سخت گیر جماعتوں‌ کیخلاف مستقل حکمت عملی کی ضرورت

1,525

علی عمران نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی، اس کے والدین بے حد مشقت کے بعد بنیادی ضروریا ت زندگی مہیا کرپاتے، اسی کسمپرسی کے عالم میں اس نے تعلیمی مدارج طے کیے اور ایک تھکا دینے والی جدوجہد کے بعد اس قابل ہواکہ پنجاب پولیس میں ملازمت حاصل کرسکے۔ سرکاری نوکری ملنے کے بعد اس نے اپنے بابا کو جسے وہ سالوں سے مشقت کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا، محنت مزدوری کرنے سے منع کردیاتاکہ وہ بھی کچھ دن سکھ کا سانس لے سکیں ، اپنے اچھے اخلاق ، ملنساری اور رسول ﷺ سے والہانہ عقیدت کی بدولت وہ گاوں بھر کا چہیتا تھا،لوگ زبانی عشق کا اظہار کرتے تھے تو وہ اچھے اخلاق کا مظاہر کرکے عملی محبت کا اظہار کرتا، کہنے والے کہتے ہیں کہ کئی بار ایسا ہوا کہ اس نے آپ ﷺکی تعریف سن کر سامنے والے کو جو کچھ جیب میں موجود تھا نکال کر دے دیا۔

اس کی زندگی شائد اسی طرح والدین اور عوام کی خدمت کرتے ہوئے ہنسی خوشی گزر جاتی لیکن پھر یوں ہوا کہ وہ رواں ماہ اسلام کے نام پر لڑنے والے چند ناسمجھوں کے ہاتھوں بری طرح تشدد کے بعد شہید کردیا گیا۔ اس کی شہادت کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کی جانب سے اس کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوائی جاتی اور مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا جاتا، تا کہ آئندہ کسی کو قتل ناحق کی جرات نہ ہوتی، لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اس کی شہادت کے بعد اُس کمزور ماں کی طرح جس کے بیٹے کو ظالم مار ڈالیں اور پھر وہ بیچاری ماں اس ڈر سے کہیں طاقتور جھتے اس کی جوان بیٹیوں کو نہ اٹھا لیں، ان سے صلح پر مجبور ہوجاتی ہے، اسی طرح حکومت نے مزید خون خرابے سے بچنے کے لیے ظالموں سے ان ہی کی شرائط پرصلح کر لی۔ اس بات کا ادراک کیے بغیر کہ اس بات کا پولیس کے باقی سپاہیوں پر کیا اثر پڑے گا، شہدا کےمعصوم بچوں پر اس طرح کے بزدلانہ اقدامات کیا اثر ڈالیں گے۔

عمران حکومت اس قدر خوف میں مبتلا تھی کہ سابق وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے اس معاہدے پر بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں بات تک نہ کرنے دی گئی، وفاقی وزیر جناب علی محمد نے یہاں تک فرمایا کہ یہ قرارداد “دوستوں” کے ساتھ مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور بغیر کسی تبدیلی کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے، یاد رہے کہ یہ وہی دوست ہیں جنہوں نے 500 سے زائد ریاستی اہلکاروں کو زخمی کرکے ہسپتال پہنچادیا، کئی بچے یتیم کر دئیے، کروڑوں روپے کی سرکاری اور غیر سرکاری املاک تباہ کر دیں اور پھر اس کے بعد بھی یہ دوست ہیں، یہ دوست ہیں تو دشمن کون ہے۔ اگر والیان ریاست کی یہی حالت رہی تو وہ دن دور نہیں جب آئندہ اسطرح کے مواقع پر پولیس اہلکار اپنی جان نچھاور کرنے سے پہلے، خود کو کسی خطرے میں ڈالنے سے پہلے دس مرتبہ سوچیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے فرمان کے مطابق اپنے گھر کو درست کیا جائے، مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے وطن عزیز کو ہر قسم کی غیر سرکاری عسکری تنظیموں سے بلا تفریق پاک کیا جائے تاکہ ایسے واقعات کا مکمل سدباب ہو سکے۔ اور اگر ریاست کسی جھتے کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرلے تو پھر پوری قوت اور تیاری کے ساتھ اس کے خلاف کاروائی کرکے ان کا مکمل خاتمہ کیا جائے، نہ کہ ریاستی اہلکار بھی شہید ہو جائیں، سینکڑوں زخمی ہو جائیں، سرکار اور عوام اپنی املاک سے بھی محروم ہو جائیں اور پھر بھی ظلم کرنے والے، تشدد کرنے والے دوست قرار پائیں۔

 ایک آخری بات کہ پولیس کی تنظیم نو کی جائے، انہیں اس بات کی تربیت دی جائے کہ جھتوں کے خلاف کس طرح کاروائی کرنا ہے تا کہ ہماری پولیس مجرموں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے نہ کہ خود ہی مظلوم اور قابل رحم ہوکر مدد کی طلب گار ہو۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.