ہندوستان کا بکائو میڈیا بے نقاب

1,082

ہندوستان کی میڈیا ویب سائٹ ”کوبرا پوسٹ” نے بھیس بدل کر اسٹنگ آپریشن سے ہندوستان کے میڈیا کو بے نقاب کر دیا ہے اور اسے مکمل طور پر بکائو ثابت کردیا ہے۔ اس ویب سائٹ نے اپنے اسٹنگ آپریشن میں دکھایا کہ کس طرح ہندوستان کے بڑے بڑے معتبر اخبارات اور ٹی وی چینلز بڑی بڑی رقومات لے کر ہندوتا کے ایجنڈے کو فروغ دینے اور اگلے عام انتخابات میں بھارتیا جنتا پارٹی کی جیت کے لئے ماحول سازگار کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ صرف دو اخبارات نے یہ پیشکش مسترد کی۔ یہ مغربی بنگال کے ”برتمان ” اور ”دینک سمپاد” ہیں

کوبرا پوسٹ نے اپنے اس آپریشن کا نام آپریشن 136 رکھا تھا کیونکہ دنیا بھر میں میڈیا کی آزادی کے لحاظ سے ہندوستان کا نمبر 136 ہے۔ اس آپریشن کا یہی مقصد تھا کہ ہندوستان کے جن اخبارات اور ٹی وی چینلز پر عوام کو اعتماد ہے اس کے مالکان بھی بڑی رقومات کے عوض، خبروں کی آڑ میں ایک خاص ایجنڈے کو فروغ دیتے ہیں۔

cobra post operation 136

کوبرا پوسٹ کے صحافی پشپ شرما نے، ”اچاریہ اٹل” کا بھیس بدل کر ہندوستان کے 27 سے زیادہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان اور اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں کی بات چیت خفیہ طور پر ریکارڈ کی۔ یہ تمام تفصیلات آپریشن  136 پارٹ 1 اور پارٹ 2  کے عنوان سے شائع کر دی گئی ہیں۔

pushp sharma 1

اچاریہ اٹل نے اپنے آپ کو ہندوتا کا پرچارکرنے والے ایک سنگھٹن کا سربراہ قرار دے کراخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان اور اعلیٰ عہدیداروں کو پیش کش کی تھی کہ وہ بڑی رقوما ت کے عوض ہندوتا کے ایجنڈے کو فروغ دیں۔ پہلے مرحلے میں ملائم انداز سے ہندوتا کی ترویج کریں، دوسرے مرحلے میں حزب مخالف کے رہنمائوں کی کردار کُشی کی جائے اور تیسرے مرحلے میں عام انتخابات میں بھارتیا جنتا پارٹی کی جیت کے لئے فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکا کر ماحول ساز گار بنایا جائے۔

cobra post operation 2

سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس آپریشن میں رقومات کے عوض ہندوتا کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے جن میڈیا اداروں کے مالکان اور اعلیٰ عہدیدار تیار ہوئے۔ ان میں ٹائمز آف انڈیا، انڈیا ٹوڈے، ہندوستان ٹائمز، انڈین ایکسپریس، سٹار انڈیا، انڈیا ٹی وی، سٹار انڈیا اور خبر رساں ایجنسی UNI نمایاں ہیں۔

اس آپریشن میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹائمز آف انڈیا گروپ کے سربراہ پردیپ جین 500 کروڑ روپے کے عوض ہندوتا کے ایجنڈے کو فروغ دینے پر تیار ہوگئے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ رقم نقد ادا کی جائے۔ واضح رہے کہ ٹائمز آف انڈیا ہندوستان کا کثیر الاشاعت اخبار ہے جو پندرہ شہروں سے نکلتا ہے۔ اس کا ریڈیو مرچی کے نام سے ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک ہے۔ اس ادارہ میں گیارہ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔

Pradeep-Jain

انڈیا ٹوڈے کی سربراہ کالی پوری 275 کروڑ روپے کے عوض اچاریہ اٹل کے ایجنڈے پر عمل کرنے لے لئے تیار ہوگئی تھیں۔ انڈیا ٹوڈے کے منیجر ہشام علی خان، اچاریہ اٹل کے ایجنڈے کے سلسلہ میں بہت پرجوش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود ہندوتا اور بھارتیا جنتا پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

kallie puri

زی ٹی وی گروپ 25 کروڑ روپے میں اچاریہ اٹل کے پروگرام پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ ساڑھے بارہ کروڑ روپے نقد ایڈوانس میں اور بقیہ رقم آسڑیلیا میں ادائیگی کا مطالبہ تھا۔

کوبرا پوسٹ پچھلے دنوں آپریشن 2 کی تفصیلات جاری کرنے والا تھا لیکن دینک بھاسکر نے ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہندوستان میڈیا اپنے بے نقاب ہونے سے کس قدر خائف ہے۔

آج کل ہندوستان کا میڈیا ہندوتا اور بھارتیا جنتا پارٹی کے بارے میں جو غلط تاثر دے رہا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ میڈیا ملک کے عوام کو یہ باور کرا رہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیا جنتا پارٹی پورے ملک پر چھا گئی ہے جسے ”بھگوا کرن ” قرار دیا جاتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پور ے ہندوستان کی کُل 29 میں سے صرف 9 ریاستوں میں بھارتیا جنتا پارٹی کی اکثریت ہے۔

پاکستان کے میڈیا کو بھی کان ہو جانے چاہئیے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بھی بہت سے اس معاملہ میں ہندوستان کے میڈیا سے پیچھے نہیں ہیں

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.