انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

1,547

مشہور فرانسیسی مفکر والٹیر کا کہنا ہے کہ “آپ جو کہہ رہے ہیں میں اس سے قطعی متفق نہیں لیکن آپ کے کہنے کے حق کیلئے میں اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہوں۔” آج سوشل میڈیا کا دور ہے، ہم میں سے ہر ایک آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے لیکن ہمیں اظہارِ رائے اور اظہارِ تذلیل میں فرق کا کماحقہ علم ہے نہ ہی ہم اس کے قانونی پہلو سے متعلق علم رکھتے ہیں کہ آزادی رائے اور تذلیل کی کیا حدود و قیود ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان تقریر و تحریر میں آزاد ہے اور کسی بھی فکر و نظریہ، عمل اور نظام کے بارے میں اپنا ایک خاص نقطہ نظر قائم کر سکتا ہے، کسی بھی فکر و نظریہ یا عمل کی حمایت کر کے اس کی ترویج کر سکتا ہے یا پھر تنقید کرنے سے اس کی اصلاح یا اس سے یکسر منحرف ہو جانے کا بھی حق رکھتا ہے۔ آزادی رائے انسان کا بنیادی اخلاقی حق ہے جس سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ حق شعور کو پروان چڑھا کر بہت سارے مسائل کو سلجھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق کے نئے ابواب سے روشناس کرواتا ہے۔ اجتماعی شعور سے اخذ کی گئی متنوع قسم کی آراء جب باہم ملتی ہیں تو وہ اجتماعی مفاد پر متنج ہوتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی بنیاد یہ تسلیم کرنے میں ہے کہ لوگوں کا زاویہ نظر مختلف ہوتا ہے اور ان کی جانب سے کسی بھی تصور کے حوالے سے کی جانے والی تشریح مختلف ہو سکتی ہے، یہ معاشرے کا حسن اورکرشمہ قدرت ہے۔

س“اظہارِ رائے کی آزادی” کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو بھی کھل کر اپنا نقطہ نظر بیان کرنے، سوال اٹھانے، اختلاف رائے اور مثبت تنقید برائے اصلاح کی اجازت تو ہے لیکن دوسرے کی تذلیل اور کردار کشی کرنے اور دوسروں پر تہمتیں لگا کر اس کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اظہار رائے کی آزادی میں تنقید کا حق بجا ہے لیکن یہ خیال اشد ضروری ہے کہ جہاں تنقید کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے ہی تذلیل کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اور کسی کی تذلیل کرنا ہر معاشرے میں برا عمل گردانا جاتا ہے۔ کئی لوگ تنقید کرتے کرتے تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں۔ کسی کی عزت کو داغدار کرنے، کسی کی توہین کرنے، کسی کے مذہب، مسلک و فرقے اور کسی کی محترم شخصیت پر انگلی اٹھانے کو رائے کی آزادی سمجھتے ہیں ٗ پھر ہم تعلیم میں کم، اس فیلڈ کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود ایک ڈاکٹر، دانشور ٗ یا اداروں کی تذلیل کرنے کو اپنا حق گردانتے ہیں حالانکہ یہ آزادی رائے کے اخلاقی حق کی کھلی خلاف ورزی اور ان کی شعوری پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی نہیں دی جاتی جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہوں۔ ہر معاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اظہار رائے کی حدود مقرر کی ہیں۔ جرمن مفکر ایمانویل کانٹ نے یہ کہہ کر آزادیوں کی حد بندی کے لئے ایک قائدہ اور اصول فراہم کیا: “میں اپنے ہاتھ کو حرکت دینے میں آزاد ہوں لیکن جہاں تمہاری ناک شروع ہوتی ہے، میرے ہاتھ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے۔”س

نیوزی لینڈ کے بروز کے مطابق آزادی اظہار کے مہیا کرنے کے عمل میں توازن برقرار رکھنا مشکل ترین امر ہے۔ وہ کہتے ہیں:س
س“اگر آپ معقول حد تک کنٹرول نہیں کرتے تو یقیناً لوگوں کو صدمہ پہنچ سکتا ہے اور اگر آپ بہت زیادہ آزادی دیں تو آپ معاشرے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آپ افراد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر بہت سی پابندیوں کا شکار ہوں گے تو عوام کو مطلوبہ اطلاعات میّسر نہیں ہوں گی۔ اِس قانون کا یہ حصّہ بے اندازہ مشکلات رکھتا ہے جہاں اس توازن پر پہنچا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے مخالف تموجات پائے جاتے ہیں۔ بہت سے اہم مفادات پیوستہ ہوتے ہیں، صحیح ترین توازن پر پہنچنا کہ جوہر ایک کو خوش کر سکے بدیہی طور پر ناممکن ہے۔”س

البرٹ آئن سٹائن لکھتے ہیں: “ہر تخلیق واقعتا عظیم ہے اور جوش و جذبے کو اُبھارتی ہے اگر تخلیق کار آزادی کے ساتھ تخلیقی مشق میں کوشاں رہتا ہے۔”س

اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 1966 میں پاس کی گئی ایک قرار داد (آئی سی سی پی آر) کے مطابق ضروری ہے کہ کوئی بھی ایسی تقریر یا تحریر جو کسی ملک میں رہنے والے کسی بھی فرد یا گروہ کی مذہبی، قومی یا نسلی مخالفت یا دل آزاری کا سبب بنے اور ان کے خلاف نفرت یا حقارت کا اظہار کرے تو اس ملک کا فرض ہے کہ اس کو روکے اور اس کے خلاف قانون سازی کرے، جبکہ متعدد یوپین ممالک میں آزادی اظہار رائے پر بہت سی پابندیاں ہیں۔

ان سب سے اہم اسلام میں بھی اظہار رائے کے لیے حدود کا تعین ہے۔ سورہ حجرات میں اظہار رائے کی حدود بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کسی کا تمسخر نہیں کرسکتا، کسی کی غیبت نہیں کرسکتا، کسی پر بہتان، الزام تراشی یا کسی کی ذاتی زندگی کے عیب نہیں ٹٹول سکتا ٗ حتی کہ کسی کو برے نام اور القاب سے نہیں پکار سکتا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے ہر معاملے میں انسان کو ایسے قوانین عطا کیے ہیں۔

یہاں تک کہ اسلام میں وہ اشارہ بھی حرام قرار دیا گیا ہے جس سے کسی انسان کی دل آزاری ہو۔ پھر تہمت، الزام لگانے پر سخت سزاوں کی خبر دی گئی ہے۔ بے شک تنقید برائے اصلاح معاشرے کی بہتری کے لیے ناگزیر لیکن تنقید برائے تذلیل یا تنقید برائے تنقید، معاشرتی بگاڑ کا موجب ہے۔ انفرادی مفادات کی بنیاد پر اپنے ہی اداروں، ملک و قوم کا تمسخر اڑانا، تحقیر کرنا کسی بھی مہذب معاشرہ کی پہچان نہیں۔ مسلمان، مسلمان کا آئینہ ہے وہ اسے بہتر انداز میں اس کی خامیاں دکھا سکتا ہے مگر تذلیل کا حق قطعی نہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ انسانی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہر انسان اپنے من کی بات پوری آزادی سے کرے اگر یہ حق سلب کرلیا جائے توانسانی زندگی سے لطف اورمسرت ختم ہوجائے۔

انسانی خوشی، مسرت کو دوبالا کرنے کے لیے یہاں بھرپور آزادی دی گئی ہے۔ آزادی اظہارِ رائے کا مقصد خیرخواہی کو پروان چڑھانا ہے۔ باہمی گفتگو اور مشاورت کے ذریعے معاشرے کے مفادات کا تحفظ کرنا اور انسانی قدروں کو پامال ہونے سے بچانا ہے۔ آزادی اظہارِ رائے کا مقصد ہے انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے انسانی عظمت کوفروغ دینا اور ان تمام امور کو رد کرنا جن کی وجہ سے انسانی قدریں پامال ہوتی ہیں۔ معاشرے میں نیکی کو پروان چڑھانا اور منکرات، فحش اور دروغ گوئی اور برائی کے سامنے دیوار کھڑی کرنا ہے۔ تنقید اور تذلیل میں فرق ہے اور یہ فرق برقرار رہنا چاہیے۔ اعتراض، دشمنی و بغض ایک جیسے نہیں اس لیے انہیں یکجا کسی بھی طور پر نہیں کیا جانا چاہیے۔ رائے، کرادر کشی، بہتان تراشی ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ اگر ان میں فرق مفقود ہو جائے سلیقہ اور تدبر نہ ہو تو تنقید تباہی کا موجب ہے۔ ضرب کلیم میں اقبال فرماتے ہیں:س

آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی، رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار، انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.