کرونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے

515

آج پوری دنیا کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہے، حکومتی شخصیات سے لے کر بزنس مین، صنعتکار، اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد، امپورٹرز و ایکسپورٹرز سمیت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس وائرس کی وجہ سے مسلسل ہلاکتیں جاری اور کاروبار شدید نقصان سے دوچار ہیں، اس وبا نے عالمی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

دو ماہ قبل چینی شہر ووہان سے پھیلنے والی اس وبائی بیماری سے اب تک 162 ممالک کے شہریوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں چین، امریکہ، آسٹریلیا، کمبوڈیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، ملائشیاء، نیپال، سنگاپور، ایران، ساؤتھ کوریا، سری لنکا، تھائی لینڈ، تائیوان، بھارت، پاکستان اور ویتنام سمیت دیگر شامل ہیں جبکہ یہ 1 لاکھ 82 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کرتے ہوئے تقریباً 7 ہزار سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنا چکی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اب تک اس وائرس کے پھیلنے کی اصل وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا، نہ ہی اس کی کوئی حفاظتی ویکسین تیار ہو سکی ہے۔

اس وائرس کی ابتدا بھی ابھی تک ایک مفروضہ ہے، کہا جا رہا ہے کہ کرونا کی یہ قسم چمگادڑوں سے پھیلی ہے مگر حقیقت جو بھی ہو، جانوروں سے انسان اور پھر انسان سے انسان تک بہ آسانی پھیلنے والے کرونا وائرس کے خوف سے دنیا بھر میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ تمام متاثرہ ممالک کے ساتھ آمدورفت اور تجارت معطل کر دی گئی ہے۔ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں طواف بند کر کے فی الحال عمرہ زائرین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، متاثرہ ممالک سے پروازیں معطل ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے دو ہمسایہ ممالک چین اور ایران اس وبا سے زیادہ متاثر ہوئے، جس کے باعث پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کے شدید خطرات موجود ہیں، کیونکہ پاکستان میں اس وقت قریب 50 ہزار چینی سی پیک اور مختلف پروجیکٹس پرکام کر رہے ہیں۔ ہزاروں پاکستانی طلبہ چین میں زیرتعلیم ہیں، اسی طرح ایران کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد بلوچستان اور کراچی کا سفرکرتے ہیں اور ہزاروں زائرین ایران کے مقدس مقامات پر بھی جاتے ہیں۔ پاکستان نے متاثرہ ممالک کے ساتھ روابط کو محدود کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات کے طور پر ملک بھر کے تعلیمی ادارے، شادی ہال بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کو حفاظتی تدابیراختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق کرونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہیں، بخار، کھانسی، زکام، سردرد، سانس لینے میں دُشواری کرونا وائرس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ایسی تمام علامات رکھنے والا مریض کرونا وائرس کا ہی شکار ہو۔ البتہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں یا مشتبہ مریضوں سے میل جول رکھنے والے افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیہ ہو سکتا ہے اور اگر نمونیہ بگڑ جائے تو مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق انفیکشن سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک 14 روز لگ سکتے ہیں، لہٰذا ایسے مریضوں میں وائرس کی تصدیق کے لیے انہیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ صحت مند افراد جب کرونا وائرس کے مریض سے ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو یہ وائرس ہاتھ اور سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انتہائی سرعت کے ساتھ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو جاتا ہے لہٰذا اس وائرس میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو بھی انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سب لوگ اپنے ہاتھ بار بار دھوئیں، چھینکتے وقت منہ پر ہاتھ رکھیں، رومال یا ٹشو استعمال کریں، جانوروں سے دور رہیں، غیرضروری سفر سے پرہیز کریں۔ کرونا وائرس کسی بھی چیز کی سطح پر چند گھنٹے موجود رہ سکتا ہے اس لیے غیر ضروری چیزیں نہ چھوئیں۔ وبا کو عذاب سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے پرانے وقتوں میں طاعون، ہیضہ ، گردن توڑ بخار، چیچک اور یرقان وغیرہ جان لیوا امراض تھے۔ مگر اس دورجدید میں ایبولا، سارس ، مرس ، ڈینگی اور کرونا وبائی امراض کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

کرونا وائرس کے خلاف ادویات کی تیاری کیلئے دنیا بھر میں کوششیں جاری ہیں، جرمن ماہرین کرونا سے نمٹنے کیلئے ویکسین بنانے کی کوشش میں ہیں جو کمپنی کے مطابق تجرباتی مراحل سے گزر کر جون تک لوگوں کو دستیاب ہونے کا امکان ہے، دوسری جانب امریکہ میں بھی کرونا ویکسین کا کلینکل ٹرائل جاری ہے جس کو مارکیٹ میں آنے کیلئے ڈیڑھ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ تاہم اُس وقت تک ضروری ہے کہ بیماری سے ڈرنے کی بجائے طبی ماہرین کی بتائی گئی حفاظتی تدابیر کے ذریعے بیماری سے بچنے کی ہر ممکن کوشش یقینی بنائی جائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.