نوگانوہ کایاد گار معرکہ

1,275

۲۳ مارچ یعنی قرارداد پاکستان کے بعد میو قوم پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ہرروز گاؤں جلائے جانے لگے اور بے قصور لوگوںکو موت کے گھاٹ اتارا جانے لگا۔اکا دکایا کھیتوں میں کام کرتا کوئی شخص محفوظ نہ تھا۔۔میو بھی دلیری سے جوابی حملے کر رہے رتھے مگر یہ نہتی رعایا کا اسلحہ سے لیس حکومت کی تربیت یا فتہ فوج سے مقابلہ تھا۔ہندو غنڈے اور بلوائی اس جی دار قوم سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ رکھتے تھے۔اس لئے ریاستی اور پھر ہندوستان کی فوج کو جدیدہتھیاروں اور دور مار رائفلوں کے ساتھ میدان میںاتارا گیا۔اعلان آزادی کے بعد سول بیورو کریسی نے میوقوم کے خلاف کھل کر اپنے اختیارات کا نا جائزاستعمال کیا۔ میوات کے علاقے پر مہا راجگان الور بھرت پور کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں میوات کا متصل علاقہ جٹیات بھی ہمیشہ مہاراجہ بھرت پور کے زیر اثر رہا ہے گڈھ گنگا کے فساد کے بعد میوات کی سر حد پر فساد کی ابتدا ہوڈل ہی سے ہوئی جہاں اکثریتی طبقہ نے غریب مسلم کنجڑے ،قصائی، منھیار، تیلی بھٹیارے وغیرہ قتل کر دئیےاور ان کے گھر جلا دئیے۔ فساد زدگان اگرچہ میو نہیں تھے لیکن جذباتی طور پر اس کا رد عمل میوات میں یہی ہونا چاہئیے تھا کہ میوات کہ قصبات پونا ہانہ،پنگواں وغیرہ میں آبادغیر مسلم دکانداروں کو قتل کر دیتے اور ان کے مکانوں کو لوٹ لیتے مگر ایسا نہیں ہوا ۔

ایک انگریز پولیس کپتان نے ہوڈل میں امن قائم کیا لیکن وہاں کا مصیبت زدہ مسلمان ہجرت کر گیا اور ہوڈل سے میوات کی آمدو رفت بند ہو گئی۔۔مہاراجہ بھرت پور کی فوج نے از سرنو ایک نیا محاذ کھول دیا اور نوگانوہ گاؤں پر حملہ کر دیا، میوات کے مشرقی شمالی جٹیات کی طرف سے ایک بہت بڑی دھاڑ نے نیم کا نئی،بچھور،اندانہ ،واڑھ کا وغیرہ کے دیہات جلا دئیے۔شمالی سرحد پر بہین اور کوٹ کا محاذبن گیا جہاں جٹیات کی طرف سے متعدد حملے کوٹ پر ہوئے جنہیں پسپا کر دیا گیا اور جواب میں میوؤں نے کچھ دیہات کو جلا دیا۔جون کے مہینہ میں مہا راجہ بھرت پورکے جوانوں نے اندھا دھند گولیاں چلا کر میوؤں کو مار مار کر ریاست سے نکال دیا، ان کے دیہات لوٹ کر جلا دئیے، اس صفا کانہ درندگی کے نتیجے میں بھرت پور کی میوات خالی ہو کر گوڑگانوہ اور الور کے علاقہ میں پناہ گزین ہوئی۔بھرت پور کے بعد ، الور میں بھی مار دھاڑشروع ہو گئی۔یہاں مار دھاڑکا سلسلہ تجارہ سے شروع ہوا تھا ۔الور میں قتل و غار تگری کے علاوہ جبری ہند و بنائے جانے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا جو میو ہندو مت قبول کر لیتا اسے چھوڑ دیا جاتا ۔بہت سے لوگ مرتد کر لئے گئے تھے ۔ان کو جبری طور پر نکال کر ان کے مال و اسباب لوٹ لئے گئے۔

مہاراجگان الور و جے پور کی فوجوں نے منڈاورتجارہ و پٹوکرہ کے تمام علاقہ میں لوٹ مار دغاتگری مچا رکھی تھی۔ادھر کا سارا میوفیروز پور جھرکہ تاؤڑواور ریواڑی میں آگیا تھا ۔انہوں نے اسی پربس نہیں کیا بلکہ کئی مقا مات پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ہزاروں آدمی موت کے گھاٹ اتار دئیے اس سلسلہ کے دو واقعات بہت مشہور ہیں ایک تو گوندھان کی پہاڑی کی فائرنگ جہاں نہتے لوگوں پر گولی برسائی گئیں اور دوسرے فیروزپور جھرکہ کے مقام پر عین پہاڑکے دامن میں جہاں ہزاروں اجڑے ہوئے لوگ اپنے مال اسباب اور بچوں سمیت پناہ گزین تھے ۔پلول کے علاقہ حسن پور کے میونگلے بھی تحس نحس کر دئے گئے جہا ں قتل و اغوا کے بد ترین واقعات رونما ہوئے یہاں سے بمشکل میو اپنی جان بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچے۔گھاسیڑہ اور ریواسن وغیرہ موضعات کو جلا دیا گیا۔ تا کہ میوات میں چاروں طرف بھگ دڑ مچی رہے بھرت پور کے بہت سے تباہ حال لوگ پہلے الور میں داخل ہو گئے تھے۔جب انہیں وہاں پناہ نہ ملی تو وہ ریاستی مظالم کا شکار ہو کر الور کے میوؤں کے ساتھ گوڑگانوہ آگئے۔

میو لیڈر ان میں سے کتنے ہی گرفتار کر لئے گئے تھےاور کچھ کے وارنٹ تھے چودھری محمد یٰسین خاں مرحوم جن کے اوپر میو عوام بھروسہ کرتے تھےان کو ایک طرف جان سے ماردینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں دوسری طرف ان کے وارنٹ تھے۔ ان کا آزادانہ گھوم پھر کر لوگوں کو کوئی راستہ دکھاناتقریباََناممکن تھا فرقہ پرست افسران جن کے اوپر انتظامیہ کی کوئی بندش نہیں تھی دہشت زدگی پیدا کر رہے تھے اور انھوں نے یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ یٰسین خان گرفتار ہو چکے ہیں یا قتل کر دئیے گئے یا پاکستان جا چکے ہیں ۔ ایک ہزار جاٹ ایک ہاتھی پر سوار لیڈر کے ہمراہ تھے۔۳۱۸ جاٹ دیہات کے چار مورچے قائم تھے۔جہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں رات اور دن میوؤں کے مقابلہ کے لئے تیار تھے اور وہ امن کو نہیں جانتے تھے ۔۲۰/۲۱جون کا نمہ اور بھرت پور ریاست کے تمام میو دیہات ہندوؤں نے جلا دئے اس آتشزدگی کے نتیجہ میں بھرت پور اور متھرا کے قریبی میوبہت دہشت زدہ تھے۔یو پی کے اندرنی حصہ خصوصاََکوسی کے علاقہ میں قدرتی طور پر زیادہ پریشان تھے۔جون کے آخر میں مسلم رفیوجیوں کو پاکستان بھیجا جانے لگا۔تو ہندوؤں نے مسلمانوں کی اس ہجرت پربہت خوشیاں منائیں۔پولیس کارویہ فرقہ وارانہ تھا۔پرو پیگینڈاکیا جارہا تھا کہ میوایک آزادریاست یا چھوٹا پاکستان قائم کرناچاہتے ہیں۔میو علاقہ کو تباہ کرنے اور جلانے کے لئے بہت سے نظریات قائم کر لئے گئے تھے۔

میوؤں کے ہزاروں گاؤں تھے۔بعض متعینہ جاسوس گروہوں نے بتایا کہ ۸۰ فیصدی میو دیہات منڈ اور گولا گوٹلی سالا ہیڑا کے درمیان جل چکے ہیں یہ علا قہ ریواڑی کے جنوب مشرق میں ۱۶میل دوری پر واقع ہے۔میولیڈران کا خیال تھا کہ ریاست بھرت پورکی فوجیں غیر جانبدار ہیں مگر اطلاع ملی کہ بھرت پور کی فوجیں میووں پر حملہ ،لوٹ مار اوردیہات کی آتش زدگی کررہی ہیں۔اس سے اندازہ ہوا کہ بھرت پور کے ہندوجو ہندوستان میں ہونے والے فسادات کودیکھ رہے تھے،ایساذہن بنا چکے تھے کہ میووں پر ایک متحد حملہ کریںتاکہ ان کوریاست سے باہر دھکیل دیا جائے۔میوحالات کے مطابق جوابی حملے کررہے تھے۔مگر جب آرمی بلوائیوں میں شامل ہو گئی اوراور سرکاری حکمناموں کے ذریعے بلواکر گرفتاریاں ہونے لگیں اوربکارسرکاربلوا کرمیوقوم کے لوگوں کو آتے جاتے مارا جانے لگا تو اس آفت کا توڑمیوقوم کے پاس نہیں تھا۔ہاں حملہ آوروں کو دنداں شکن جواب دیتے رہے۔

نوگانوہ بھرت پورمیں میو آبادی کا آخری گاؤں ہے جو یو پی اور گڑگانوہ کی میوات والی مشترکہ سرحد پر واقع ہے۔مہا راجہ نے نوگانوہ پر حملہ کر دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس افرا تفری میں گوڑ گانوہ کے میو بھرت پور کے میووں کی امداد نہیں کریں گے اور انہیں ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ ملالیا جائے گا۔اس کے کہ علاوہ یہ کہ یوپی کے جاٹ بھرت پور کی ضرور حمایت کریں گے ۔ڈاکٹر اشرف صاحب کو دہلی میں اس حملہ کی اطلاع ملی اور بھرت پور میں حالات گڑبڑ ہونے کے باعث ہم نے عین وقت پر میوات پولیٹیکل (سیاسی)ورکروں کی میٹنگ بلائی تھی۔فوج کے سپاہیوں کے گھیر لینے کی وجہ سے ہم بہت خطرہ محسوس کر رہے تھے اور ہم نے کوئی دفاعی تدبیر نہیں کی تھی کیونکہ فوجی حملے کا تو کسی کو خواب و خیال تک نہ تھا۔

فوج کے ارادے اور منصوبے بہت جلدسب پر عیاں ہوگئے فوجی دستوں کے آنے کی خبر آنِ واحد میں نوگانوہ کے گردونواح کے مواضعات میں بہت جلد پھیل گئی۔اور لوگ اس نازک صورت حالات سے نمٹنے کے لئے اکٹھا ہونا شروع ہو ئے، یہاں میوؤں کا تحفظ و بقا کا موروثی و قدرتی جذبہ آشکارا تھا جب ہم کو اس کاپتہ چلا تو ہم نے سکھ کا سانس لیا۔اور قریباََ آدھی رات تک ہم نے اپنی صحیح پوزیشن پکڑ لی تھی کہ کس طرح مہاراجہ کی فوجوں کا مقابلہ ہتھن گاؤں کی سر حد پر کیا جاتا ہے جو ضلع گوڑگانوہ میں واقع ہے۔ڈاکٹر اشرف صاحب نے اس موقع پر بڑے عزم اور تدبر کا مظاہرہ کیا ۔میو رائفل والے نو جوا ن سب کے پیچھے تھے جو ایک شخص سے طریق کار جنگ پر نصائح کے طالب تھے۔جھٹ پٹے کے فوراََبعد ہی افواج نے اپنے بے وقار دقیا نوسی تو بڑے(چھوٹی توپ) کو اونچی جگہ نصب کرنا شروع کر دیا تاکہ اگلے دن گاؤں پر بمباری کر سکےاور آنے والی صبح کو حملہ شروع کر دیا جائے۔

ڈاکٹر اشرف صاحب نے دشمن کے ارادوں کو بھانپا اور فوجی کیمپ پر ایک بھر پور حملے کی تاکید کی۔ قبل اس کے دشمن اپنے آپ کو ترتیب دیں اور منظم ہو کر حملہ آور ہوں کیمپ کو آگ لگا دی جائے ۔ڈاکٹر صاحب کاخیال تھا کہ آگ لگی دیکھ کر ہتھن گاؤں والے ضروریہاں پہنچیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اچانک حملہ سوتے ہوئے سپاہیوں میں بد حواسی پید اکر دے گا۔اور اس طرح بد نظمی کے عالم میں چند گارڈ (پہرے دار) حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے قطعی ناکافی ہوں گے۔ چناچہ منصوبہ یہ بنا کہ ایک پارٹی تو پہلے آگ لگا دے گی اور دوسری توبڑ ے پرقابض ہو جائے گی۔اور وہ ساری رائفلیںجو ان کے ہاتھ لگیں قبضہ میں کر لی جائیں۔آدھی رات کے بعد میو نوجوان مہاراجہ کے کیمپ میں آگ لگاکر حملہ کرنے کے لئے گئے۔اگرچہ چندمیونو جوان مارے بھی گئے تاہم حملہ کامیاب رہا۔مہاراجہ کا توبڑا(چھوٹی توپ)قبضے میں کر لیا گیا۔اسی اثنا میںہتھن گاؤں والے آن پہنچے۔پلک جھپکتے میں فوجی کیمپ خالی ہو گیا،جسے فوج قطعی طور پرچھوڑ گئی۔دوپہر تک مہاراجہ کی فوجیں بھی نودو گیارہ ہو گئیں۔٭

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.