قائداعظم نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں انکار کیا؟

1,440

برطانیہ کی سازش کے تحت جب 14 مئی 1948 کو اسرائیل کی غیرقانونی ریاست قائم کر دی گئی تو قائداعظم نے ایک تاریخ ساز بیان دیا کہ ’’اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور پاکستان اسے کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ “ اسی طرح جب اسرائیل کے نام نہاد وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے قائداعظم کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ٹیلی گرام بھیجا تو قائداعظم محمد علی جناح نے اس کا جواب نہ دے کر اسرائیل کو کبھی تسلیم نہ کرنے کا منہ توڑ جواب دیا۔

قائداعظم جانتے تھے کہ اسرائیل کا قیام مظلوم فلسطینیوں کی زمینیں چھین کر بزور طاقت عمل میں لایا جا رہا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب ایک جانب تو فلسطینی عربوں کے خون سے غداری ہوتی تو دوسری جانب بیت المقدس (مسلمانوں کا قبلہ اول) یہودیوں کے ہاتھ میں دینے کا ساتھ دینے کے مترادف تھا جو دین اسلام سے غداری ہوتا۔ اب کچھ عرصے سے یہ تنازع پھر اٹھایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے تو بانی پاکستان محمد علی جناح نے ایک کام سے انکار کیا تو اب ہم یہ کام کیسے کر سکتے ہیں جبکہ قائداعظم کا ہر کام اصولوں کے عین مطابق تھا۔

اسرائیل جیسے غاصب ملک کو تسلیم کرنے کے مسٔلے کا تعلق اسرائیل کے مذہب یا صرف اسرائیل کے مسلمانوں پر ظلم کرنے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق اسرائیل کے وجود کی حقیقت کو سمجھنے سے ہے جو کہ باقی ریاستوں سے یکسر مختلف ہے۔ اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جس کا وجود ہی اس بات کا مرہون منت ہے کہ اس کا فلسطین کی سرزمین پر قبضہ بر قرار رہے۔ اگر یہ قبضہ چھڑوا لیا جائے تو اسرائیل کا بطور ریاست وجود ہی ختم ہو جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ قبضہ چھڑانے کے بعد یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ فلسطین میں بدستور رہتے ہی کیوں نہ رہیں کیونکہ ایسی صورت میں ان کی حیثیت فلسطین میں ایک اسلامی حکومت کے تحت بسنے والے غیر مسلم شہریوں کی سی ہو گی اور انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت کی جانب سے ایک اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسرائیل کو تسلیم کرنا اس کے اس قبضے پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے جو کہ اس نے فلسطین کی سرزمین پر کر رکھا ہے اور یہ ایک بالکل نا جائز قبضہ ہے۔

مزید یہ کہ مذکورہ قبضہ ان قبضوں سے مختلف ہے جو بھارت کا کشمیر یا امریکہ کا افغانستان پر ہے کیونکہ اگر بھارت اور امریکہ کا کشمیر اور افغانستان پر سے قبضہ چھڑوا لیا جائے تب بھی بھارت اور امریکہ کا بطور ریاست اپنی اپنی سرزمینوں پر وجود باقی رہتا ہے۔ اس لئے بھارت اور امریکہ کو تسلیم کرنا ان کے کشمیر اور افغانستان پر قبضے کی تصدیق کرنے کے قائم مقام نہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل کو تسلیم کرنا دراصل اس کے فلسطین پر ناجائز قبضے کو درست تسلیم کر لینے کے عین قائم مقام ہے۔ اور یہی وہ اصل بات ہے جس وجہ سے اسرائیل کو تسلیم کر لینا سرا سر غلط بھی ہے اور سنگین بھی اور یہ ان فلسطینی مسلمانوں کے اس خون کے ساتھ غداری بھی ہے جو وہ پچھلے ایک سو سال سے لے کر آج کی تاریخ تک مسلسل بہاتے چلے آ رہے ہیں۔

فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ زیادتیوں کا آغاز 9 دسمبر 1917 کو برطانیہ کی جانب سے القدس کو فتح کرنے سے ہوا۔ اس سے پہلے فلسطین کی سرزمین خلافت عثمانیہ کا حصہ تھی۔ جنگ عظیم اول میں برطانیہ نے مکہ کے والے شریف حسین کے ساتھ یہ خفیہ معاہدہ کیا کہ اگر وہ خلیفۂ وقت کے خلاف بغاوت کرے گا اور برطانیہ اور فرانس کی افواج کے ساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کی افواج کے خلاف جنگ کرے گا تو خلافت عثمانیہ کو حاصل ہونے والی شکست کے نتیجے میں برطانیہ اسے بشمول فلسطین، عرب کے بہت سے علاقوں کا حاکم بنا دے گا۔ شریف حسین کی برطانیہ کے کرنل مک مہون کے ساتھ یہ مراسلت 10 خطوط کی صورت میں جولائی 1915سے لے کر مارچ 1916 کے عرصے کے درمیان ہوئی جو کہ تاریخ میں “حسین ۔ مک مہون مراسلت ” کے نام سے محفوظ ہے۔ لہٰذا شریف حسین اور اس کے بیٹوں فیصل، عبد اللہ اور علی نے برطانیہ کے کرنل لارنس (بالمعروف لارنس آف اریبیہ ) کے ساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کی افواج سے جنگ کی۔ پہلے سے کمزور اور جنگ عظیم میں کھائے گئے زخموں سے چور خلافت عثمانیہ ان بغاوتوں کی تاب نہ لا تے ہوئے منہدم ہو گئی لیکن برطانیہ نے شریف حسین کے ساتھ کئے گئے وعدے کا لحاظ نہ رکھا اور 2 نومبر 1917 کو بیلفور اعلامیہ پیش کر دیا جس میں یہودیوں کو فلسطین کی سرزمین پر ایک مستقل رہائش گاہ دیئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ اعلامیہ برطانوی حکومت کے سیکریٹری خارجہ آرتھر بیلفور کی جانب سے برطانیہ کی یہودی برادری کے رہنما اور برطانوی پارلمنٹ کے سابقہ ممبر راس چائلڈ کو پیش کیا گیا۔

نومبر 1918 میں جنگ عظیم اول کے با ضابطہ طور پر خاتمے کے صرف دو ماہ بعد ہی جنوری 1919 میں فاتح ممالک نے نئے مقبوضہ علاقوں پر، جن میں سے اکثریت خلافت عثمانیہ کے علاقوں کی تھی، اپنے قبضوں کو مستحکم کرنے کی غرض سے پیرس میں امن کانفرنس کے نام سے ملاقاتیں کرنا شروع کیں۔ جنگ عظیم اول کے نمایاں فاتح ممالک برطانیہ، فرانس، امریکہ، اٹلی اور جاپان کے درمیان یہ ملاقاتیں جولائی 1923ء تک جاری رہیں اور اس ساڑھے چار سال کے عرصے کے دوران وہ اس مقصد کے لئے 145 بار ملے۔ یعنی اوسطاً ہر ۱۰ دن کے بعد ساڑھے چار سال تک مسلسل ملتے رہے! ان ممالک کے نمائندوں کا بین الاقوامی سطح پر یوں آپس میں اس تکرار کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کے لئے بار بار اکٹھا ہونا جبکہ اس زمانے میں مواصلات اور نقل مکانی کے ذرائع بھی آج کی نسبت اتنے ترقی یافتہ نہ تھے، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مسلم مقبوضہ علاقوں کے اس آپسی بٹوارے کے عمل کی تکمیل کے لئے انہوں نے کس قدر محنت اور وسائل صرف کئے۔

انہی ملاقاتوں کے دوران جنگ عظیم اول کے ان فاتح ممالک نے 10 جنوری 1920 کو “لیگ آف نیشنز “کے نام پر ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کیا تا کہ ان قبضوں کو بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ ایک قانونی رنگ دیا جا سکے اور مستقبل میں ان کے خلاف کوئی ملک آواز نہ اٹھا سکے۔ پھر انہی ممالک نے “لیگ آف نیشنز ” کے روپ میں فلسطین پر برطانیہ کے قبضے کو قانونی شکل دیتے ہوئے فلسطین کے لئے برطانوی مینڈیٹ کا اعلان کیا اور اس مینڈیٹ میں یہ واضح طور پر شامل کیا کہ برطانیہ اپنے بیلفور اعلامیہ کی پاسداری کرتے ہوئے فلسطین میں یہودیوں کی مستقل رہائش گاہ آباد کرے گا لیکن دوسرے ممالک سے آنے والے ممکنہ رد عمل سے بچنے کے لئے جھوٹی تسلی کے طور پر اس مینڈیٹ میں یہ لکھ دیا گیا کہ برطانیہ یہ کام فلسطینیوں کے شہری اور مذہبی حقوق کو متاثر کئے بغیر کرے گا۔ یوں برطانیہ کی فلسطین میں حکومت قانونی طور پر قائم ہو گئی جو کہ 1948 تک جاری رہی۔ اس تمام عرصے کے دوران برطانیہ نے یہودیوں کی فلسطین میں بڑے پیمانے پر امیگریشن کرائی ۔ 1922 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق اس وقت فلسطین میں 78 فیصد مسلمان آباد تھے اور یہودی صرف 11 فیصد تھے۔ جبکہ آج یہودی اکثریت میں ہیں جو اکثر علاقوں پر قابض ہیں اور مسلمانوں کے علاقے نہایت محدود ہیں اور ایسی کھلی جیلوں کی مانند ہیں کہ جن کے چاروں اطراف پر اسرائیل کی فوجیں خونخوار درندوں کی مانند اپنے اگلے حملے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔

سال 1939 سے 1945 تک جاری رہنے والی دوسری جنگ عظیم میں چونکہ لیگ آف نیشنز کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا کیونکہ یہ ادارہ اس جنگ کو روکنے میں کوئی مثبت کردار ادا نہ کر سکاتھا اور بالکل غیر فعال ہو چکا تھا تو مغربی ممالک نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اس جنگ کے اختتام کے تقریباً دو ماہ بعد ہی اکتوبر 1945 کو اسی جیسے ایک اور ادارے یعنی یونائیٹڈ نیشنز ( اقوام متحدہ) کو قائم کیا۔ 1939 میں برطانیہ نے 10 سال کے اندر فلسطین سے نکلنے کا اعلان کر دیا تھا اور برطانوی پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کیا تھا کہ فلسطین پر برطانیہ کے مینڈیٹ کا اختتام 14 مئی 1948 کو ہو گا۔

اقوام متحدہ نے برطانیہ کے مینڈیٹ ختم ہونے کی تاریخ سے چند ماہ قبل 29 نومبر 1947 کو فلسطین سے متعلق ایک متنازعہ قرارداد پاس کی جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ فلسطین پر برطانیہ کے مینڈیٹ کے اختتام کے بعد فلسطین کی سر زمین پر یہودیوں اور عربوں کی الگ الگ ریاستیں قائم کی جائیں گی جبکہ یروشلم کو ایک الگ بین الاقوامی حکومت کی حیثیت دی جائے گی۔ مسلمانوں نے اس قرار داد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فلسطین میں ایک بار پھر خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا۔ لیکن اقوام متحدہ کی اس قرارداد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی حکومت کے فلسطین پر مینڈیٹ کے اختتام کے آخری روز یعنی 14 مئی 1948 کو فلسطین میں موجود یہودیوں کی قیادت نے باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا کہ رات 12 بجےکے بعد 15 مئی 1948 کو اسرائیل کی ریاست کا قیام عمل میں آ جائے گا۔ یہودی قیادت کی جانب سے یہ اعلان ان کے مایہ ناز راہنما ڈیوڈ بن گوریان نے کیا جو پھر اس قائم ہونے والی اسرائیلی ریاست کا پہلا وزیر اعظم منتخب ہوا۔

یوں برطانیہ ، فرانس اور امریکہ نے مل کر سب سے پہلے لیگ آف نیشنز کے ذریعے فلسطین پر برطانیہ کے نا جائز قبضے کو قانونی جواز فراہم کیا ۔ پھر برطانیہ نے اپنی کاوش سے یہودیوں کی فلسطین میں بڑے پیمانے پر امیگریشن کرا کے انہیں باقاعدہ طور پر وہاں آباد کیا اور نہ صرف یہ، بلکہ یہودیوں کے مسلح گروہوں جیسا کہ ہگانا، لیہی اور ارگون وغیرہ کی مسلح معاونت بھی کی اور ان کو اپنی افواج کے ساتھ ملا کر فلسطینی مسلمانوں کے جان و مال کاخوب استحصال کیا جیسا کہ خصوصاً 1936 سے لے کر 1939 تک ہونے والی تین سالوں پر محیط خانہ جنگی کے دوران ہوا۔ اور پھر آخر میں اقوام متحدہ نے دو ریاستی حل منظور کرتے ہوئے یہودیوں کی باقاعدہ ایک ریاست کا اعلان کر کے فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کے اس نا جائز قبضے کو قانونی قرار دے دیا۔

آج ایسے ہی دو ریاستی حل کا مسلمانوں کی جانب سے بھی پرچار کیا جا رہا ہے جیسا کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے 19 اگست 2020 کو برلن میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کو تب تسلیم کرے گا جب وہ فلسطین کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر لے گا۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی اسی دن ایک ٹی وی چینل کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ فلسطین کو آزادی نہ دے دے۔ لہٰذا آج اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو آزاد کرنے یا فلسطین کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کو مسلمانوں کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ وہ حل ہے جو یہودیوں کے فلسطین کی سرزمین پر نا جائز قبضے کی تصدیق پر مبنی ہے جو کہ سرا سر ایک غلط قبضہ ہے ۔ یہ حل فلسطینی مسلمانوں کے سو سال سے بہتے ہوئے خون کو رائیگاں کر دینے پر مبنی ہے۔

مسٔلہ فلسطین کا اصل حل یہ ہے کہ مسلمان حکمران فلسطین کی پوری سرزمین کو اس ظالمانہ قبضے سے آزاد کرا کر اس پر ایک اسلامی حکومت قائم کریں جس میں یہودیوں کو اس ریاست کے غیر مسلم شہریوں کی حیثیت سے رہنے کی اجازت حاصل ہو اور وہ امن کے ساتھ اپنے مذہب پر چلتے ہوئے اپنی عبادت گاہوں میں اپنی عبادات کر سکیں ،جیسا کہ خلافت عثمانیہ کے دور میں ہوا کرتا تھا جب فلسطین اس مرکزی اسلامی ریاست کا ایک حصہ تھا اور اس میں مسلمان ، یہود، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ پر امن طریقے سے ایک ساتھ زندگی بسر کیا کرتے تھے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

غزالی فاروق پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں، حالات حاضرہ کے مطالعے کے بعد لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.