…وہ ایک سوال

680

سوال کے معنی پوچھنا یا معلوم کرنا کے ہیں اور یہ وہ بنیادی نکتہ ہے کہ جو انسان کے اندر نامعلوم کو معلوم میں بدلنے کی جستجو پیدا کرتا ہےـ خالی دماغ میں سوال پیدا نہیں ہوتے، ایسا دماغ کہ جس نے دیکھا نہ سنا ہو، مشاہدہ نہ کیا ہو، ایسا دماغ خالی ہوتا ہےـ کوئی شخص اچھا سوال تب ہی پوچھ سکتا ہے جب اس نے دیکھنے، سننے یا مشاہدے کے بعد کسی معاملے پرغوروفکر کیا ہو، تب ہی دماغ میں ادھوری بات کو مکمل کر لینے کی جستجو پیدا ہوتی ہے اور جب یہ جستجو پیدا ہو جاتی ہے توآپ کی لئے وہ نامعلوم؛ معلوم کی شکل اختیار کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ یعنی مسئول کے لیے کوئی ایسی ترکیب ضرور بن جاتی ہے کہ وہاں سے سوال کا جواب مل جاتا ہےـ

کمزور یا بوڑھا دماغ سوال نہیں پوچھتا، سوال انسان کو عِلم کی دہلیز تک پہنچاتا ہے ۔ یہ عمل دراصل ایک سفر ہے جس کا ساتھی کتاب ہے، جب آپ مطالعہ کریں گے تب ہی آپ کا دماغ حرکت میں آئے گا، تب ہی آپ کچھ نیا سوچنے اور کھوجنے کی راہ پہ نکلیں گے اور آپ کے دماغ میں نت نئے سوالات جنم لیں گے۔ پھر آپ پڑھتے پڑھتے اور پوچھتے پوچھتے بہت آگے تک نکل جائیں گے۔ اس موقع پر آپ کو اِس بات کا احساس ہو گا کہ کسی منزل، کسی ہدف کا چناؤ کرنا چاہیے۔ جب آپ اپنے منتخب کئے ہوئے ہدف تک پہنچیں گے تو وہاں ایک اور احساس اجاگر ہو گا کہ یہ منزل تو ادھوری ہے، چھوٹی ہے، میرے شایان شان نہیں اور تب بلآخر آپ اپنے اصل مقصد کی طرف نکلو گے جس کے لیے آپ کی تخلیق کی گئی ہے۔

اب آپ کا حقیقی سفر شروع ہو گا، اپنی کھوج میں، اپنی تلاش میں، جسے خودی کا سفر کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر آپ اپنی ذات کا ادراک پائیں گے، وہ مقصدجس کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔ جب آپ اپنی کھوج یا اپنی ذات کی تلاش میں نکلتے ہیں تو دوسرے معنی میں آپ جہاداکبر کے میدان میں اترتے ہیں۔ یہی حقیقی کامیابی ہے کہ آپ کو وہ ابدی خبر مل جائے کہ اپنا مقصدِ تخلیق پا جائیں۔

ایک بہت بڑے ولی گزرے ہیں، ان سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ نے یہ مقام کیسے پایا۔ بزرگ نے بہت خوب صورت جواب دیا کہ میں پوچھ پوچھ کر یہاں تک پہنچا ہوں۔ خیرآپ بھی پوچھنے والے، سوال کرنے والے بنیں، اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔ آپ جب پوچھے گے، سوال کریں گے، سوال سے سوال پیدا ہوتے جائیں گے اور بلآخر وہ ایک سوال بھی پیدا ہو جائے گا، جس ایک کی کسک میں آپ نے ہزاروں سوال پوچھے ہونگے۔ یہ سوال تخیل میں پیدا ہونے کی دیر ہے، آپ کے حصے کی راہ کھل جائے گی اور آپ اپنی راہ حیات پا کر اپنے حقیقی ہدف تک پہنچ جائیں گے جو حقیقی منزل، دائمی مسرت اور دونوں جہانوں کی کامیابی کی ضمانت ہو گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.