8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!

1,167

آج 8 اکتوبر کا دن 2005 میں بچھڑنے والوں کی یاد کے زخم پھر سے ہرے کرنے آ موجود ہوا۔ وہ مائیں، باپ، بہنیں، بھائی سب جیسے کچھ ہی لمحے پہلے ساتھ ہی تو تھے اور پھر زلزلہ آیا تو زندہ چلتے پھرتے انسان لمحوں میں لاشوں میں تبدیل ہو کر رہ گئے، زمین پر تباہی کیا آئی کہ اپنوں کی جدائی کا درد ہمیشہ کیلئے سینے چھلنی ہونے کا کرب دے گیا۔ قدرتی آفات میں زلزلہ ایسی آفت ہے جوکرہ ارض واہی، بربادی لاتا ہے۔ دُنیا میں ابھی تک کوئی ایسانظام ایجاد نہیں ہو ا جس سے زلزلہ کا پیشگی پتہ چل سکے۔ بیسویں اوراکیسویں صدی میں کئی تباہ کن زلزلے آئے جولاکھوں جانوں کو لقمہ اجل بنا گئے۔

زلزلوں کا مختصراً احوال یوں ہے: 1920ء میں چین میں زلزلہ میں دولاکھ پینتیس ہزارافراد ہلاک ہو ئے،1921ء میں چین ہی میں دولاکھ افراد جان سے گئے، 1923ء میں جاپان کے شہر کالا ہاما میں ایک لاکھ چالیس ہزار القمہ اجل بنے، 1935 میں پاکستان کے شہرکوئٹہ میں ساٹھ ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، 1980ء میں اٹلی کے زلزلہ میں تراسی ہزار افراد ہلاک ہوئے،2001 میں ہندوستان کے شہر گجرات میں چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے، 2004 میں سونامی سے ہندوستان، انڈونیشیاء، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں دولاکھ افراد لقمہ اجل بنے تھے۔2005 میں آزاد کشمیر میں قیامت خیز زلزلہ میں کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 70 ہزار افراد شہید ہوئے تھے۔ ابھی وہ زخم ہرے ہی تھے کہ میرپور آزاد کشمیر زلزلہ سے لرز اٹھا جس سے26 افراد جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ شاہراہیں کھنڈرات بن گئیں، کئی گھر ویران ہوئے، رہی سہی کسر آفٹر شاکس نے نکلا دی۔

8 ا کتوبر 2005 کو کوہ ہمالیہ اور ہندوکش کے ان پہاڑوں سے اٹھنے والے لہروں نے تباہ کن شکل اختیار کی جس میں زلزلے کی شدت 8.3رہی، اس زلزلے میں اگلے کچھ منٹوں کے اندر سب کچھ لتاڑ کر کے رکھ دیا کسی کو کیا خبر تھی کہ صرف تین منٹ تک چلنے والی یہ لہریں (اور اسکے 1500 آفٹر شاکس) مشرق سے مغرب تک کی دنیا کو مسمار کر دے گی۔ انسان، حیوان، بلند عما رتیں، دیدہ ور شکلیں خاک و خاشاک میں مل جائے گی۔ اس زلزلے کی وجہ سے کہیں پر انسان کے مایہ ناز بدن کئے دن تک عمارتوں کے ملبے کے اندر پڑے رہے تو کہیں پر انسان کو سریا و سیمنٹ، اینٹوں، پتھروں اور درختوں نے گھیر لیا تھا۔ آبادیاں سیکنڈوں کے اندر سنسان ہوئیں، سڑکیں کھنڈرات میں بدل گئیں، رسد کے تمام راستے بند ہوئے۔ رمضان کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں تک امدادی اہلکار نہ پہنچنے کی وجہ سے بہت سارے لوگ لقمہ اجل بنے۔ زلزلہ زدہ علاقوں پر آج بھی موت کے سائے منڈلا رہے ہیں جہاں دہشت وحشت، خوف اور تباہی و بربادی کی وجہ سے آج بھی یہ علاقہ کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

اس زلزلے کو کسی نے قیامت کا نام دیا تو کسی نے حشر کا، زلزلے سے ڈرے ہوئے لوگ آج بھی اس قیامت خیز لمحات کو یاد کرکے اپنے لخت جگر اور پیارے یاد کرتے ہیں تو خون کے انسوں روتے ہیں۔ اس قیامت خیز زلزلے میں زیر زمین ملبے کے اندر پڑے ہوئے لاشوں کا نکا لنا ایک دشوار مرحلہ تھا تو چیختے چلاتے ہوئے انسانوں کے کٹے ہوئے اعضاء کو ٹٹولنا اس سے بھی بڑھ کر امتحان تھا۔

زلزلوں میں مالی نقصانات کا تخمینہ کھربوں ڈالرز میں تھا، 26 اکتوبر 2015 میں پاکستان میں 8.1شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے خیبر پختون خوا کے ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقہ اور باجوڑ ایجنسی میں 270 تک لوگ شد ید اور 1000کے قریب زخمی ہونے کے ساتھ ہی اربوں کی مالیت املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس وقت دُنیا بھر میں روائتی جنگوں کا تصور بدل رہا ہے، اب معاشی واقتصادی جنگیں لڑی جارہی ہیں، خلا میں بالادستی قائم کرنے والی قوم ہی اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کرسکتی ہے۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ایک نئی جہت پیدا کی ہے۔ ابھی تو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا آغاز ہے، یہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچے گی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کائنات کا سارا نظام ہی لہروں سے چل رہا ہے، ہر ستارے اور سیارے کی حرکت سے جوارتعاش پیدا ہورہا ہے اسکے اثرات ہماری زمین اور دوسرے سیاروں پر بھی پڑتے ہیں اب سائنس ان بنیادوں پر کام کر رہے ہیں کہ جس کا قرآن پاک میں بھی ذکر ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید ریسرچ میں عبور حاصل کرنا غیر مسلموں کا اثاثہ نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی میراث بھی ہے اور فرض بھی، اسلام کے وہ بنیادی تصورات اور تعلیم جس سے تقریباً ہر مسلمان واقف ہے، جدید ریسرچ پر ہی زور دیتے ہیں۔

ہماری کہکشاں گلیکسی وے میں سورج جیسے اربوں ستارے ہیں، ان کے اپنے نظام شمسی ہیں۔ سورج سے ہزاروں گُنا بڑے ستارے بھی ہماری کہکشاں میں موجود ہیں۔ہماری کہکشاں سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں گُنا بڑی کئی کہکشائیں دریافت ہوچکی ہیں۔ کائنات میں کھربوں میل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

سب سے پہلے انسان نے اپنی بنیادی ضروریات پر توجہ دی۔ دھاتوں کو اپنے استعمال میں لایا پھر آہستہ آہستہ سائنسی ایجادات کی دُنیا میں داخل ہوا اب ہر لمحہ نِت نئی ایجادات ہو رہی ہیں، مگر یہ سارا علِم وہ ہے کہ جو آدم کو اللہ کا نائب ڈکلیئر کرنے سے پہلے ہی عطا کر دیا گیا تھا۔

اسلام کے اولین دور میں ہی علِم جفراور دوسرے علوم کے ساتھ مسلمان سائنسدانوں نے سائنس پر ریسرچ کرنی شروع کی۔ مسلمان سائنسدانوں کی اس سائنسی ریسرچ کا تعلق روحانیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جب تک مسلمانوں نے سائنس کو دین اور روحانیت کا حصہ سمجھا وہ علِمی اور سائنسی ترقی میں دوسری اقوام سے بہت آگے نِکل گئے۔

نیل آراسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو اسے شِرک قرار دیا اور کہا کہ سورج چاند اللہ تعالیٰ کے پوشیدہ راز ہیں بھلا کوئی وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے مگر اب سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ کائنات کی وسعت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ کہکشائیں دریافت ہوچکی ہیں۔ کائنات میں کھربوں میل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

جوہری سائنسدانوں نے انتہائی خوفناک اور شدت کے ساتھ زلزلے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ یہ اس قدر خطرناک ہوگا کہ براعظموں کو جدا کردیگا اور اس سے کروڑوں لوگ ہلاک ہوجائینگے۔ شمالی اور جنوبی امریکہ کے براعظم ٹوٹ کے الگ ہوجائینگے۔ میگا سونامی کے ٹکرانے سے امریکہ اور ایشیاء میں تقریبا 4کروڑ افرادہلاک ہوسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن میں جوہری انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ بھی کیا کہ یہ سونامی اور زلزلہ اس قدر شدید ہوگا کہ صرف امریکہ کے مغربی ساحل پر 2 کروڑ افرادہلاک ہو سکتے ہیں۔

انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنس دانوں نے Svalbardنامی جزیرے میں تمام جینز کو محفوظ کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ ”سوالبارڈ“ نارتھ پول اور ناروے کے بیچ میں واقع ایک ٹھنڈا جزیرہ ہے۔ یہ دُنیا کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ اس کا درجہ حرارت ہمیشہ منفی ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس میں ”حفاظتی تہہ خانہ“ بنایا گیا ہے۔

یہ سمندر کی سطح سے 130 میٹر بلند ہے۔ جو کسی بھی سمندری آفت یا سطح سمندر کے بڑھنے کے خطرات سے محفوظ رہے گا۔ اس میں تین والٹس بنائے گئے ہیں جن میں 15 لاکھ بیجوں کے سیمپلز فی والٹ رکھے جاسکتے ہیں۔ مجموعی طورپر 45 لاکھ نمونے رکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں کا درجہ حرارت منفی 18 ڈگری رکھاجائے گا جوکہ ان بیجوں اور جینز کی عرصہ دراز تک حفاظت کیلئے ضروری ہے۔

19 جون 2006ء کو اس گلوبل سیڈ والٹ کا سنگِ بنیاد ناروے، سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک اور آئی لینڈ کے وزرائے اعظم نے رکھا تھا اور 26 فروری 2008ء کو اسے مکمل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دُنیا میں 60 لاکھ مختلف اقسام کے بیج مختلف ملکوں کے جینز بینکوں میں محفوظ ہیں لیکن یہ تمام بینک قدرتی آفات اور نیوکلیئر جیسے خطرات محفوظ نہیں جس کے باعث ان کی بقا یقینی نہیں۔

ان خطرات کے پیش نظر سائنس دانوں کی ایک کمیٹی اس بات پر متفق ہوئی ہے کہ ہمیں اس بنیادی ضرورت کی حفاظت اور بقا کیلئے ”کرہ ارض پر بدترین صورتِ حال“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے جس میں کوئی بہت بڑی قدرتی آفت کی وجہ سے یا نیوکلیئر وار کی وجہ سے کسی ملک یا خطے کی زمینی پیداواری صلاحیت کا یکسر ختم ہوجانا کوئی خاص بیج کی نسل کا دُنیا سے یکسر ختم ہوجانا جیسے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی انتہائی جدید اور محفوظ انتظام کرنا ہوگا۔

فضا میں اس قدر آلودگی ہے کہ سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات وارضیات کے مطابق آئندہ سالوں میں شدید گرمی، حبس اور سردی ہوگی۔ دُنیا تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف جارہی ہے۔ سبھی متفق ہیں اگر اب تیسری عالمی جنگ ٗجو کہ ایٹمی جنگ ہوگی ٗچھڑگئی تو اتنی تباہی آئے گی کہ شاید حضرت نوحؑ کے دور کی طرح پوری دنیُا ختم ہوکر رہ جائے۔ ماہرین کی مختلف رپورٹوں کے مطابق آنے والے وقتوں میں خوفناک زلزلے، سیلاب، آندھی طوفان اور تباہی بھی آسکتی ہے۔

امریکہ، یورپ، ایشیاءٗ پاکستان اور کشمیر سمیت پوری دُنیا میں ہولناک طوفان اور زلزلے آ بھی چکے ہیں۔ ایک سائنسی نقطہ نظر تو دوسری حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”زمین اور آسمان میں جو فساد ظاہر ہوتا ہے اس کا سبب انسانوں کے اپنے اعمال ہی ہیں۔“ انسان جیسے اعمال کرتا ہے ویسے ہی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے حوادث کے ذریعے اللہ تنبیہ کرتے ہیں کہ توبہ اور رجوع کریں۔ آپ ﷺ کے زمانے میں زمین ہلنے لگی تو آپ ﷺ نے زمین پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”ٹھہر جا! ابھی قیامت کا وقت نہیں آیا۔“ اور پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: ”اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور معافی مانگو۔“

اللہ تعالیٰ شہدائے زلزلہ زدگان کو بلندی درجات عطا فرمائیں، لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور اجر عظیم عطا فرمائیں۔ اس کے ساتھ یہ دن اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ ہم نے اس سے کیا سیکھا؟

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.