چھے نومبر1947، جب کشمیر لہو لہو ہوا

399

6 نومبر 1947 کا دِن ریاست جموں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بہت اہمیت و افادیت کا حامل ہے۔ یہ دِن پُورے آزاد جموں کشمیر ،پاکستان اور پُوری دُنیا میں اُن شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے نومبر کے اوائل میں اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کیں اور یوں پوری دُنیا کو بتایا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو مسلمانانِ جموں و کشمیر نے بے حد خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔ 19 جولائی کو مسلم کانفرنس نے ریاست کے پاکستان کیساتھ الحاق کی قرار داد منظور کی اور 15 اگست کو ریاست کے ہر شہر اور قصبہ میں چراغاں کیا گیا۔

جموں اور سرینگر میں پاکستان کے شددائیوں نے جلوس نکالے اور ”نعرہ تکبیر ٗ اللہ اکبر“ ”نعرہ رسالت ﷺ ٗ یا رسول ﷺ پاکستان زندہ باد“ اور ”قائد اعظم زندہ باد“ کے علاوہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعرے بلند کئے، اس جوش و خروش کو دیکھ کر ہندو اور ڈوگرہ حکومت لرز گئی اور اس نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ اودھم پور ٗ ریاسی ٗ کھٹعہ ٗ رام سو ٗ رام نگر ٗ یانیہ اورکوٹلی غرض یہ کہ ہر قصبہ کو مسلمانوں کے خون سے رنگ دیا گیا۔ ہزاروں دیہاتی باشندوں کو دھوکہ اور فریب سے گھروں سے باہر نکال کر گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔ ہزاروں عفت مآب بچیوں اور خواتین کو اغواء کیا گیا۔ یہ قتل عام اتنی منظم سازش سے ہوا کہ جموں اور سرینگر میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور یہاں تک ہوا کہ جب نومبر کے ابتدائی دنوں میں جموں میں قتل عام ہوا تو سرینگر میں کسی کو علم نہ ہو سکا۔

پاکستان کے عشق میں دیوانے مسلمان اپنے آباء و اجداد کی وراثتوں کو چھوڑ کر پولیس لائن جموں میں پہنچ گئے۔ یہ لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے۔ اس اثناء میں 5 نومبر کو ایک قافلہ تیار کیا گیا مگر اسے چیت گڑھ سیالکوٹ لے جانے کی بجائے کھٹوعہ روڈ پر لے جایا گیا۔ یہاں مسلمان مہاجرین کی بسوں پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ اور ماوا کا مقام مسلمانان جموں کیلئے قتل گاہ بن گیا۔ اس قافلے میں کم از کم 4 ہزار افراد شامل تھے ٗ لیکن شہر میں اس قتل عام کی خبر تک نہ ہوئی۔ دوسرے روز 6 نومبر کو یہ کہانی پھر دہرائی اس روز 70 ٹرکوں میں لوگوں کو بٹھایا گیا اور اس روز سب سے زیادہ خون بہایا گیا۔ یہ سانحہ ستواری کے علاقہ میں پیش آیا۔ 7 نومبر کے قافلہ میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ان سے ”نازیت“ کی روح بھی کانپ اٹھی اور شیطان نے بھی اپنا چہرہ چھپا لیا۔ جموں کے معززین کی کثیر تعداد جامِ شہادت نوش کر گئی۔ ہزاروں بچیوں کو اغواء کر لیا گیا۔

اس قتل عام کو برطانوی روزنامہ ”دی ٹائمز لندن“ نے رپورٹ کیا۔ اخبار کے مطابق جموں میں 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اسٹیٹس مین کے ایڈیٹر آئن اسٹیفن نے اپنی کتاب میں قتل عام کی تفصیل لکھی۔ ان کے مطابق 1947 کی خزاں تک 2 لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ صحافی ہوریک الیگزینڈر نے اس قتل عام کی منظرکشی کرتے ہوئے لکھا ”جموں کے مسلمانوں نے پاکستان میں شمولیت کیلے اپنی دولت، رشتے دار، زندگی اور جذبات سب قربان کردیا۔“

برطانوی مورخ ایسٹر لیمپ نے اپنی کتاب میں لکھا ”ہندوؤں اور سکھوں کے خونی جتھے جموں میں داخل ہوگئے ٗ جنہوں نے وحشیانہ قتل و غارت گری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کردیا اور لاکھوں لوگوں کو مغربی پنجاب (پاکستان) کی طرف دھکیل دیا۔“

مسلمانوں کے قتل عام کیلے حکومت اور بلوائیوں نے انتہائی دردناک طریقہ اختیار کیا۔ جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں جموں ٗ اکھنور ٗ راجپورہ ٗ چینی ٗ کھٹوعہ ٗ سانبہ ٗ اودھم پور اور ریاسی میں مسلم آبادی کو ختم کردیا گیا۔ مختلف تاریخی کتابوں کے مطابق جموں کے 123 دیہاتوں میں مسلم آبادی کی اکثریت تھی۔ آر ایس ایس کے قاتلوں سمیت ٗ دیگر ہندو انتہاپسندوں نے ضلع کٹھوعہ میں پچاس فیصد مسلمانوں کو شہید کردیا۔ ریاسی 1947 کا بوسنیا تھا ٗ جہاں 68 فیصد مسلمان آباد تھے۔ اس ضلع کے مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا۔

رام نگر میں گجر برادری سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا جبکہ رائے پور گاؤں کو مکمل طور پر راکھ کا ڈھیر بنادیا گیا۔جموں کے نواحی علاقوں بیر نگر، سلنی، چانڈی وغیرہ میں مسلمانوں کا قتل اکتوبر کے مہینے میں شروع ہوچکا تھا۔ لیکن جموں میں مسلمانوں کا سب سے خطرناک قتلِ عام 4 نومبر 1947 کو بھارتی وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل ٗوزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور مہاراجہ پٹیالہ کے دورہ جموں کے بعد ہوا۔ کشمیری قیادت کا کہنا ہے کہ جموں میں قتل عام کی اصل سازش انہی کرداروں نے خود رچی تھی۔

جموں کے دیہات میں جو ظلم و ستم ہوا وہ ہندوؤں کی بربریت کا زندہ ثبوت ہے۔ مسلمان فوجیوں کو پہلے ہی غیر مسلح کر لیا گیا تھا اور دیہات کو نذر آتش کرنے کی مہم شروع ہو چکی تھی۔ جموں، اکھنور ٗراجپور ہ ٗ چینی ٗ ریاستی ٗ کھٹوعہ ٗسانبہ ٗاودھم پور ٗ مسلمانوں کی متقل گاہیں بن گئیں۔ یہی عمل کوٹلی میر پور اور دوسرے علاقوں میں دہرایا گیا۔ مواضعات ٗبیر نگر ٗسلنی ٗچانڈی وغیرہ میں مسلمانوں کا قتل اکتوبر کے مہینے میں شروع ہو چکاتھا۔ رد عمل تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے ہتھیار سنبھال لئے اور ڈوگرہ فوج کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میدان کار زار میں نکل پڑے اور مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ 20 اکتوبر 1947؁ء کو اکھنور کے مقام پر 14 ہزر مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ یہ قتل عام اتنا درد ناک اور خوفناک تھا کہ پنڈ ت جواہر لال نہرو وزیر اعظم کو کہنا پڑا کہ مجھے دلی افسوس ہے اور اس حادثہ میں حکومت ہند کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ بات غلط ہے کیونکہ یہ سب کچھ بھارتی فوج کی نگرانی میں ہوا تھا اور بھارت کی پالیسی کے مطابق خونی ڈرامہ رچایا تھا۔ آج جو کچھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے وہ بھی کسی فساد جموں کشمیر سے کم نہیں ہے۔

آج بھی بھارت وادی کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تیزی سے بدل رہا ٗ وادی کے لوگوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ٗ مسئلہ کشمیر کا حل اس وقت ہی ممکن ہے جب اس وقت مسئلہ کے تینوں فریق پاکستان ٗ بھارت اور کشمیری قیادت مل بیٹھ کر اس کا آبرو مندانہ حل تلاش کریں لیکن بھارت ”میں نہ مانوں“کی پالیسی پر گامزن ہے۔

05اگست 2019سے تاحال جبری کرفیو ٗ لاک ڈاون ٗ انسانیت سوز مظالم جاری ہیں ٗ اور اقوام عالم خاموش تماشائی ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن اس وقت ممکن ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان اس دیرینہ تنازعہ کو حل کیا جائے۔ ایسا نہ کیا گیا تو اس خطہ میں امن و سلامتی اور استحکام کا امکان ممکن نہیں۔وہ نڈر قوم جو اپنی تدفین پاکستانی جھنڈے میں کریں ٗ انہیں بھارت کا کوئی بھی حربہ کیسے زیر کر سکتا ہے۔ ان شاء اللہ شہدا کا خون ٗ لازوال قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.