ملتان سے بغداد کا سفر

2,024

پاکستان اور پاکستانی سیاست پر باتیں کچھ دنوں کے لئے ایک طرف رکھتے ہیں۔ آج آپ کو ملتان سے بغداد تک کے سفر کا تازہ احوال بتاتے ہیں۔
اس سال چہلم امام حسینّ پر عراق کے لئے عازم سفر ہوئے۔ حالیہ کچھ برسوں سے چہلم کے موقعہ پر پاکستان سے عرا ق جانے والے زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سڑک سے بسوں کے ذریعے سے زیارات پر جانے والوں کی تعداد سفر کی مشکلات اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہر سال کم سے کم ہو رہی ہے۔ کوئٹہ – زاہدان ٹرین سروس ویسے بھی تعطل کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں فضائی راستے سے زیارات پر جانے والوں کی تعداد بہت بڑھ رہی ہے۔ فضائی ٹکٹ مشکل سے اور مہنگے ملے ۔ وہ بھی ملتان ۔ دبئی۔ بغداد تک کا۔ یہی حال متبادل کرنسی کے حصول کے وقت دیکھا۔ یار لوگوں نے امریکن ڈالرز کے دستیاب نہ ہونے کا رونا رویا،اور دوسرے دن ذرا مہنگے داموں ہمیں ڈالرز دیے۔ اسی پر ہی ان کے شکر گزار ہو کر روانہ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی ایک نسبتاً کم تر درجےکی نجی ائیرلائن پر پہلی بار سفر کرنے کا تجربہ اتنا شاندار نہیں تھا۔

اکلوتی فلپائینی ائیر ہوسٹس اپنے سوڈانی معاون کے ساتھ پورے جہاز میں پھرکی کی طرح گھومتی پھر رہی تھی۔ اتنے مہنگے ٹکٹ کے باوجود کچھ مسافروں کو کھانے پینے کی اشیا قیمتاً حاصل کرنا پڑیں۔ شکر ہے ہمارا شمار ان میں نہیں تھا لیکن یہ سب کچھ عجیب سا لگا۔خیر کیا کریں،مارکیٹ اکانومی کی دنیا ہے۔ ایسی باتیں اب جگہ جگہ دیکھنا پڑتی ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیوں کا مطمع نظر اب کم سے کم اخراجات اور زیادہ سے زیادہ منافعے کا حصول ہوتا ہے۔ خدمات گئیں بھاڑ میں۔ دبئی کے شیخوں نے اب کافی حد تک طبقاتی نظام اپنا لیا ہے. پاکستان،ہندوستان، بنگلہ دیش اورسری لنکا وغیرہ کے مسافروں کے لئے پرانا دبئی ائیرپورٹ ٹرمینل اور ترقی یافتہ ممالک کے مسافروں کے لئےنیا اور جدید ائیرپورٹ ٹرمینل استعمال ہوتا ہے۔ دبئی ائیرپورٹ پر کچھ دیر قیام اور 450 روپے کے چائے کے کپ سے نہ صرف آنکھیں کھل گئیں بلکہ طبیعت بھی صاف ہو گئی۔ وہاں سے جہاز بدل کر بغداد روانہ ہوئے۔

اگر آپ دوران سفر اپنے کچھ پیسے بچانا چاہتے ہیں تو دوران پرواز یا ائیر پورٹ پر کھانے پینے کی اشیا خریدنے سے حتیٰ الامکان گریز کیجیے۔ اپنے دستی بیگ میں کھانے کی ہلکی پھلکی اشیا اور پانی کی بوتل ہمراہ رکھیے۔ بغداد ائیرپورٹ پر بالکل مختلف ماحول تھا۔ کہاں دبئی ائیرپورٹ کے چھوٹے ٹرمینل پر بھی مسافروں کا بے پناہ رش اور چہل پہل، اور کہاں ایک بڑے اور اہم عرب ملک کے دارالحکومت کے سب سے بڑے ائیرپورٹ پر ویرانیوں کے ڈیرے۔ اکا دکا ایک دوسرے سے دور کھڑے جہاز اور مکمل خاموشی کا راج۔ ہماری فلائیٹ کے مسافروں کی آمد سے کچھ دیر کے لئے رونق لگی اور آدھے گھنٹے بعد پھر وہی سکوت۔ صرف ائیرپورٹ پر کام کرنے والے عملے کے افراد ہی نظر آئے۔وہ بھی بے زار سے۔ ایرپورٹ پر تمام مراحل سے گزرنے کے بعد عراقی دینار کے حصول کا مرحلہ آیا یہاں بھی قدرے مہنگے دینار ملے ۔ یہاں موجود واحد کرنسی ڈیلر کے علاوہ ہر کوئی اپنے اپنے ریٹ پر ہمیں ڈالر تھمانے اور دیہاڑی لگانے کے چکر میں نظر آیا۔ شہر میں ایک پاکستانی روپے کے بدلے 8 سے زیادہ عراقی دینار مل جاتے ہیں یہاں 7 ملے۔ ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو مسافر کم اور ٹیکسیاں زیادہ تھیں۔ عراقی ڈرائیور سب انگریزی سے نابلد ،ان کی معاونت کے لئے کچھ بنگلہ دیشی لڑکے موجود تھے۔ جو ٹوٹی پھوٹی اردو ،ہندی اور انگریزی میں ہمارے اور ڈرائیور حضرات کے درمیان ترجمان اور مذاکرات کار کے طور پر کام کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ پتا چلا یہاں صرف ایک کمپنی بغداد ٹیکسی سروس کو ہی کام کرنے کی اجازت ہے اور وہ لوگ آپ سے کم سے کم فاصلہ جو کہ شہر کے ٹیکسی سٹینڈ تک کا تھا،اس کے لئے بھی 10 امریکن ڈالر سے کم معاوضہ نہیں لیں گے۔اس 5یا7کلومیٹر کے لئے اتنے پیسے فی کس بہت گراں گزرے۔

ٹیکسی سٹینڈ جس کو یہ گیراج بول رہے تھے سے روضہ کاظمین کے لئے ٹیکسی لی تو ایک ٹیکسی کے لِئے 25000عراقی دینار طے ہوئے ۔ ڈرائیور نے کسی جگہ پولیس پوسٹ پر ٹیکس دینے کے بہانے 5000 دینار اور بھی ہماری جیبوں سے نکلوا لئے۔ پہلے کرایہ وصول کرتے ہیں اس کے بعد گاڑی چلاتے ہیں۔ شہر کے مضافات سے گزرتے ہوئے وہی بد نظمی ،ٹوٹی سڑکیں اور صفائی کا فقدان نظر آیا جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہےاس لئے اجنبیت بالکل نہیں ہوئی ۔ ڈرائیور حضرات میں سے جس کا جیسے دل کرتا ہے غیر ملکیوں کو لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ سب لوگ اس طرح کے نہیں،بہت اچھے اور تعاون کرنے والے عراقیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ پاکستانیوں کے لئے اچھی رائے رکھتے ہیں، مگر ایرانیوں سے شاکی نظر آئے۔ دوسرے دن اندرون شہر اور بغداد کے پوش علاقے دیکھے۔ دریائے دجلہ کے کنارے المنصور ہوٹل میں دیگر ممالک کے پرچموں کے بالکل درمیان پاکستانی پرچم لگا دیکھا تو دل خوش ہو گیا۔ پورے شہر میں اکثر عمارتوں پر گولیوں کے نشانات نظر آتے ہیں ۔ایک جگہ پر امریکی بمباری سے تباہ ہونے والی چند عمارتوں کو ویسے کا ویسا چھوڑ دیا گیا ہے۔اسی کی دہائی میں عراق اور ایران کے درمیان 8 سالہ طویل لڑائی لڑی گئی۔اس جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا۔جو پہلی خلیجی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوا ۔اس کے بعد امریکی پابندیاں ، اور پھر دوسری خلیجی جنگ جس نے صدام حسین کے طویل دور کا خاتمہ تو کر دیا لیکن ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ رہی سہی کثر داعش نے نکال دی۔

ملک کی معیشت تباہ حال ہے۔ مہنگائی کا طوفان برپا ہے۔ ہر جگہ ایرانی اور چینی مصنوعات کی بھر مار ہے۔ اتنے طویل بد امنی کے دور کے بعد تعمیر نو کا کام تو شروع ہے پر بہت سست رفتاری سے۔عراق میں غالب آبادی شیعہ افراد کی ہے۔ یہ لوگ طویل عرصہ تک صدام حسین کے جبر کا شکار رہےلیکن اس وقت تک عراق ایک خوشحال اور پر امن ملک تھا۔ اب اگرچہ ان کو صدام دور کے جبر سے تو نجات مل چکی ہے اوران کے مقدس مقامات کا کنٹرول بھی اب ان کے ہاتھ میں ہے مگر ملک تباہ حال ہے۔غربت زیادہ ہو چکی ہے۔ عراقی لوگوں کی مشکلات کم ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ بہر حال عمومی طور پر یہاں امن و امان ہے۔

بغداد میں مشہور اسلامی زیارات میں روضتہ الکاظمیں یعنی امام موسیٰ کاظمؑ اور امام تقیؑ کا روضہ مبارکہ ہیں۔ یہاں پر مقامی اور غیر ملکی زائرین کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ حضرت جنید بغدادی ،غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، اور بے شمار محترم و مقدس ہستیوں کا دیس بغداد بھلا کسے اچھا نہیں لگے گا۔ ہماری خوش قسمتی کہ اس مقدس و محترم شہر میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے بے حد شکر گزار ہیں ۔عراقی کھانا بہت اچھا ہے۔مٹھائیاں بھی ذائقہ دار ہیں۔ہوٹل صاف ستھرے ہیں۔اور لوگ اچھے اخلاق والے ہیں۔ہزاروں سال قدیم شہر کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا،اور محسوس کرنا ایک شاندار تجربہ تھا۔ہو سکے تو ایک بار بغداد ضرور دیکھیے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.