ففتھ جنریشن وار فیئر

1,083

ففتھ جنریشن وار فیئر دراصل خیالات، کلچر اور معلومات کی جنگ ہے، طویل عرصہ جاری رہنے والی یہ ایسی جنگ ہے جس کے ذریعے کوئی ملک یا حکومت دوسری اقوام کے ذہنوں کو بالعموم اور اپنی دشمن اقوام کو بالخصوص مسخرکرنے کے لیے خفیہ منصوبوں پر عمل کرتی ہے، اس جنگ کے مقاصد نہایت خطرناک اور ہولناک ہیں۔

زبان ہماری تہذیب و تمدن کی عکاس ہوتی ہے، جب کوئی قوم اپنی زبان چھوڑ کر کسی اور کی زبان پر فخر محسوس کرنے لگے تو دراصل یہ تباہی کی طرف قدم بڑھانا ہے۔ زبان ہماری ثفاقت کا ایک اہم جزو ہے اور جب ہم کسی ایک جزو سے دوری اختیار کرتے ہیں تو جلد یا بدیر ہم پوری ثقافت سے ہی دوری اختیار کر لیتے ہیں، دشمن ہمیں سب سے پہلے ہمارے ذہنو ں میں ہماری زبان اور ثقافت سے نفرت پیدا کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ہم تک ایسی معلومات پہنچائی جاتی ہیں جن کے ذریعے ہمارے اندر مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ہمارے دلوں میں ہمارے ملک کے استحکام اور سلامتی کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کئے جاتے ہیں اور بالآخر ایک محب وطن انسان ھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ خیر باقی نہیں رہی، جس ریاست کے لئے وہ جان کی بازی لگانے سے بھی در یغ نہیں کرتا تھا، اب اس کے لئے کچھ بھی کر نے سے کتراتا ہے۔

ففتھ جنریشن وار فیئر کے اثرات کے تحت ایک شہری یہ سوچنے پر مجبو ہو جاتا ہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے اعتماد کے لائق نہیں رہے، رفتہ رفتہ اس کا دل اپنے ملک سے اٹھ جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئےکہ اٹھا دیا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر دراصل ایک نفسیاتی جنگ ہے جس کے ذریعے مخالف قوم کے ذہنوں کو مسخر کرنے کے لئے جائز و ناجائز ہر حربہ آٓزمایا جاتا ہے اور اس سب میں دشمن کا ساتھ دیتی ہے ہماری بے حسی اور لاپراہی۔

اب ان حالات میں ایک نوجوان کو خصوصاً اور قوم کو عموماً کیا کرنا چاہیئے؟ سوش میڈیا کا تعمیری اور مثبت استعمال کر کے ہم دشمن کے منصوبے کو شکست دے سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر ملک و قوم کے مثبت امیج کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، ان تمام سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیئے جن سے ملک کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے آ سکے، امن و امان کی عکاسی ہو، ملک کے کلچر کو فروغ مل سکے، ملک و قوم کے با رے میں دنیا کے ابہام دور ہو سکیں۔

خواتین کو با اختیار بنانا، اس ضمن میں حقیقی معنوں میں کوشش کرنا، ہر شعبہ زندگی میں خواتین کو مساوی حقوق اور مواقع فرام کرنا اور ان تعلیم سمیت دیگر ضروریات بہم پہنچانا ضروری ہے، اس کے ذریعےخواتین ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں گی۔ ان کے اندر موجود احساس کمتری کو کم کیا جا سکے گا اور بالآخر ملکی ترقی میں خواتین ایک اہم کردار ادا کر سکیں گی۔

سیاحت کے فروغ کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیئے یہ کسی ملک کی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات کے لئے بھی نہایت اہم ہے، گھر کی چار دیواری میں مقید رہ کر انسان رفتہ رفتہ منفی سوچوں میں گھر جاتا ہے اور یہی منفی سوچ انسان کو ڈپریشن اور دیگر ذہنی بیماریوں کی طرف لے جاتی ہے۔

اس سب کے علاوہ ہمیں ملک کے اندر دیگر ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے میل جول بڑھانے میں ا پنا کردار ادا کرنا ہوگا، اس سے ہمارے درمیان فاصلے کم ہوں گے، ذہن میں موجود مختلف غلط فہمیاں دور ہوں گی اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔

ہمیں اپنے ہم وطنوں کی فلاح کے لئے کام کرنا ہو گا، مشکل گھڑی میں ان کے شانہ بشان کھڑا ہونا ہو گا جس سے ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ ملک کے تمام باسی برابر ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں اور کوئی بھی مشکل گھڑی ہو، سب مل کر اس سے با آسانی سرخرو ہوں گے۔

دشمن کے پاس صرف حملے کا اختیار ہوتا ہے، اگر ہمارا دفاعی منصوبہ پہلے سے تیار ہو اور ہم اپنی صفوں میں اتحاد برقرا ر رکھیں تو پسپائی دشمن کا مقدر ہی ٹھہرے گی۔ چاہے وہ سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ ہو یا پھر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا پر مسخر کرنے کے حربے۔

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر اس نعمت سے نوازا ہے جس کی ایک قوم صرف خواہش کر سکتی ہے، ہمارا باہمی اتفاق اوربھائی چارہ بھی مثالی ہے، ہمارے ادارے استحکام کی جانب گامزن ہیں اور ہماری فوج الحمدللہ ایک طاقتور فوج ہے، ضرورت ہے تو بس بدلتی دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اور دشمن کی چالوں کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

فرحان الحسن سید کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کے بعد بینکنگ کے شعبے سے منسلک ہیں، پڑھنا اور لکھنا ان کا شوق ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. ماہ رخ کہتے ہیں

    آج ہی اس کے بارے میں پڑھا۔ کیا پاکستان میں بھی ففتھ جنریشن وار جاری ہے؟
    عالمی سیاست میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل مل کر پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.