بلاول بھٹو کی مائنس مریم نواز سیاست۔۔۔

843

بلاول بھٹو کی سیاست پی ڈی ایم کی موت کے بعد ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو میں سیاسی اختلافات بہت شدید ہو چکے ہیں۔ پی ڈی ایم میں اختلافات تو شروع ہی سے تھے جب نواز شریف نے پی ڈی ایم کے جلسوں میں اداروں کے سربراہان کے نام لیے تھے، تب سے ہی پیپلز پارٹی نواز شریف کے بیانیے سے دور ہوتی ہوئی نظر آئی ہے۔ جو چند مہینے پی ڈی ایم متحد رہی ہے، اس کا سارا  کریڈٹ زرداری صاحب کا ہے۔ انہوں نے پی ڈی ایم کو پارلیمنٹری سیاست کے ذریعے زندہ رکھا، چاہے وہ ضمنی انتخاب ہوں یا سینیٹ کا الیکشن ہو جس میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری رہا۔

ایک دفعہ حکومت کو محسوس ہوا کہ اس ملک میں اپوزیشن بھی ہے، جمہوری عمل میں اپوزیشن کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن کسی معاملے میں ڈٹ جائے تو حکومت کو لگ پتا جاتا ہے۔ پہلے دوسال تو حکومت بغیر اپوزیشن کے چلتی رہی۔ نواز شریف صاحب اور زرداری صاحب جیل میں تھے۔ سب سے  پہلے نواز شریف صاحب بیمار ہوئے اور علاج کی غرض سے ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ پھر زرداری صاحب، جو اس وقت ضمانت پر ہیں اور تاحال بیمار ہیں۔ اسی طرح شہباز شریف صاحب بھی ابھی تک جیل میں ہیں۔ مریم نواز صاحبہ بھی ضمانت پر ہیں۔ پاکستان کی ساری اپوزیشن یا تو اس وقت ضمانت پر ہے یا جیل میں، تقریبا تمام اپوزیشن پر کرپشن کے کیسسز چل رہے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے عمران خان صاحب نے پہلے دوسال بغیر اپوزیشن کے حکومت کی ہے۔

اصل اپوزیشن موجودہ حکومت کو تب ملی جب نواز شریف باہر گئے اور وہاں جا کر سیاست شروع کر دی اور ملک میں مریم نواز نے ن لیگ کو لیڈ کرنا شروع کر دیا۔ مریم نواز نے ریلیاں نکالیں اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو آگے بڑھانا شروع کردیا لیکن مریم نے جب نواز شریف کی جانشین بننے  کا ارادہ کیا تو ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے والد کا بیانیہ تھا۔

ایک طرف ان کے والد کا بیانیہ تھا اور دوسری طرف پارٹی تھی لیکن مریم نواز نے پارٹی کو چھوڑ دیا اور اپنے والد کے سیاسی بیانیے کو اپنا لیا۔ مریم نواز سوچ رہی تھیں کہ وہ اپنے والد کے بنانیے کو لے کر چلیں گی تو پارٹی بھی ساتھ ہی چلے گی اور لوگ سڑکوں پر آئیں گے۔ اتنے زیادہ لوگ سڑکوں پر آجائیں گے کہ حکومت پریشان ہوجائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ نہ لوگ سڑکوں پر آئے نہ نواز شریف کا بیانیہ کامیاب رہا جس کی وجہ سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچا۔

مریم صاحبہ کا یہ خیال ایک خواب ہی رہا جب سینیٹ کا الیکشن ہوا تو پی ڈی ایم ظاہری طور پر تو متحد نظر آتی تھی لیکن اندر سے اس میں دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ سینیٹ کے الیکشن میں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جیت اور سینیٹ میں حکومت کی جیت سے اپوزیشن میں مزید دراڑیں پڑیں لیکن اصل دراڑ یوسف رضا گیلانی کی بطور اپوزیشن لیڈر پڑی جس سے ن لیگ کو بہت بڑا سیاسی دھچکا لگا۔ کیونکہ ن لیگ کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ حالانکہ پی ڈی ایم میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ن لیگ کا ہو گا۔

ن لیگ نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی نے باپ پارٹی کے ساتھ ساز باز کرکے اپنا اپوزیشن لیڈر بنایا ہے۔ باپ پارٹی حکومت کی اتحادی پارٹی ہے۔ گیلانی کو بھی سلیکٹڈ کہا گیا ہے اور بلاول بھٹو کو بھی مریم نواز نے سلیکٹڈ کا طعنہ دیا۔ ن لیگ نے کہا اب سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر بھی اب حکومتی نمائندہ ہے۔ اس لیے ہم گیلانی کو اپوزیشن لیڈر نہیں مانتے جس پر پلاول بھٹو نے بھی سخت زبان استعمال کی۔ بلاول نے مریم نواز کو سلیکٹڈ کے طعنے کا بھی جواب دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا ہمارےاندر تو ایسا خون نہیں ہے جو سلیکٹڈ ہو، پنجاب کا یک سیاسی خاندان ہے جو ہمیشہ سلیکٹ ہوتا آیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ن لیگ اگر سینیٹ میں ہمارے اپوزیشن لیڈر کو نہیں مانے گی تو ہم بھی ن لیگ کے پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈرکو نہیں مانیں گے جس سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں شدید اختلافات ہو چکے ہیں، واپسی کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔

پیپلز پارٹی اب ن لیگ میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی طرف دیکھ رہی ہے، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اب ہماری بات ن لیگ میں صرف شہباز شریف صاحب سے ہوگی کیونکہ ن لیگ میں صرف شہباز شریف ہی ہیں جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور اداروں پر بات نہیں کرتے۔ ابھی شہباز شریف صاحب کی خاموشی بھی بتا رہی ہے کہہ وہ ن لیگ میں موجود چند جمہوریت کے دشمن سیاستدانوں کے ساتھ نہیں ہیں کیونکہ شہباز شریف پہلے دن سے اداروں کے خلاف نہیں ہیں۔

مریم نواز کا آگے آنا اور شہباز شریف کا بیک فٹ پر جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ شہباز شریف صاحب دل سے ن لیگ  اور نواز شریف کے اداروں مخالف بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں۔ اب اگر پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی رہتی ہے تو اب پیپلز پارٹی مریم نواز کی بجائے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے بات کرے گی۔

پیپلزپارٹی کہہ چکی ہے اگر پنجاب میں تبدیلی ہوگی تو سب سے پہلاحق حمزہ شہباز کا ہے، اگر ن لیگ حمزہ شہباز کو نہیں لانا چاہتی تو پھر چوہدری صاحبان کو لانے میں ن لیگ ہماری مدد کرے۔ ن لیگ کو بھی چوہدریوں سے اتنا ہی ڈر ہے جتنا حکومت کو، حکومت کہتی ہے اگر چوہدری پرویز الہی کو اگر وزیراعلی بناتے ہیں تو آنے والے الیکشن میں چوہدری ہمارے بندے توڑے گا اور یہی ڈر ن لیگ کو بھی ہے۔ اگر ن لیگ چوہدری کو وزیراعلی بنانے میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتی ہے تو ن لیگ پنجاب میں ختم ہوجائے گی اور ن لیگ کے بہت سارے لوگ قیادت کے نہ ہونے سے چوہدری صاحبان کے پاس چلے جائیں گے۔ اس لیے نواز شریف چوہدری برادران کو لانے کے حق میں نہیں اور نہ ہی حمزہ شہباز کو۔

نوازشریف صاحب چاہتے ہیں بزدار ہی وزیراعلٰی رہے جس کا فائدہ آنے والے الیکشن میں ن لیگ کو ہی ہوگا۔ لیکن پیپلزپارٹی بزدار کو ہٹانے میں بضد ہے۔ اب پیپلزپارٹی مریم نواز شریف کو مائنس کر کے شہباز شریف سے بات کرنا چاہ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ن لیگ سے مائنس مریم نواز کرسکے گی کہ نہیں؟ کیونکہ ن لیگ سے مائنس مریم نواز کا مطلب ہے کہ مائنس نواز شریف۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ کے ووٹر مائنس مریم نواز کے حق میں ہیں کہ نہیں کونکہ ن لیگ کا ووٹر اور ورکر مریم نواز کو نواز شریف کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اگر مریم نواز مائنس ہوتی ہے تو ن لیگ کے اور نواز  شریف کی سیاست کو یہ سب سے بڑا دھچکا ہوگا۔

بلاول بھٹو کا یہ کہنا ہے کہ گیلانی کی کامیابی وزیراعظم کی طرح ن لیگ کے کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہورہی، یہ بلاول بھٹو کی طرف سے پی ڈی ایم کی سیاست میں ایک آخری کیل ہے جو پی ڈی ایم وزیراعظم کو نکالنے کے لیے بنی تھی۔ اس سیاسی اتحاد کی ایک بڑی سیاسی پارٹی اب وزیراعظم عمران کوسلیکٹڈ کہتے کہتے بغض مریم نواز میں  منتخب کہہ رہی ہے۔ بلاول بھٹو بھی اپوزیشن پر خوب گرج برس رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے پی ڈی ایم  میں موجودسیاسی جماعتیں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بجائے ایک دوسرے کو ٹف ٹائم دے رہی ہیں،  اپوزیشن، اپوزیشن کے خلاف اپوزیشن کر رہی ہے یعنی ن لیگ حکومت کی بجائے پیپلز پارٹی پر تنقید کر رہی ہے۔

بلاول نے مزید کہا ہے کہ اصل اپوزیشن کا کردار تو پیپلز پارٹی کر رہی ہے، چاہے وہ وفاق میں  ہویا پنجاب میں، پیپلز پارٹی حکومت کو مشکل میں ڈالے ہوئے ہے۔ باقی ساری اپوزیشن ویسے نام کی اپوزیشن ہے۔ اب پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے نکل چکی ہے، سینیٹ میں اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر اپنا نیا سیاسی اتحاد بنا لیا ہے لیکن اپوزیشن پیپلز پارٹی کے بغیر نامکمل ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے پیپلزپارٹی کے بغیر اپوزیشن طاقتور رہتی ہے یا ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اپوزیشن کا بٹے رہنا ہی حکومت کی جیت ہے۔ اگر حکومت ہارے، پھر بھی عوام ہارتی ہے اگر اپوزیشن ہارے، پھر بھی عوام ہارتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہی المیہ رہا ہے، کبھی کوئی عوام دوست حکومت نہیں آئی۔ جو بھی اقتدارمیں آیا ہے، اس نے سب سے پہلے اپنا پیٹ دیکھا ہے، عوام کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔ اللہ تعالٰی ہمارے ملک کو عوام دوست حکمران عطا مرمائے، آمین۔۔۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.