آغازِ نو…

431

ایک برف فروش صدا لگا رہا تھا لوگو! میری برف خرید لو، یہ پگھل رہی ہے، یہی میری کل متاع اور سرمایہ ہے۔ برف خرید لو، یہ پگھل رہی ہے۔ بازار سے گزرتے لوگ چند لمحوں کے لیے تو اس کی جانب متوجہ ہوئے مگر پھر نظر انداز کر کے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔

اسی بازار سے ایک دانا شخص بھی گزر رہا تھا، اس نے برف فروش کی صدائیں سنیں تو اس کے کان کھڑے ہو گئے اور وہ کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا۔ اس کے ذہن میں بات آئی کہ ہماری زندگی بھی تو برف ہی کی مانند ہے۔ ہر گزرتا لمحہ اسے پگھلا رہا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس پگھلتے سرمائے سے جس قدر ممکن ہو فائدہ اٹھا لیا جائے ورنہ بعد از وقت سوائے پچھتاوے کے ہاتھوں میں کچھ نہیں رہنا۔

ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں اور بارہ مہینے نئے سال کے شروع میں جنوری سے دسمبر تک کا طویل دکھائی دینے والا سفر پل بھر میں طے ہو جاتا ہے۔ آنکھیں تب کھلتی ہیں جب ہم دسمبر کی آخری شام کو کسی پہاڑی کی چوٹی پر، گھر کی چھت، ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر یا پھر کسی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے ڈوبتے سورج کا نظار کرتے ہیں تو بیتے ایام کسی فلم کی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتے ہیں۔ چند لمحوں کے لیے دل میں ایک ہول سا اٹھتا ہے اور پھر ہم سال کی آخری شام کو الوداع کہہ دیتے ہیں۔ اگلے دن نئے سال کی پہلی صبح کا استقبال کرتے ہیں اور پھر گزرے کی ڈگر پر ہی چل نکلتے ہیں۔

ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، وقت ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسلتا چلا جا رہا ہوتا ہے۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم زندہ ہیں یا مردہ، انسان ہیں یا جانور۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
یونہی عمر تمام ہوتی ہے
کے مصداق عمر کٹ رہی ہوتی ہے۔ ہم جب بھی کبھی پیچھے مڑ کر ماضی میں جھانکتے ہیں تو کوئی قابل ذکر کارنامہ نظر نہیں آ تا۔ نظر آتی ہے تو بس ہماری آرام پسندی اور تن آسانی کی طویل استان، جس کے نتیجے کے طور پر مصائب اور آلام ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے کیوں ہوتا ہے؟ کبھی آپ نے سوچ ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

اگر نہیں سوچا تو اس بار ضرور سوچئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی میں کوئ مقصد نہیں ہوتا۔ ہم نے سب کچھ تقدیر پر چھوڑ دیا ہوتا ہے، تدبیر کو ہم مانتے ہی نہیں۔ ہماری زندگی ایک بے ملاح کشتی کی طرح سمندر میں ہچکولے کھا رہی ہوتی ہے اور آخر کار ایک دن کسی تند و تیز لہر کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لیے غرق ہو جاتی ہے۔ پل بھر میں ہم زندہ انسان سے میت میں ڈھل جاتے ہیں۔ چند لمحو ں کا کہرام برپا ہوتا ہے۔ چند آنکھوں سے اشکوں کی لڑیاں پھوٹتی ہیں اور انسان منوں مٹی تلے پہنچ جاتا ہے، کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ہر ایک کی زندگی واپس پہلے جیسی ڈگر پر رواں دواں ہو جاتی ہے۔

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انسان اور جانور میں کیا فرق ہے۔ انسان کیوں اشرف المخلوقات ہے۔ آپ کون ہیں؟ روزانہ لاکھوں لوگ مرتے ہیں مگر آپ زندہ ہیں، اس کی کچھ تو وجہ ہو گی، آپ کو کائنات کی سب سے اعلی مخلوق بنا کر پیدا کیا گیا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی، عقل و شعور دیا گیا، ایک صحت مند جسم سے آپ کو نوازا گیا کیوں؟

انسان ایک اینٹ تک بغیر مقصد کے نہیں بناتا، تو کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی اشرف ترین مخلوق بے مقصد ہو۔ اس عظیم تخلیق کے پیچھے کچھ تو راز پوشیدہ ہو گا، آپ سے سوال ہے کبھی آپ نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی، اپنے ہونے کی وجہ دریافت کی، کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچا ہے آپ کیوں پیدا کیے گئے ہیں؟

اگر اس سے پہلے اس انداز سے کبھی نہیں سوچا تو اب سوچئے۔ اپنے ہونے کی وجہ دریافت کیجئے۔ ایک بے مقصد انسان اور جانور میں قطعًا کوئی فرق نہیں۔ دونوں کے عمل ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔کھانا، سونا، افزائش نسل کرنا اور مر جانا۔ ایک واضح مقصد ہی انسان کو انسانیت کے درجے پر پہنچاتا ہے۔

آپ کا ماضی کیسا تھا، پچھلا وقت کیسا گزارا، اس کو بھول جائیے اور آنے والے وقت کے لیے اپنی زندگی کو سمت دیجئے۔ نئے سال کے آغاز کو اپنی ذات کے لئے نیا آغاز تصور کیجئے، اپنے لئے واضح ہدف و مقاصد مقرر کریں۔ گلی، محلے کی چھوٹی سوچ کو ترک کرکے بڑی سوچ اپنایئے، آپ کوئی عام شخص نہیں، اسی لئے دوسروں سے منفرد ہیں۔ خدا تعالی کی خاص تخلیق ہیں۔ فرشتوں سے افضل ہونے کے ناطے چھوٹی سوچ رکھنا اور سطحی یا بے مقصد زندگی گزارنا بھی جرم کی طرح ہے۔ یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا آپ کی آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔

مو لانا رومی کہتے ہیں کہ “اللہ نے تمہیں پر دیئے ہیں تو کیوں چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہو۔” انسان میں اللہ تعالی نے ان گنت صلاحیتیں رکھی ہیں۔ جو چاہے بن سکتا ہے۔ فقط ضرورت ان صلاحیتوں کو دریافت کر کے نکھارنا اور پھر فائدہ اٹھانا ہے۔ ہم میں سے تقریبا 98 فیصد لوگ خود کو پہچانے بغیر ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جس نے خود کو پہچان لیا، اس کا نام دنیا سے کبھی مٹ نہی سکا۔ اولیاءاللہ کی زندگی زندہ مثال ہے، حضرت لعل شہباز قلندر، داتا گنج بخش جیسے کتنے ہی نام صدیاں گزر جانے کے باوجود زندہ ہیں بلکہ اتنی رونق ہمارے معاشرے میں‌ زندہ لوگوں کے گھروں پر نہیں ہوتی جتنی ان کے ظاہری زندگی سے پردہ کرنے کے بعد بزرگان دین کی درگاہوں پر ہوتی ہے۔ حضرت واصف علی وا صف رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ زندگی میں مردہ ہوتے ہیں اور کچھ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ تو ابھی بھی وقت ہے ، اپنے آپ کو زندوں میں شامل کرنے کی کوشش شروع کر دیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شہریار احمد سماجی اور اصلاحی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.