جیلوں کی حالت زار حکومتی توجہ کی منتظر

394

جوتے اتار دیں۔۔۔۔! کیوں، یہ مسجد ہے؟ غلام ربانی نے سوال کرتے ہوئے آواز کے تعاقب میں دیکھا تو اسے حوالات کے آخری حصہ میں ایک شخص نظر آیا۔ وہ بولا، نہیں بھائی مسجد تو نہیں ہے مگر ہمارے لیے یہی سب کچھ ہے۔ غلام ربانی سب کچھ بھول کر اس کی جانب بڑھ گیا۔ اور پھر جب حوالاتی کو بتایا کہ وہ صحافی ہے تو قیدی کے تو گویا ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ اپنی داستان غم سناتے ہوئے وہ بار بار یہی التجا کر رہا تھا کہ آپ برائے کرم باہر جا کر جیلوں کی اصلاح احوال کے بارے میں ضرور آواز بلند کیجیے گا۔

غلام ربانی ایک پڑھا لکھا اور سمجھدا ر انسان ہے، شعبہ تعلیم سے منسلک ہونے کے علاہ وہ سرگودھا کے مقامی اخبارمیں کالم بھی لکھتا ہے۔ یہ سلجھا ہوا انسان حادثاتی طور پرایک جھگڑے میں ملوث ہوکر جیل جا پہنچا۔ وہ خوش نصیب تھا کہ اپنے مضبوط خاندانی بیک گراونڈ کی وجہ سے جلد اسے رہائی نصیب ہوگئی۔ وگرنہ عام آدمی ایک بار جیل چلا جائے، رہائی تو دور کی بات کیس شروع ہی نہیں ہوتا۔ کراچی میں قتل کے الزام میں قید ایک طالبہ تین سال سے صرف مقدمہ شروع ہونے کے انتظار میں ہے تاکہ کیس شروع ہو اور وہ اپنی بے گناہی ثابت کر سکے۔

سوشل ورکر انصار برنی صاحب نے ایک بار بتایا کہ انہوں نے جیل سے ایک ایسے شخص بھی رہا کروایا جو بیوی کے قتل کے الزام میں 38 سال قید میں رہا مگراُسے کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ ان کی کوششوں سے ایک ایسے شخص بھی رہا ہوئے جو 40 سال سے جیل میں تھے، ایک قیدی تو جیل میں ہی پیدا ہوئے اور جیل میں 40 سال کے ہوگئے۔ ایک عورت کوپچپن سال بعد رہائی نصیب ہوئی۔ ایسی کئی مثالیں جیل کی کوٹھڑیوں میں موجود ہیں۔

اور اس پر ستم بالائے ستم جیلوں کی حالت زار ہے جہاں پر گنجائش سے زائد قیدی جیلوں کی حالت کو مزید ابتر بنائے ہوئے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت صرف پنجاب میں کل اٹھارہ جیلیں تھیں جن میں راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ جیل ایک اہم جیل تھی اور اب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 116 جیلوں میں کل 73 ہزار 242 قیدی موجود ہیں ان میں ایک ہزار 121 خواتین ہیں جو جیل کی آبادی کا 1.5 فیصد بنتی ہیں۔

کچھ ذرائع تو یہ بھی دعوی کرتے ہیں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے قیدی شفٹوں میں سوتے ہیں، مناسب بیت الخلا یا پنکھا تو وہ چیزیں ہیں جسے قیدی تعیش میں شمار کرتے ہیں۔ ( یاد رہے کہ یہ عام قیدیوں کی حالت زار کا یبان ہے، امیر زادے قیدیوں کو بہترین اور آرام دہ کمرے منہ مانگی رشوت کے عوض دیئے جاتے ہیں۔ ایک معروف ماڈل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب تک یہاں رہیں ان کو ہر طرح کی سہولت میسر رہی۔ان کو بہترین اور پسندیدہ کھانوں سے لے کر ہر قسم کی رہائشی سہولتیں، فائیو سٹار ہوٹل کی طرح میسر تھیں اور کوئی ناپسندیدہ شخص وہاں پر نہیں مار سکتا تھا).

ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی جیلوں کی تعمیر کے ساتھ موجودہ جیلوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، ایک غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق اس وقت جیلوں میں 107 میڈیکل آفیسرز کی آسامیاں خالی ہیں، جنہیں فوری طور پر پُر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ قیدیوں کی ایک بڑی تعداد سنگین بیماریوں مثلاً ایچ آئی وی، ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور ذہنی امراض کا شکار ہے۔

جیل ہسپتالوں میں الٹرا ساونڈ، آکسیجن سلنڈرز، ای سی جی مشینز، لیبارٹریز کی شدید کمی ہے، پنجاب کی 10 فیصد جیلوں میں ایمبولینس کی سہولت میسر ہی نہیں، بلوچستان کی جیلوں کے لیے صرف چار ایمبولینسز موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر ملک بھر کی جیلوں میں سے صرف خیبر پختونخوا میں دو دانتوں کے ڈاکٹر موجود ہیں۔ یاد رہے ماضی میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ قرار دے چکے ہیں قیدی مریض ہو تواس کے علاج کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جیل اصلاحات کے حوالے سے وفاقی محتسب کی مرتب کردہ سفارشات کی روشنی میں قیدیوں کو تعلیم اور ہنر سیکھنے کی سہولت دی جائے،اور جیلوں کی حالت زار بہتر کرنے کیلئے فنڈز جاری کیے جائیں۔ جیلوں میں قیدیوں کے ریکارڈ کیلئے بائیو میٹرک سسٹم لگایا جائے، جیل ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔

یہ معاملہ انتہائی اہم ہے کہ منشیات اور ایڈز جیسے مہلک امراض میں مبتلا قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جائے۔ منشیات اور ذہنی امراض کے شکار قیدیوں کیلئے بحالی مراکز قائم کیے جائیں۔ مستحق قیدیوں کو مفت قانونی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تا کہ قیدی جب جیل سے باہر آئے تو وہ معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرسکے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.