یومِ دستورِ پاکستان

416

جامع آئین پاکستان کی تیاری اور نفاذ ذوالفقار علی بھٹو کا عظیم کارنامہ ہے جنہوں نے اس اہم ترین قومی مسئلے پر جراتمندانہ اقدام اٹھایا۔ اس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین 10 اپریل1973ء کو پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کیا گیا جبکہ 12 اپریل 1973ء کو صدر پاکستان نے آئین پاکستان کی باضابطہ منظوری دی۔

آئین کے مطابق ہمارے پیارے ملک کا نام ‘اسلامی جمہوریہ پاکستان’ ہے۔ پاکستان میں جمہوری پارلیمانی نظام حکومت نافذ کیا گیا ہے، وزیر اعظم حکومت کا سربراہ اور اسے اکثریتی جماعت منتخب کرتی ہے۔ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور صدر اور وزیر اعظم کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ آئین کی روسے مسلمان سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ پاک کو ایک مانے، حضور اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی تسلیم کرے۔ آسمانی کتابوں پر ایمان لائے۔ فرشتوں، یوم آخرت اور انبیاءعلیہم السلام پر ایمان رکھے اور جو شخص ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہو وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور کیا جائے گا۔

آئین کی رو سے عوامِ پاکستان کو مواقع فراہم کئے جائیں گے کہ وہ اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق بسر کریں۔ قرآن مجید کی اغلاط سے پاک طباعت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ عصمت فروشی، جوا، سود اور فحش لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے گی۔ آئین کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، یہاں عربی زبان کو بھی فروغ دیا جائے گا، طلبہ وطالبات کے لیے آٹھویں جماعت تک عربی تعلیم لازمی قرار دی گئی۔ آئین پاکستان میں عدلیہ کی مکمل آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ آئین میں ترمیم کے لیے ایوان زیریں میں دو تہائی اور ایوان بالا میں بھاری اکثریت کا ہونا ضروری ہے۔

غرضیکہ 1973 ءکا متفقہ آئین ہماری پارلیمانی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ ہے، اس آئین میں جمہوریت، مساوات، رواداری، شخصی آزادی، اسلامی معاشرے کے قیام، اقلیتوں سے مساوی سلوک، بنیادی انسانی حقوق وغیرہ کی ضمانت فراہم کی گئی ہے اور خود دستور کے تحفظ کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ لیکن کیا خود حکمرانوں، سیاست دانوں، قانون سازوں نے اس دستور پر عمل کیا؟ قطعی نہیں۔ اس آئین کو بار بار مسخ کیا گیا، اس میں سیاسی و ذاتی مفادات کے تحت ترامیم اور قانون سازی کی گئی۔ آئین پاکستان موجود ہونے کے باوجود، ریاست پاکستان میں قانون کا نفاذ بظاہر سب کے لئے برابر نہیں، یہاں امراء قانون سے بالاتر نظر آتے ہیں۔

سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملک کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والی بڑی بڑی مچھلیاں قانون کے آہنی شکنجے سے کیسے بچ نکلتی ہیں؟ یہ بھتہ مافیا، یہ ٹیکس چور، قبضہ مافیا، کرپٹ افراد آخر کب قانون کی گرفت میں آئیں گے جبکہ دستور پاکستان میں مساوی انصاف کی فراہمی کی ضمانت دی گئی ہے، آرٹیکل 5 کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ وہ جہاں بھی رہے آئین اور قانون کی اطاعت کا پابند ہے۔

آرٹیکل 52 واضح کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ آرٹیکل 73 ڈی کے مطابق عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آرٹیکل 83 اے بلا تفریق جنس، رنگ و نسل عوام کی حالت بہتر بنانے کیلئے دولت اور پیداواری ذرائع کے چند ہاتھوں میں ارتکاز اور انکی عوامی مفاد کیلئے نقصان دہ غیر منصفانہ تقسیم سے منع کرتا ہے۔ آرٹیکل 83 بی کے مطابق ریاست دستیاب وسائل میں رہ کر ہر شہری کو روزی روٹی اور مناسب تفریح کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی پابند ہے۔ آرٹیکل 83 ڈی کے مطابق ریاست شہریوں کو بلا تفریق روٹی، کپڑا اور مکان، تعلیم، طبی سہولیات جیسی بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اگر قیام پاکستان کے مقاصد پر غور کیا جائے تو دستور ساز اسمبلی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا خطاب ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اقرباء پروری، سفارش اور رشوت جیسی لعنتوں کا قلع قمع کرنے اور بلا تفریق انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔

مگر صد افسوس، پاکستان میں بڑے مگرمچھ قانون کی گرفت سے صاف بچ نکلتے ہیں۔ توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ اگر یہ مگر مچھ قانون سے بالا رہتے ہیں توسسٹم کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ اربوں روپے کی لوٹ کھسوٹ کے درج مقدمات ہوتے ہیں اور پھر کئی کئی سال عدالتی کاروائی کے علاوہ میڈیا ٹرائل بھی ہوتا رہتا ہے۔ تفتیش اور پراسیکیوشن پر خطیر رقوم قومی خزانے سے صرف ہوتی ہے مگر یہ مگرمچھ مکھن سے بال کی طرح بچ نکلتے ہیں۔ جہاں تک عدالت کا تعلق ہے جب ثبوت نہیں ہوگا تو عدالت کسی کو سزا نہیں دے سکتی۔ سمجھ سے بالاتر یہ ہے کہ اسقدر کمزور مقدمات پیش کر کے عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع کرنے، کارروائی پر خطیر رقوم ضائع کرنے اور قوم کو سالہا سال تک سسپنس میں مبتلا رکھنے میں کیا مصلحت کارفرما ہوتی ہے۔

اگر ٹھوس ثبوت کے باوجود محض تکنیکی بنیادوں پر قومی مجرم چھوٹ جائیں تو یہ لمحہ فکریہ ہے اور ایسی صورت میں ضابطوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ نوشتہ دیواریہی ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں پائی جانے والی کالی بھیڑوں اور غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنی راہ لینے والے ناقابل احتساب مگرمچھوں کی خبر لینا ہوگی۔ ملک سے دہشت گردی کی طرح ، بلا امتیاز قانون کی فراہمی اور کرپشن ، بدعنوانی، اقرباءپروری اور سفارش کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بلاشبہ قانون کی بالادستی کے بغیر خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.