معرکہ حق و باطل، غزوہ بدر

1,467

غزوہ بدر 17 رمضان المبارک 02 ہجری اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور تاریخ ساز دن ہے جب اسلام و کفر اور حق و باطل کے درمیان پہلی معرکہ آرائی ہوئی۔ حق و باطل کے درمیان فرق کھل کر سامنے آ گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کے ذریعے مسلمانوں کو فتح مبین سے نوازا۔ اس دن مسلمانوں نے ثابت کردیا کہ اگر ایمانی کیفیت اور اللہ پر پختہ یقین ہو تو جنگیں اسلحوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت سے نہیں بلکہ ایمان اور کامل یقین سے جیتی جاسکتی ہیں۔

ہجرت کے دوسرے سال جب کفار کے ایک ہزار کے لشکر کے سامنے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے 313 وفادار سرفروشوں کو لیکر میدان بدر میں تن تنہا کھڑے ہوگئے۔ بے سروسامانی کے عالم میں دین اسلام کے سرفروش وقت کی سپر طاقت سے جا ٹکرائے اور اپنے ایمانی جذبے کے ذریعے کفار کو شکست فاش دے کر قیامت تک کے لیے دین کا پرچم بلند کردیا اور بدر کی فتح نے مدینے کی اسلامی ریاست کو استحکام بخشا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو خود اس معرکے کی قیادت کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے اپنے تمام ساتھیوں کو میدان جنگ میں جمع کیا اور اللہ سے دعا اور رجوع کرتے ہوئے کہا کہ ”اے میرے مالک میں نے تیرے دین کی خاطر تیرے ان کمزور بندوں کو جمع اور تیارکیا ہے، یہ بظاہر بہت کمزور لاغر ہیں لیکن تیرے دین پر مٹ مٹنے والے اور اپنی جان مال اسباب لٹانے والے ہیں۔ اے میرے ربّ! تو کمزوروں کو قوی کردیتا ہے، آج یہ تیرے بندے تیرے دین کو بچانے آئے ہیں تو انہیں کامیابی اور کامرانی عطا فرما۔ اگر یہ شکست کھا گئے تو قیامت تک تیرے دین پر کام کرنے والا کوئی نہیں ہوگا“۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعا ربّ کے حضور مقبول ہوئی، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ اللہ کے فرشتے میدان بدر میں اترے اور کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی، کفر اور اسلام کی اس پہلی لڑائی اور جنگ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر ”یوم فرقان“ کے نام سے آیا ہے۔ اس جنگ میں کفار کے پاﺅں اکھڑ گئے، ان کا بڑا جانی و مالی نقصان ہوا۔

اس کی مثال غزوہ بدر کا ایک بےنظیر واقعہ ہے۔ ایک طرف طاقت اور قوت کا پہاڑ ابو جہل تھا، جس نے اپنے آپ کو زرّہ بکتر میں چھپا رکھا تھا کہ اس کی صرف دو آنکھیں نظر آتی تھیں۔ دوسری طرف عفرا کے دو کم عمر بیٹے معوذ اور معاذ تھے، جنہوں نے ابھی زندگی کی بہاریں نہیں دیکھی تھیں۔ ابوجہل کے سامنے ان کی حیثیت بالکل ایسی تھی جیسے ہاتھی کے سامنے چیونٹی۔ مگر ان دو کم عمر مجاہدین نے ابو جہل کی دونوں آنکھوں پر تاک کر ایسا نشانہ مارا کہ خاک و خون میں تڑپنے لگا۔ اس طرح دین اسلام کا سب سے بڑا دشمن ابوجہل دو معصوم بچوں معاذ اور معوذ کے ہاتھوں مارا گیا۔ معرکہ بدر رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے ایک سبق، ہدایت اور رہنمائی کا راستہ ہے۔

معرکہ بدر نے دنیا پر ثابت کیا کہ جنگوں میں اسلحہ طاقت اور جنگی قوتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ جنگوں میں ایمانی قوت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ پختہ ایمان اور کامل یقین ایک ایسی قوت اور ایسا اسلحہ ہے کہ کوئی بارود اور ایٹم بم بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اس کے سامنے ٹھہر سکتا ہے۔ غور کیجئے معلوم ہوگا کہ ثابت قدمی کا انحصار حوصلے پر ہے، حوصلے کا دارومدار طاقت پر ہے اور قوت ایمانی وہ ملکوتی طاقت ہے جو جسم میں بجلی بھر دیتی ہے، حوصلہ بڑھاتی ہے۔ جس میدان جنگ میں مرد مجاہد دشمن کے سامنے ڈٹ جاتا ہے اس طرح ایک ایک مجاہد بیس بیس کافروں پر بھاری ہوتا ہے۔ بے شک اللہ ربّ العالمین ایک مچھر کے ذریعے فرعون کو ہلاک کردیتا ہے۔

آج کشمیر، فلسطین، افغانستان، شام، عراق، بھارت، برما میں مسلمانوں پر بدترین ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کا خون ناحق پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ۔ مسلمان آج دنیا بھر میں ذلیل ورسوا صرف اس وجہ سے ہورہے ہیں کہ انہوں نے اپنے ربّ سے تعلق کو ختم کر دیا۔ قرآن جو ہدایت اور رہنمائی کی کتاب ہے اور ہر دور میں اس کتاب سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اس نسخہ کیمیا کو ہم نے اپنی اوطاقوں میں سجا کر رکھا ہوا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان آج وہی جوش جذبہ اور ولولہ پیدا کریں جو میدان بدر میں تھا تو باطل کی تمام قوتیں آج مسلمانوں کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گی اور دنیا کی کوئی طاقت اور قوت انہیں شکست فاش نہیں دے سکے گی۔ دنیا کی تمام ایٹمی قوت، اسلحہ، جنگی سازوسامان لاﺅ لشکر، میزائل ٹیکنالوجی، وائرس ہتھیار سے لیس ہیں۔ دنیا میں آج جنگ لڑنے کے قاعدے اور قوائد بھی تبدیل ہوچکے ہیں۔ طاقت کی اس دوڑ اور کھیل نے ہمیں خود ہی اپنا دشمن بنا دیا ہے۔ دنیا کو امن اسلحہ گولہ بارود سے نہیں بلکہ اسلام کے عادلانہ نظام سے ہی حاصل ہوسکتا ہے ۔ امت کے حکمراں آج اپنے ایمانی جذبات کی ترجمانی کریں اور ظلم اور طاغوت کے نظام کے خلاف کھڑے ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد آج بھی نازل ہوسکتی ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.