پہلے گھر کا گند صاف کریں پھر گلی میں جھانکیے گا۔

915

سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق ایک کیس زیر سماعت ہے۔اس کیس میں ایف آئی اے نے حال ہی میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے جسکے مطابق اس وقت تین ہزار پانچ سو ستر پاکستانیوں کے خلاف بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کے متعلق تحقیقات ہورہی ہیں۔ اب تک ایک ہزار پندرہ ارب روپے کی غیر قانونی جائیدادیں سامنے آچکی ہیں۔ تاہم اب تک جن پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں انکی تعداد آٹھ سو چورانوے ہے جن میں سے تین سو چوہتر افراد ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔ جن افراد کے نام سامنے آئے ہیں ان میں اہم سیاسی و سرکاری شخصیات بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے بیوی ، بچوں اور رشتہ داروں کے نام جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

ہر روزبے نامی دار جائیدادوں کے نام لے لے کر الیکٹرانک میڈیا نے عوام میں ایک بے چینی کی لہر پیدا کر رکھی ہے۔ بے چاری عوام یہی سمجھ رہی ہے کہ جن لوگوں کے نام سامنے آرہے ہیں وہ سب چور ہیں۔ عوام ان لوگوں کو بھی کرپشن میں سزایافتہ ایک سابق وزیراعظم کی طرح کا چور گرداننے لگے ہیں۔ جہاں میڈیا اتنی اہم خبر روزانہ کی بنیاد پر نشر کرتا ہے وہاں اسکی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو یہ بتایا جائے کہ ان بے نامی داروں کی اصل حقیقت کیا ہے۔

ایسے لوگ جنکے خلاف بیرون ملک جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس رکھنے کے جرم میں تحقیقات ہورہی ہیں ان میں سیاست دان، سرکاری ملازمین، گلوکار، اداکار ، صنعت کار اور تاجر وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت ایک سو پچاس سے زائد امیر ترین پاکستانی افراد کی جائیدادیں مختلف ملکوں میں سامنے آچکی ہیں جنکی کل مالیت تقریباََ تیس ارب روپے ہے۔ لیکن یہ سب لوگ چور نہیں ہیں۔ ان سب نے کسی کا مال چرا کر بیرون ملک منتقل نہیں کیا۔ سیاسی شخصیات یا ایسے افراد جو کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز رہے انکے بارے میں تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ عوام کا پیسہ چرا کر بیرون ملک لے گئے لیکن وہ لوگ جو زندگی بھر کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے وہ اس زمرے میں نہیں آتے۔ لہذا ان تمام افراد کوایک ہی چھڑی سے ہانکنا زیادتی ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے اپنی ذاتی جائیداد بیرون ملک منتقل کی وہ چور کیسے ہوسکتا ہے؟انکا جرم صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنے ٹیکس کے گوشواروں میں اپنی ان جائیدادوں کا ذکر نہیں کیا لہذا انہوں نے ٹیکس چوری کی ہے۔ ایسے ہی افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے سابقہ حکومت نے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی تھی جس سے تین سو چھیاسی افراد نے فائدہ اٹھایا۔

ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایف بی آر سے پوچھا کہ ان لوگوں کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا تو چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ پاکستان میں مروجہ قوانین کے مطابق ایسے لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکتا ہے اور کوئی قانونی کاروائی انکے خلاف عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پاکستان کے قانون میں سقم موجود ہیں جن میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی قوانین بیرون ملک غیر قانونی طور پر جائیدادیں منتقل کرنے والوں کو روکنے کی بجائے انکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سابقہ حکومتوں کے چنداعلی عہدے داروں نے تو خود ایسے قوانین متعارف کروائے اور بیرون ملک اپنا کالا دھن منتقل کرکے من موجی کی۔

پاکستان کی بائیس کروڑآبادی میں سے ٹیکس دینے والے لوگوں کی تعداد صرف چند لاکھ ہے جوکہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ٹیکس نہ دینے والے اگر چور ہیں تو پھر چند لاکھ لوگوں کو نکال کے باقی سارا پاکستان چور ہے۔ پاکستان میں دولت مند لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے مگر وہ ٹیکس نہیں دیتے۔ انکی بھی جائیدادیں اوربینک اکاؤنٹس ہیں مگر وہ سرعام گھوم رہے ہیں۔ ایسا کیوں؟ ایسا اس لئے ہے کیوںکہ سرکاری اداروں میں کرپشن عام ہے۔ حالت زار یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سرکاری عہدے دار خود ٹیکس چوری کے بارے میں سروسز مہیا کرتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ نقصان کس کا ہورہا ہے۔ ایسے لوگ اگر پکڑ بھی لئے جائیں تو تھانوں اور عدالتی نظام میں ایسی خرابیاں پائی جاتی ہے کہ یہ لوگ صاف بچ نکلتے ہیں۔ لہذا اگر ٹیکس چوری کو روکنا ہے تو پہلے کرپشن کو روکیں ۔

بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس رکھنے والوں کے خلاف کاروائی بلاشبہ ایک احسن اقدام ہے مگر وہ لوگ جو اندرون ملک اتنی بڑی جائیدادیں رکھتے ہیں لیکن ٹیکس کی ایک پائی بھی جمع نہیں کرواتے انکے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟کیا انہیں کوئی استثناء حاصل ہے۔ بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والوں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا، انکی جائیدادوں کو واپس پاکستان منتقل کرنا اور انکے خلاف کوئی مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرنے میں بے شمار مشکلات حائل ہیں لیکن اسطرح کے ٹیکس چور جو پاکستان میں موجود ہیں انکے خلاف کاروائی عمل میں لانے میں کیا مشکل درپیش ہے؟پہلے ایسے امیر کبیر پاکستانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے جنکی بڑی بڑی جائیدادیں پاکستان میں ہی موجود ہیں مگر وہ ٹیکس چوری کرتے ہیں کیونکہ یہ کام بڑی آسانی اور جلدی سے ہوسکتا ہے۔ اسکے بعد بیرون ملک بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ پہلے گھر کا گند صاف کریں پھر گلی میں جھانکیے گا۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.