جس کا کام اسی کو ساجھے

3,097

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی، چچا چھکن نے تصویر ٹانگی۔ کہانی کچھ ایسے ڈھب سےلکھی گئی تھی کہ پڑھنےوالے کے ذہن میں فلم چلتی جاتی تھی اور وہ فلم آج بھی ذہن میں ایسی نقش ہے کہ اگرآج بھی ہم کسی بھی نکمے یا تیس مار خان کےہاتھوں کوئی کام خراب ہوتے دیکھتے ہیں تو فورا کہہ اٹھتے ہیں جس کا کام اس کو ساجھے۔

ایک عام مقولہ یہ بھی ہے کہ ایک چپ سو سکھ۔ یعنی خاموشی ہزار نعمت ہے۔ بندہ جب تک خاموش رہتا ہے اپنی عزت سنبھالے رکھتا ہے۔ جہاں انسان نے بیان بازیاں شروع کیں وہاں عوام اور میڈیا نے اس کے بیان پر اپنی دکان لگالی۔ میڈیا ابھی بیان کی چٹنی گھوٹ ہی رہا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیان دینےوالے شخص پر لعن طعن شروع ہو جاتی ہے اور پھر ٹرولنگ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ چل پڑتا ہے۔

آج کے دور میں منہ سے لفظ نکلتے ہی فیس بک کی نیوزفیڈ اورمیڈیا کی ہیڈلائن میں آجاتا ہے۔ کیمرے اور مائیک کا چسکہ تو ایسا ہے کہ ایک بار پڑجائےتو کبھی نہیں جاتا۔ اسی طرح ٹِکرز اور ہیڈلائنز میں نظر آنے کا نشہ بھی کسی خطرناک نشے سے کم نہیں۔ باعزت ادارے کےمعزز سربراہ کو بھی شاید اسی چیز کا چسکا پڑ گیا تھا، پہلی بار جب صاحب سکرین پر آئے میڈیا نے خوب دکھایا اور بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ جناب نے جب ہر چینل کے رات نو بجے والے بلیٹن میں خود کوہیرو پایا تو اگلے روز ہی اسپتالوں کےدورے شروع کر دئیے۔ مفت ادویات،اسپتالوں کی حالت زار اور میڈیکل کالجز کے پیچھےایسے پڑے کہ اپنے ہزاروں زیرالتواء کیسز کو بھول گئے۔

عوام نے پھرتیاں دیکھ کر سوال اٹھائے کہ جناب اپنےادارے کوبھی دیکھیں تو صاحب نے عدم سہولیات کا رونا رو دیا۔ اب تو حد ہی ہوگئی صاحب بیان کو وائرل کرنےکیلئے خاتون کے سکرٹ کوبھی نہ چھوڑا۔

پاکستان میں کوئی ترقیاتی منصوبہ ہو یا کوئی بڑا سانحہ سیاسی جماعتیں اپنا کریڈٹ لینے کیلئےتقریروں کے انبارلگا دیتی ہیں اور فوج کے حمایتی سارے کا سارا کریڈٹ خاکی وردی کو دلوانے کیلئےٹاک شوز میں بیٹھے نظر آتےہیں۔ حکومت اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی اس دوڑ میں چوتھے رکن عدلیہ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ چند روز پہلے جسٹس شوکت عزیزکے آرمی چیف کےخلاف دئیے گئے ریمارکس پر کچھ لوگ بڑے خوش اور کچھ بڑے حیران نظر آرہے ہیں۔ خود جسٹس شوکت عزیز صاحب نے بھی کہا کہ اب میں مسنگ پرسن میں ملوں گا۔

پاکستان کی عدلیہ کویہ بات سمجھنی ہوگی کہ ملک پر حکومت کرنا ان کا کام نہیں۔ انہیں انتظامی اور سیاسی معاملات سے جتنا ہوسکے دور رہنا ہوگا۔ بیان بازیاں اور میڈیا پر اِن رہنے کا کام سیاست دانوں کا ہے، عوام کو انصاف پہنچانے والوں کا نہیں۔ سیاست دان اپنے بیان بازی کے بل پر نہ صرف مخالفین کو زچ کرتے ہیں بلکہ اپنےبھولے بھالے ووٹرکو بھی رام کرلیتے ہیں۔ انصاف فراہم کرنے والوں کو اگر کسی کو رام کرنا ہے تو اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے فوری انصاف۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    نہیں جناب۔ بالکل مزہ نہیں آیا۔

  2. noreen کہتے ہیں

    agar koi kuch behtar ker raha hai to kerny do. khamakhwa ki bongian na maro jab parent mai aik zimadari nahi utha pata to dusra utha leta hai isi tara society mai jab politicain apna kirdar nai ada ker rahy to CJ Pak ko hi kerny do un ka kam BHIIIIIIIIII OR APNA KAM BHIIIIIII.

  3. XYZ کہتے ہیں

    آپ یقیناً پکے سچے مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ اتنی پاک صاف زبان صرف ایک سچا اور پکا مومن ہی استعمال کر سکتا ہے۔

  4. mental case کہتے ہیں

    bali shb app ku gussa a rhaa sch tao likha hy… baba rehmat bhe kana dajal(ex CJ) k rasty per chal nikla hy… phly courts m tao reforms lay ain phr ksi ar ko kahin…. ap k ksi bhai ko court ny galti say punishment di hotii tao phr ap k ye coments na dety…. coments dena ap ka right hy per please apna ni apny parents ka kheal rkha karin.. ni tao gandy pani k 7 ar bhe bhot kch ganda likha ja skta hyy… per likha tao phr hum b ap jesy ho jain gy soooo…….

  5. Dr. Muhammad Rafiq کہتے ہیں

    Really annoyed by reading such story of a media person. What will you do in future if you have such a poor understanding of Churchil’s famous saying on speech length. However, agree that CJP should avoid public speeches but I think this was a speech in a bar, if I am not wrong. Please read more and vast your horizon, also plz don’t copy Indian media personnels. Sorry if my words hurt you.

  6. Shah کہتے ہیں

    Yaseen tum ne bhi tasveer hi tangi he.kuch likhna hi he to kuch islah ki baat likho na k jo islah karna chah rahe hen un par tanqeed.

تبصرے بند ہیں.