ہٹلر کا یوم پیدایش پولینڈ میں دھوم دھام سے منایا جائے گا

3,922

پولینڈ میں نو منظم نازی تنظیم، نیشنل ریڈیکل کیمپ ONR نے بڑے پیمانہ پر نہایت دھوم دھام سے نازی جرمنی کے لیڈر ایڈولف ہٹلر کا یوم پیدایش منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر ONR نے ایک بڑے موسیقی کنسرٹ کا اہتمام کیا ہے جس میں یورپ کے نازی گلو کار حصہ لیں گے۔

یہ بات انتہائی حیرت کی ہے کہ ہٹلر کے یومِ پیدائش کا جشن پولینڈ میں منایا جارہا ہے جو ہٹلر کی جارحیت کا شکار رہا ہے اور اس نے ساری دنیا کو فتح کرنے کےلیے دوسری عالم گیر جنگ کی آگ پولینڈ پر حملہ کر کے بھڑکائی تھی اور اس دوران پولینڈ کے عوام نے سخت عذاب کا سامنا کیا تھا۔

119505258-resize-56a48cf15f9b58b7d0d78193

hitler at nazi ralley

اگست 1939ء میں پولینڈ پر حملے کے وقت ہٹلر نے اپنے فوجی کمانڈروں کو حکم دیا تھا کہ وہ پولش نژاد اور پولش بولنے والے تمام مرد، عورتوں اور بچوں کو کسی رحم کے بغیر ہلاک کر دیں۔

پولینڈ پر نازی قبضہ کے دوران 28 لاکھ سے زیادہ پولش شہری مارے گئے تھے اور 29 لاکھ پولش یہودی ہلاک ہوئے تھے۔ جنگ سے پہلے پولینڈ میں 30 لاکھ یہودی آباد تھے۔ ان میں سے نوے فی صد نازیوں کے ہاتھ ہولوکاسٹ میں مارے گئے تھے۔

ہٹلر کا یوم پیدایش 20 اپریل 1889ء ہے اور 56 سال بعد 1945ء کی اپریل ہی کی 30 تاریخ کو جب جرمن فوجوں کو ہر محاذ پر شکست منہ چڑارہی تھی، ہٹلر نے اپنی دیرینہ محبوبہ ایوا براون سے نہایت عجلت میں شادی کرنے کے بعد دوسرے ہی دن اپنی دلہن کو اور اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

hitler and eva

پولینڈ میں ہٹلر کی سالگرہ کا جشن منائے کے اعلان پر نازی تنظیم ONR کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی اثر پر سخت تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ صرف پولینڈ ہی نہی بلکہ پورے یورپ میں انتہائی کٹر قوم پرستی، اسلام دشمنی اور نازی نواز جذبات بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

germania-vrea-sa-destructureze-o-retea-neonazista-existenta-in-inchisori-203220

جرمنی میں بھی جہاں دوسری عالم گیر جنگ کے بعد ترک بڑی تعداد میں آباد ہوئے تھے وہاں پناہ گزینوں کے سیلاب کے بعد قوم پرستی نے جرمن آلٹرنیٹو جرمن نیشنل فرنٹ نے نازی جامہ پہنا ہے۔ ہالینڈ میں پچھلے ایک عرصہ سے اسلام دشمن تنظیمیں پیپلز یونین اور نیشنل الاینس سیاسی افق پر چھائی ہوئی ہیں۔ یونان میں گولڈن ڈان، ناروے میں نیشنل سوشلسٹ موومنٹ، فرانس میں نیشنل فرنٹ جس نے اب اپنا نام بدل کر نیشنل ریلی رکھا ہے، برطانیہ میں بھی نیشنل فرنٹ کی جگہ برٹن فرست کے نئے چولے میں سامنے آئی ہےاور ادھر روس میں پمیاٹ نازی پارٹی تیزی سے مقبولیت کے زینے طے کر رہی ہے۔ اٹلی بھی جو کسی زمانہ میں کمیونزم کی مقبولیت کی وجہ سے مشہور تھا، دائیں بازو کی قوم پرستی کے شکنجہ میں گرفتار ہوگیا ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں چنکو سٹیل (پانچ ستارے) اور لیگو نارڈ (شمالی لیگ) قوم پرست جماعتوں نے ایسی کامیابی حاصل کی ہے کہ یورپ میں دھشت پھیل گئی ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. واصف ملک کہتے ہیں

    زبردست جیلانی صاحب، آپ کے بلاگ تو اچھے ہی ہوتے ہیں. دراصل آپ کی پروفائل پڑھ کر مزہ آیا. ماشاءاللہ آپ نے تو پوری عمر صحافت کے صحرا کی نظر کر دی.

تبصرے بند ہیں.