لینڈ ریکارڈ ڈیپارٹمنٹ بمقابلہ پٹواری سسٹم

1,941

کسی بھی مہذب معاشرے کی نشونما میں شعور اور احساسِ ذمہ داری اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا فقدان اسی معاشرے کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ کسی بھی نظام کا بنیادی ڈھانچہ اس وقت ہل جاتا ہے جب افراد اسے دیمک کی طرح چاٹنا شروع کردیتے ہیں۔ کسی شاخ پر بیٹھ کر اسی کو کاٹنے کا انجام تو سبھی کو معلوم ہے۔ افراد کی ذہنی وعقلی سطح بلند کیے بغیر نظام کی تبدیلی کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ کچھ یہی افسوس ناک صورت حال پٹواری سسٹم کو بدل کر لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے آغاز کے ساتھ ہوئی

پنجاب حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے اخراجات کے باوجود سائل کے مسائل جوں کے توں رہے۔ لوٹ مار تو پٹواری، قانون گو اور تحصیلدار بھی کرتے تھے لیکن اب مٹھی گرم کرنے کا یہ سلسلہ لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں بھی شروع ہو چکا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں ایجنٹوں کی لاٹری نکل آئی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ کیونکہ ریکارڈ کی کمپیوٹر پر منتقلی کے دوران 80 فیصد افراد کی قوم غلط ڈالی گئی۔ بجائے سادہ انداز میں قوم کی درستگی کی جاتی اس کاروائی کو اتنا پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ سائل مجبوراً روز روز کے دھکے کھانے کی بجائے ایجنٹوں کو دس سے لیکر بیس ہزار تک عنایت فرما دیتا ہے اور پھر ایجنٹ اسی کارروائی کو اے ایل ڈی آر یا اسی کے کسی نمائندہ سے آدھی رقم کے عوض منٹوں، سیکنڈوں میں مکمل کر کے درستگی کروا دیتا ہے۔ اب نہ رہی ضرورت فرد کی اور نہ پٹواری سے انتقال کی کاپی کی اور نہ ہی ضرورت رہی پٹواری، قانون گو اور تحصیلدار کی تصدیق کی۔

اس سے قبل زمین کے انتقال کے لیے لوگوں کے پاس دو راستے تھے، وہ براہ راست تحصیلدار سے انتقال کرواتے تھے یا پھر رجسٹرار سے رجسٹری۔ اب یہی اختیارات لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے پاس آ گئے ہیں۔ یہاں پر پرچہ ملکیت برائے ثبوت کا ریٹ 500 سو روپے ہے اور فرد ملکیت برائے بیع کا ریٹ 1250 روپے ہے۔ اس کے بعد سرکاری فیس اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد عین پٹواری کے طرز پر لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے مجاز افسر کی جیب بھرنی پڑتی ہے۔ اس فریضہ کی انجام دہی کے لیے اس نے اپنے ہی دفتر کے چند وفادار بندے رکھے ہوئے ہیں۔ وہ خود دفتر سے کئی کئی دنوں تک غائب رہتا ہے اور سائلین اس کی راہ تکتے رہتے ہیں۔

لینڈ ڈیپارٹمنٹ کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ یہاں تمام ریکارڈ کمپیوٹر میں محفوظ ہے اور کمپیوٹر میں وائرس یا کسی اور فنی خرابی کی صورت میں کئی کئی دنو ں تک کام ٹھپ رہتا ہے۔ ڈیٹا انٹری افسران مجبوراً بے بس بیٹھے رہتے ہیں اور انتہائی اہم نوعیت کے کام بھی التوا کا شکار رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں مذکورہ محکمے میں ہڑتال نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ہفتوں تک زمینوں کا انتقال، فرد ملکیت اور مچلکے نامے کا کام بند رہا جوکہ انتہائی کرب کا باعث تھا۔ یہاں نہ تو کوئی شکایتی سیل ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی کے لیے مجاز افسر جو سائلین کے دکھ کا مداوا کر سکے۔

صبح لمبی لائنوں میں کافی دیر تک کھڑے رہنے کے بعد ٹوکن کاحصول ممکن ہوتا ہے اور پھر اپنی باری کے انتظار میں پورا دن گزر جاتا ہے۔ دس میں سے صرف تین یا چار کاونٹر فعال ہوتے ہیں باقی کاونٹرز پر خالی کمپیوٹرز ہی نظر آتے ہیں جن کا سٹاف جانے کہاں ہوتا ہے یا شاید یہ سائلین کا دل جلانے کیلئے رکھے گئے ہیں۔

زمینوں کا غائب ہو جانا، ایک کی زمین دوسرے کے کھاتے میں چلے جانا، ایک کھاتہ میں ایک اور دوسرے کھاتہ میں دوسری قوم، ریکارڈ کا بالکل نہ ملنا اور نام کی غلطیاں لینڈ ڈپیارٹمنٹ میں معمول کی باتیں ہیں۔ متاثرہ شخص کے تو پائوں سے زمین ہی نکل جاتی ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ایک مربع زمین کا کوئی وجود نہیں یا پھر کسی اور کھاتہ میں درج ہوگئی ہے۔ من پسند اورایجنٹوں کے ذریعے آنے والے افراد کو ٹوکن کے کٹھن مرحلے سے نہیں گزرنا پڑتا اور نہ ہی انہیں اپنی باری کے لیے انتظار کی کوفت کا سامنا کرنا ہوتا ہے، ان کے لیے ٹوکن بھی تیار اور علیحدہ روم میں کام بھی مکمل۔ ہر محکمہ کی طرح یہاں بھی فائلیں اس وقت تک سفر نہیں کرتی جب تک انہیں پہیے نہ لگائے جائیں۔ افراد کی اکثریت پرانے پاکستان کی طرح پرانے پٹواری سسٹم کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یہی کہنا کہ لینڈ ڈپیارٹمنٹ میں صرف خامیاں ہی ہیں اور یہاں کا ہر افسر بدعنوان ہے زیادتی ہو گا۔ یہاں ایماندار اور فرض شناس افسران بھی موجود ہیں۔ اگر اس محکمہ میں موجود خامیوں کا تدارک کردیا جائے اور چند کالی بھیڑوں کو نکال دیا جائے تو یقناً یہ ایک عوام کی بڑی قابل قدر خدمت ہو گی۔ پٹواریوں سے کمپیوٹر پر منتقلی کے کام میں اگر عجلت سے کام نہ لیا جاتا تو آج اتنے گھمبیر مسائل نہ ہوتے۔ پٹواریوں کو آج ویلج افسر کا نام دے دیا گیا ہے۔ آج بھی ان کی چال اور ڈھال نہیں بدلی۔ عوام کو اب سمجھ نہیں آتی کہ کنواں بہتر ہے یا کھائی۔ اوپر سے سرکار نے اتنے ٹیکس بڑھا دیئے ہیں کہ زمین کی منتقلی اب ایک درد سر بنتا نظر آتا ہے۔ لوگ پھر سے تحصیلدار سے رجسٹری اور انتقال کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

 امید کی جاتی ہے کہ بورڈ آف ریونیو کے اعلی حکام عوامی مسائل کے حل کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے،  ٹائوٹوں اور ایجنٹوں کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ اقربا پروری اور رشوت خوری کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ چند کرپٹ عناصر کے باعث عوام کی نظر میں بدنام یہ محکمہ پھر سے اچھی شہرت پا لے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنایا گیا کمپیوٹرائزڈ نظام حقیقی معنوں میں شہریوں کو سہولیات فراہم کرے۔

مشتاق کھرل نے ماس کمیونیکیشن اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری لے رکھی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہونے کے ناطے معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.