کورونا کو ہرانے کیلئے خود اںحصاری ہی بہترین حل

343

محتاط اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تقریباَ 66 کے قریب منصوبے کورونا وبا کا تریاق ڈھونڈنے کے لیے جاری ہیں۔ ان میں 7 کے قریب ری- پروپوزڈ، 16 کے قریب انٹی باڈیز اور 43 کے قریب ویکسین شامل ہیں۔ “ری-پروپوزڈ ڈرگز” بنیادی طور پر پرانی قابلِ استعمال ادویات کو بیماری کے مطا ق بہتر کر کے استعمال کرنے کا نام ہے۔ “انٹی باڈیز” دراصل پروٹین یا “انٹیجن” ہے۔ اس عمل میں جسم کا مدافعتی نظام کسی بھی گھس بیٹھیے جراثیم یا خطرناک مادے کے خلاف مادہ تیار کرتا ہے۔ یہ کام بنیادی طور پر سفید خلیے انجام دیتے ہیں جن کو پلازمہ بھی کہتے ہیں۔ پلازمہ مدافعتی نظام کی خودکار جنگ کا ہراول دستہ ہوتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں “انٹی باڈیز” خون میں شامل کرتے ہیں۔ پاکستان میں پچھلے کچھ دن سے یہ تجربہ کامیابی سے کیا جا رہا ہے اور کافی مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ یہ پلازمہ کچھ صحت یاب ہونے والے مریضوں نے عطیہ کیا ہے۔

دنیا میں 43 کے قریب ویکسینز بھی اسی تناظر میں تیاری کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ ویکسین کو بیماری پھیلانے والے جراثیم یا اس کے کسی حصے کو کمزور کر کے اس سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک طویل مدت مشق ہے۔ ایک سائنسی اندازے کے مطابق ان مذکورہ بالا منصوبوں کا تجرباتی مرحلہ مارچ 2020 میں شروع ہوا جو ستمبر 2021 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ ان میں سے کچھ وقت سے پہلے بھی تیار ہوسکتی ہیں. جیسے کیوبا میں آج کل “ونڈر ڈرگ” کے چرچے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی 23 کے قریب ادویات صرف اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تیاری کے مراحل میں ہیں، اس کے باوجود یہ معاملہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بیرون ممالک سے منگوائی گئی ویکسین یا ادویات انتہائی مہنگے داموں ملیں گی، چونکہ دنیا بھر کی معیشتیں کورونا وائرس کے سبب شدید مشکلات سے دوچار ہیں جس کو سہارا دینے کیلئے ویکیسن انتہائی مہنگے داموں فروخت کی جائیں گی۔ پاکستانی معیشت جو پہلے ہی قرضوں پر چل رہی ہے اس بھاری سودے کی کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتی، اس لئے ویکسین خود اپنے ملک میں تیار کرنا ہی مناسب حل ہے۔

پاکستان میں ایک سانٹفک ٹاسک فورس کے نام سے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ معروف سائنس دان ڈاکٹر عطا الرحمن کی سربراہی میں سات ڈاکٹرز کی یہ ٹیم ریسرچ ورک کی سربراہی کرے گی اور سفارشات مرتب کرکے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو پیش کرے گی۔ ڈاکٹر عطا الرحمن کی قابلیت شک و شبہے سے بالاتر ہے، انہوں نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں کورونا کیسز ایک لاکھ تک جا سکتے ہیں، ہمارے پاس ٹیسٹنگ صلاحیت کی کمی ہے۔ جب تک یہ صلاحیت نہیں بڑھائیں گے، کنفرم کورونا کیسز کی تعداد معلوم نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر عطا الرحمن کے مطابق ملک میں کورونا ٹیسٹ بہت کم تعداد میں کئے جا رہے ہیں، اس لیے متاثرین کی تعداد کم نظر آتی ہے۔

پاکستانی ماہرین کی پہلی کامیابی یہ ہے کہ ٹیکنالوجی ادارے نسٹ میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کِٹ تیار کر لی گئی ہے، اس سے پہلے بیرون ملک سے ہمیں وہ ٹیسٹنگ کِٹ 8 سے 10 ہزار روپے میں مل رہی تھی لیکن اب وہی ٹیسٹنگ کِٹ صرف 1500 سے 2 ہزار روپے میں میسر ہے۔

دوسری خوشخبری یہ ہے کہ عالمی اداروں نے پاکستان کو کورونا وائرس کا علاج دریافت کرنے والے ممالک میں شامل کر لیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق ایک ملکی ادارے کے ماہرین مریضوں پر تجربات کریں گے، ایک گروپ کو ادویات ارتھرومائسین اور کلوروکوائن دی جائیں گی جبکہ دوسرے کو کلوروکوئن دی جائے گی۔ اگر نتائج حوصلہ افزا آ گئے تو پاکستان میں ہی کورونا کا علاج دستیاب ہو گا اور دنیا بھر کو تگنی کا ناچ نچانے والی بیماری کو ہرانے میں ہم خوداںحصار ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اور نسٹ سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں میں بھی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔

اگر ہمارے ماہرین کے تجربات کامیاب ہو گئے تو کچھ مدت میں ویکسین تیار ہو جائے گی اور کورونا کا مسئلہ کافی حد تک کنٹرول میں آ جائے گا۔ ہم نہ صرف اپنے عوام کو مرض سے بچانے میں خودکفیل ہو جائیں گے بلکہ ویکسین دوسرے ملکوں کو فروخت کر کے قیتی زرمبادلہ بھی کما سکیں گے جس کا ہماری معیشت کو ایسے ہی ضرورت ہے جیسے انسانی جسم کو خون کی۔ تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جب تک کامیابی  نہیں مل جاتی، کورونا وائرس سے بچنے کیلئے حکومت پاکستان کی اعلان کردہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہی مسئلے کا واحد حل ہے جس کی اپنی اور اہل خانہ کی حفاظت کیلئے سختی سے پابندی ضروری ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں، مواد سے کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ تصور ہو گی

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.