق امریکہ میں 30 فیصد لوگ کورونا وائرس کے متعلق سازشی نظریات میں یقین رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے سروے کے مطابق برطانیہ میں 60 فیصد لوگ مختلف سازشی تھیوریز میں یقین رکھتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہمارے معاشرے میں ہر سیاسی، سماجی اور معاشی معاملے کو سازش کی عینک سے دیکھنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ ہمارے ہاں ایک مشہور اور عام سازشی تھیوری کئی دہائیوں سے سننے کو مل رہی ہے کہ پاکستان میں جو کچھ بھی غلط ہوتا ہے اس میں کہیں نہ کہیں مغربی ممالک کا ہاتھ ہوتا ہے۔

اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ سازشیں دنیا میں ہوتی ہی نہیں، اس کی ایک بڑی واضح مثال بنگلہ دیش کا قیام ہے، جو بھارت کی کئی دہائیوں پر مشتمل سازش تھی اور 1947 سے ہی جاری تھی، بالآخر 1971 میں پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے پر منتج ہوئی۔ قوموں کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھیں یا روزمرہ کی زندگی کے معاملات، آپ کو منفی ذہنیت کے لوگ ہر قدم پر سازشیں کرتے نظر آئیں گے۔ آپ نیٹ فلیکس پر موجود ’رومن امپائر’ دستاویزی سیریز ہی دیکھ لیں آپ دنگ رہ جائیں گے کہ کس طرح رومن سلطنت میں شاہی خاندان کے اراکین، مشیر اور سینیٹرز بادشاہ کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ زندگی کے ہر معاملے کو سازش کی نظر سے دیکھنے کی عادت ذہنی سکون اور طاقت کو تباہ کر دیتی ہے۔ حد سے زیادہ بد گمانی کرنا، خود ساختہ نظریات اور بغیر تحقیق کے نتیجے پر پہنچنا، ہمیں بلاوجہ کی ذہنی بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

2018 میں نفسیات کے ماہر جین۔ولم وین پروئجن نے اپنی کتاب “دی سائیکالوجی آف کونسپائریسی تھیوریز” میں ایسی بہت سی نفسیاتی وجوہات بیان کی گئی ہیں جس کی وجہ سے لوگ سازشی نظریات کو بہت جلدی ماننے لگ جاتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل ان وجوہات کا خلاصہ دیا گیا ہے۔

۔1 – سب سے اہم وجہ کہ لوگ سازشی نظریات پر کان دھرتے ہیں وہ ہے خود کو “غیر محفوظ” سمجھنا۔ خود کو محفوظ سمجھنا انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ غیر متوقع اور انتہائی سخت سماجی حالات نے انسان کو ایک انجانے سے خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، آمدنی میں عدم مساوات، سیاسی عدم استحکام، وبائی امراض اور دیگر سماجی مسائل کی وجہ سے لوگ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی سوچ اور نظریات پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ جب کوئی شخص خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے تو وہ ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پریشان کن جذبات اور سازشوں پر یقین کا آپس میں ایک براہ راست اور مضبوط تعلق ہے۔

۔2 – جب کوئی شخص کسی خوف یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو اس پر قابو پانے کے لئے ایسے غلط عقائد کا سہارا لیتا ہے جو اس کے جذبات کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دماغ کی بجائے دل سے زیادہ سوچتے ہیں۔ ان کے سوچنے اور سمجھنے کے عمل پر عقل سے زیادہ جذبات کا غلبہ ہوتا ہے جس کہ وجہ سے وہ ایسی سازشی عقائد کو ماننے لگ جاتے ہیں جو ان کے جذبات کے ترجمانی کرتے ہیں۔

۔ 3 – جب کوئی فرد کسی قسم کے دباؤ یا بحران کا شکار ہوتا ہے تو اس کے شعور کا دائرہ تنگ ہو جاتا ہے۔ اندرونی خوف اور پریشانی کا حل اپنے اندر دیکھنے کی بجائے باہر کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے مسائل کا حل اپنے اندر دیکھنا ایک مشکل اور محنت طلب کام ہے جب کہ اپنی پریشانیوں کا حل باہر کی دنیا میں تلاش کرنا آسان ہے۔ ایسے لوگ بہت جلد سازشی نظریات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

 اس کے علاوہ تعلیم اور تحقیق سے دوری بھی ایک اہم وجہ ہے جس کی وجہ سے ہم سازشی نظریات کو جلدی قبول کر لیتے ہیں۔ یہ ایک کھرا سچ ہے کہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں سازشی نظریات سے بچنا بہت مشکل ہے لیکن اس پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے آپ کو سب سے پہلے پڑھنے اور تحقیق کی عادت ڈالنی پڑے گی۔ کسی قسم کی معلومات پر فوری اور منفی ردعمل کی بجائے سوچ سمجھ کر مدبرانہ قدم اٹھانا ہو گا۔ بدگمانی سے بچنا اور جذبات پر قابو پانا ہو گا اور سب سے اہم آپ کو اپنی صحبت تبدیل کرنی پڑے گی۔ مثبت اور پرامید لوگوں سے ساتھ اُٹھانا بیٹھنا شروع کریں اور ایسے لوگوں سے خود کو دور رکھیں جو ہر وقت مایوسی کی باتیں کرتے ہیں اور شکایتی قیصدے پڑھتے دکھائی دیتے ہیں.

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ایاز نور دنیا نیوز سے منسلک ہیں اور سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Noman کہتے ہیں

    Really thought provoking Article

  2. Ayaz کہتے ہیں

    Thank you Sir

تبصرے بند ہیں.