سچ کا سفر

459

سچ کا معنی تو بہت آسان اور مختصر ہے یعنی حقیقت کو سچ کہتے ہیں۔ مگر سچ کا مفہوم ایک زاویئے سے بہت وسیع ہے تو وہیں بہت مختصر بھی لگتا ہے۔ اگر انسان غور کرے اور مان جائے تو۔ ماننا یہ ہے کہ ایک سچ کو مان جاؤ۔ یہی کہ قدرت سچی، قدرت کے رنگ اور قدرت کے نظارے سچے ہیں اور وہ یکتا اِس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اُس کی ملکیت میں اُس کا کوئی ثانی نہیں۔ باقی سچ کےراز اِسی ایک سچ سے ہی کھلتے جائیں گے، یہی رازکی بات ہے۔

یہ سچ ہے کہ ساری تخلیق اللہ رَبُّ العزت کی ہے۔ اِس تخلیق کے اندر بڑا سچ زمین و آسمان اور اِن کے درمیان جو معلوم ہو گیا وہ سچ ہے اور جو مخفی رکھا گیا وہ اس سے بھی بڑا سچ ہے۔ اِسے مان جاؤ مگر انسان سوچتا نہیں، سر کو جھکاتا ہی نہیں۔ تیرے نہ ماننے سے اِس منظم کائنات کو قطرہ برابر فرق نہیں پڑنے والا اور اگر تُو مان جاتا ہے تو تیرے ماننے سے بھی اِس کائنات کی شان میں کچھ فرق نہیں آنے والا۔ وہ لفظ کُن کی طاقت رکھتا ہے اور اِس کُن سے ہی ساری تخلیقات وابستہ ہیں ۔ ہاں تیرے ماننے اور نہ ماننے سے بس تجھے ہی فرق پڑے گا۔ یاد رکھنا اطاعت میں ہی خیر ہے۔ آسمان پر آسمان پے در پے ہیں اور وہ بھی بِنا ستونوں کے، یہ سچے کے سچ کی قوت ہے۔ آپ کی زمین بھی سچ ہے اور اتنی وسیع زمین کہ جہاں پر اِنسان خود آباد ہے۔ حیرت ہے پھر بھی انسان آج تک زمین کے کناروں تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ زمین ایسا سچ ہے کہ ساری زمینی مخلوق کی اکلوتی ماں جیسی ہے۔ چونکہ یہ زمین اللہ کے امر سے خوراک پیدا کرتی ہے۔ زمین سچ ہے اور اِس زمین کے نیچے جتنی زمینیں اور اُن میں جتنی مخلوقات آباد ہیں وہ بھی سچ ہیں۔

آسمانوں پر آسمان پھر لامکان سچ ہے۔ لامکان سے آگے کے جہان سچ ہیں اور خود اللہ کا عرش سچ ہے۔ ساری کائنات سچی ہےاور کائنات کی روح سچ ہے۔ ہوائیں،فضائیں، دریا، سمندر،ہریالی اور ریگستان کے آخری ذرے کا کرب سچ ہے۔ کائنات سچی، کائنات کی روح سچی، ساری کائنات کے خالق و مالک اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ سچے ہیں۔ اللہ کے حبیب ﷺ کا حرف حرف بلکہ ہر اشارہ سچا ہے۔ اتنے بڑے سچ کے اندر جھوٹ ممکن نہیں ہو سکتا۔ اگر جھوٹ کہیں پر ہے بھی تو وہ بھی سچ ہے یا کم ازکم وہ جھوٹ سچ کا سہارا ضرور ہے۔ ممکن نہیں کہ پورا کا پورا جھوٹ ہو یعنی ہر جھوٹ کے اندر کہیں سچ بھی ضرور مخفی ہوگا اور وہی مخفی سچ بہت جلد آپ کے جھوٹ کی ٹانگیں توڑ دے گا اور آپ کا جھوٹ حقیقی سچ کو نکال باہر لائے گا۔

جھوٹ اگر کہیں پر ہے بھی تو وہ بھی سچ ہے۔ جھوٹ دراصل سچ کو چھپانے کی مختلف ترکیبیں ہیں، جھوٹ سچ پر پردہ ڈالنے کا نام ہے۔ ایک سچ کو چھپانے کے لئے ہمہ وقت مختلف سچ اور جھوٹ کے لشکر درکار ہوتے ہیں۔ مگر انسان بھول جاتا ہے کہ اُس کے لشکر کے پاؤں نہیں ہیں۔ فقط بِنا تاثیر کے بولوں کا اِک ہجوم ہے جسے بہت جلد ہوا میں راکھ بن کر اُڑ جانا ہے اور چُھپا ہوا سچ ایک نیا سچ اور ایک نئی طاقت بن کر سامنے آنے والا ہے۔ سو احتیاط برتی جائے اور ہر ممکن سچ کی دہلیز پر ہی رہا جائے چونکہ حیات یہیں پر ممکن ہے۔

سچ کے راز کو پانے کے لیے آپ کو پہلے اپنے باطن کو غسل دینا ہو گا۔ پہلے اسے پاک کرنا ہو گا۔ جب باطن پاک ہو گا تب سچ طاقت بن کر آپ کی رہنمائی کریگا۔ سچ کے پیغام کو، سچ کے راز کو پانے کے لیے اندر کی پاکی لازم ہے اور اندر کی غلاظتوں کو دور کرنے کے لیے لازم ہے کہ آپ حقیقت کو تسلیم کر لو۔ حقیقت یہی ہے کہ ساری کائنات کا مالک وہی رب العالمین ہے، اسی ملکیت میں ہمارا جسم و جاں بھی ہے۔ ساری کائنات پر رب کا حکم چلتا ہے تو ہمارے جسم پر کیوں نہیں۔ بس یہی حقیقت ہے، اسی کو مان لیا ہوتا تو آج ہم آفات کا شکار نہ ہوتے، جیسے کورونا وائرس ہے جس سے جان چھڑاتے نہیں چھوٹ رہی۔ لہذا سچ کی طرف لوٹ آو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.