ماں، قوموں‌ کا فخرِ جلیل

676

کہتے ہیں ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ ماں اپنے بچے کے لئے سراپا تربیت اسی وقت بن جاتی ہے جب وہ رحم مادر میں تخلیقی مدارج طے کر رہا ہوتا ہے۔ طبی نقطہ نظر سے ماں کے جذبات، خیالات و احساسات بچے کے دماغ اور نفسیاتی نشونما پر اثر انداز ہوتے ہیں لہذا اس دوران اپنے جذبات کو معتدل اور خیالات کو پاکیزہ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ایسے میں گھر میں موجود افراد کو بھی چاہیئے کہ ایسی عورت کو پرسکون ماحول فراہم کرنے میں ہر ممکن تعاون کریں ۔ یہ ایک عورت اور اس کے ہونے والے بچے کا اولین حق ہے جو اسے ملنا چاہیئے ۔ پیدائش کے فورا بعد بچے کے کان میں سب سے پہلے پڑنے والی آذان کی آواز اور ماں سے ملنے والے پاکیزہ خیالات اس کی آئندہ کی عادات و اطوار تشکیل دیتے ہیں۔

بچوں کے جملہ کام نمٹانے خصوصا دودھ پلانے اور سلانے کے دوران اللہ کا ذ کرواذکار، تلاوت قرآن پاک، سیرت النبی ﷺ اور اس سے متعلق معلومات کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ بچہ بولنے لگے تو ماں کی ذمہ داری اور نگرانی مزید بڑھ جا تی ہے کہ کوئی برا لفظ یا جملہ نہ سیکھ لے۔ شروع سے ہی بسم اللہ سے کام شروع کرنے، لباس بدلتے ہوئے سیدھے ہاتھ اور پاؤں کا خیال رکھنا اور موقع کے لحاظ سے مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا عورت کی ذمہ اریوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

ایک اور مشکل مرحلہ بچے کو نماز کا پابند بنانا ہے۔ ان سب کے لئے عورت کو بچے کیلئے رول ماڈل بننا ہوتا ہے۔ غلط کاموں پر مناسب تنبیہہ بھی ضروری ہے اور اچھے کاموں کا مناسب طریقے سے اعتراف بھی۔

رشتوں کا ادب و احترام اور ان کے تقدس کا احساس دلانا نہ صرف بلوغت بلکہ بچپن کے دور کا بھی اہم تقاضہ ہے۔ بچے کے سامنے کسی کا برا ذکر اس کے کچے اور ناسمجھ ذہن می کینہ اور نفرت بھر دیتا ہے۔ کیونکہ بچہ فطری طور پر اپنے والد اور والدہ کو ہی عزت کے لا ئق سمجھتا ہے اور بچے کے سامنے اس کے ددھیال و ننھیال کی برائی ہو گی تو بھی یہ سوچ کر کہ انھوں نے میرے ماں یا باپ کے سا تھ اچھا نہیں کیا، اپنے ان قریبی رشتوں کو لائق عزت نہیں سمجھے گا۔

بچے کے جذبات نازک اور مشاہدہ تیز ہوتا ہے، کوئی چیز اس کے مشاہدے میں ایسی نہیں آنی چا ہیئے جو اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔ یہ ماں ہی ہے جو ایک نظر ڈال کر پہچان جاتی ہے کہ بچہ کس بات سے پریشان اور آزردہ ہے اور اس کی یہ تکلیف و پریشانی کیسے دور ہو سکتی ہے۔ یہ ماں ہی ہے جو بچے کو غلط اور درست، نیک و بد، کھرے اور کھوٹے، اچھائی و برائی کی تمیز کروا سکتی ہے اور یہی وہ تمیز ہے کہ بچہ جس مقام پر بھی پہنچ جائے اس کو صراط مستقیم پر چلنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

دور حاضر کے پر فتن لمحات میں تربیت اولاد ماں کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے سبب نت نئے نظریات ہماری روزمرہ زندگی میں شامل کئے جا رہے ہیں، ان کے باطل اثرات کو زائل کرنے کے لئے اپنی اولاد کی حق کے راستے کی طرف رہنمائی اور ذہن سازی وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ موجودہ دور ذہنی اور نظریاتی جنگ کا ہے۔ بچوں کے اندر نہ صرف نظریاتی شعور بیدار کرنے بلکہ اس پر مستقل مزاجی کے ساتھ باعمل رہنے کی اہلیت بھی پیدا کرنا ضروری ہے۔ مستقبل ان کا ہی ہے جو اپنے نظریات میں پختہ اور اطوار میں پا کیزہ ہوں اور یہ مائیں ہی ہیں جو اپنے بطن سے ایسی نسلیں پروان چڑھا سکتی ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے، اس کے لئے اپنی زندگی کی ایک ایک سانس لگانی پڑتی ہے کہ یہی تو وہ صلاحیت ہے جو اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کے راستے پر چلائے گی۔

صفیہ نسیم معاشرتی اور تاریخی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Zainab کہتے ہیں

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، بہت اعلی تحریر ہے
    ماشاءاللہ

تبصرے بند ہیں.