دہرا معیار ۔۔۔منافقانہ رویے

4,925

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر لکس اسٹائل ایوارڈ کی ایک ویڈیو کا خوب چرچا ہے۔ جس میں نامورکامیڈین یاسر حسین نےاداکارہ اقرا عزیز کو شادی کی پیشکش کی اور مثبت جواب ملنے پر بھری محفل میں نہ صرف اقرا کو گلے لگایا بلکہ بوسہ بھی دیا۔ سوشل میڈیا پر کئی احباب کو ان کااظہار محبت ایک آنکھ نہیں بھایا۔ بیشتر نے ان کے اس عمل کو غیر شرعی اور اخلاقیات کے منافی قرار دیا اور ویڈیو کی میمز بنا کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری تنقید پر کامیڈین یاسر حسین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اقرا کو بطور ایک دوست گلے لگایا اور بوسہ دیا۔ شوبز انڈسٹری میں گلے ملنا معمول کی بات ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ویڈیو کو دیکھنے سے بچوں پر کوئی غلط اثرات مرتب نہیں ہونگے کیونکہ سمارٹ فونز پر وہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔ ڈراموں اور فلموں میں کیا ایسے مناظر نہیں دکھائے جاتے؟

میری تحریر کا مقصد یاسر حسین کا دفاع کرنا نہیں بلکہ تنقیدی نقطہ نظر رکھنے والے احباب کو چند حقائق سے روشناس کروانا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مجموعی طور پر ہر فرد کو دوسروں کی زندگی میں بلاوجہ دخل اندازی کرنے کی عادت پڑ چکی ہے ۔ کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ موجودہ دور میں شاید ہی کوئی نوجوان ایسا ہو جس کے کسی خاتون کے ساتھ تعلقات نہ ہوں ۔ پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہی موقع معاشرے میں موجود کسی بھی نوجوان کو ملتا تو شاید اس کا ردعمل کچھ ایسا ہی ہو تا۔ کامیڈین کا یہ ردعمل ان کے تعلقات کی نوعیت کا عکاس ہے۔ ہمارے معاشرے میں فرد واحد 2 یا 3 گرل فرینڈز تو رکھ سکتا ہے۔ نامحرم لڑکی کو بائیک پر گھما سکتا ہے اور گھنٹوں شاپنگ بھی کروا سکتا ہے۔ اس میں کسی کو کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی لیکن اپنی ہونے والی بیوی کو بوسہ نہیں دے سکتا۔ دہرے معیار کی اس سے عمدہ مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ہر شخص بلاجواز تنقید کا حق رکھتا ہے۔ ہر وقت تنقید کے لیے کوئی نہ کوئی موضوع ڈھونڈنے کی تگ ودو میں ہوتے ہیں۔ خواہ مسئلہ سیاسی ہو یا پھر سماجی بس اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اپنی آنکھوں پر دہرے معیار کی ایسی پٹی باندھ لیتے ہیں جس سے اپنے لیے تو ہر چیز جائز جبکہ معاشرے کےدیگر افراد کے لیے ناجائزنظر آتی ہے۔

ہمارے اس منافقانہ سماجی نظام نے ہر فرد کی شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں خواہ تعلیم کا نظام ہو یا صحت اور انصاف کا، شعبہ ہائے زندگی کے ہر معاملے میں خودغرضی اور مفاد پرستی کا عنصر عیاں ہے ۔ میوزک کانسرٹ اور سینما گھروں میں جانے کا خیال تو ہمیشہ ہی نوجوان نسل پر حاوی رہتا ہے۔ بھارتی فلموں اور موسیقی سے تو خوب لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن محفل کے اختتام پر انڈیا کی تباہی اور بربادی کے راگ الاپے جاتے ہیں۔

کئی ایسے احباب ہیں جو دفاتر میں خواتین کے ساتھ میل جول کوخوش اخلاقی کا نام دیتے ہیں لیکن اپنے گھر کی خواتین خصوصاً بہن اور بیوی کے چال چلن میں تھوڑی سی تبدیلی بھی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ کیا گھر کے مرد کسی اخلاقی پستی کا شکار ہوں تو خواتین کی غیرت اور عزت نفس پہ کوئی آنچ نہیں آتی؟ ہمارے معاشرے میں روزانہ درجنوں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں بہن یا بیوی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیا کبھی کسی نے خود میں سدھار لانے اور اصلاح کرنے کی کوشش کی۔ خود تو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن بہن کی تعلیمی سرگرمیوں کے وقت سماجی برائیاں نظر آنے لگ جاتی ہیں۔ مستورات کے ساتھ رات گئے تک میسجز اور کالز کا دورانیہ چلتا ہے لیکن کبھی والدین کو بھی بیٹے کی ان حرکتوں پر اعتراض نہیں ہوتا بلکہ چند لبرلز تو خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن بیٹی یا بہن کے حوالے سے وہی لبرلز تنگ نظر مولوی کا روپ دھار لیتے ہیں۔

اگر کسی دلیل یا حوالہ کے باعث غلط ثابت ہونے لگیں تو فورا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر قصہ ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ دینی احکامات کا اطلاق روز مرہ زندگی کےمعاملات میں تو نہیں کیا جاتا لیکن اپنی عزت بچانے کے لیےاحادیث اور دیگر مسائل کا سہارا لے کر شریعت کو فوراً دوسروں پرنافذ کر دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منافق اور منافقت کے خلاف سب سے زیادہ شور بھی ہم لوگ ہی مچاتے ہیں۔

سیاست سے لے کر معاشرے کے ہر معاملے میں ہمارا رویہ انتہائی منافقانہ ہے۔ یہاں سیاستدانوں کے مفاد پرست رویے کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں ۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں مشرف کے احتساب کا نعرہ لگایا۔ (ن) لیگ نے اقتدار سنبھالا تو زرداری کو لاہور کی سٹرکوں پر گھسیٹنے کا اعادہ کیا جبکہ اب پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے خلاف کمر کس لی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں دوسروں کا احتساب کرنے کی تو خواہاں ہیں لیکن اپنےخلاف ہونے والی تحقیقات کو انتقامی کارروائیوں کا نام دیا جاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اپنے گردوپیش ہونے والی بحث کا جائزہ لوں تو ہر شخص سیاسی شخصیات کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ کوئی عمران خان کو گالیاں نکال رہا ہے تو کوئی نواز شریف اور زرداری کو لیکن حکمرانوں کا چناؤ کون کرتا ہے۔ کیا وہ حکمران کسی اور سیارے سے لائے جاتے ہیں ۔ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ایک عام شہری کو اپنے گریبان میں جھانکنے میں کافی دقت ہوتی ہے لیکن دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔

کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ حقیقت پسندی خود احتسابی اور اعلی اخلاقی معیار سے وابستہ ہوتا ہے۔ دہرے معیار رکھنے والے معاشرے محض دائروں میں ہی گھومتےرہتے ہیں اور دائرے میں گول چکر لگانے کو فاصلے کی طوالت میں کمی سمجھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔اگر آپ بھی ان میں سے کسی عادت کا شکار ہیں تو خود سے نظریں مت چرائیں بلکہ اپنی اس خامی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ کسی پر تنقید کرنے سے پہلے خود پسندی سے نکل کر اپنے کردار کا جائزہ لیں کیونکہ معاشرے میں تبدیلی دہرے پن سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ سوچ سے ہی آتی ہے۔

محمد ساجد الرحمان بطور افسر تعلقت عامہ پنجاب فوڈ اتھارٹی میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ اسکے علاوہ عوامی مسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے میگزین اور اخبارات میں بھی لکھتےرہتے ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Zaidkhan کہتے ہیں

    انکو ہنی مون کے بعد شادی یاد آئی مشہور ہونے کے لئے شوبرز اپنے ایمان بھی بیچ سکتے ہین بیچ رہیں ہیں

تبصرے بند ہیں.