ہم انسانیت تلاش نہ کر سکے!

948

بھلائی اور برائی برابر نہیں، اگر کوئی برائی کرے تو اس کا جواب اچھائی سے دو، پھر تو تیرے اور جس کے درمیان دشمنی ہے وہ ایسا ہو جائے گا گویا دوست ہے ناتے والا اور یہ بات ملتی ہے انہی کو جنہیں صبر ہے اور یہ بات ملتی ہے اس کو جس کی بڑی قیمت ہے۔(ترجمہ)۔ عدم برداشت سے مراد وہ منفی رویہ ہے کہ جب کسی کی رائے، سوچ یا نقطہ نظر سے آپ کو اختلاف ہو توآپ اس سے اختلافِ رائے برداشت نہ کر سکیں۔ یعنی اپنی ذات کی موافقت کے خلاف آپ کسی مختلف چیز کو پسند نہ کرتے ہو اور اس کے نتیجے میں آپ کا ردعمل اخلاقی حدود سے تجاوز کر جائے۔

انسانی معاشرے میں خرابی اور بد امنی کا پودا خود ہی نہیں اُگتا بلکہ یہ بععض انسانوں کی اپنی غلطی کی وجہ سے وجود میں آتا ہے اور علم و دلیل کے ساتھ بات کو چھوڑ کر اَنا کی رٹ سے یہ بڑا ہو کر تناور درخت بن جاتا ہے جس کی جڑیں انسانی معاشرے میں پھیل کر اسے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ آج ہر طرف لڑائی، جھگڑے، فسادات کا عفریت ہے۔ انسانیت کا احترام انتہائی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر قتل و غارت گری تک کی نوبت آن پہنچی ہے۔ یہ سب کچھ ہمیں کس تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، اس کا ہمیں احساس تک نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے کی صورت حال منٹو کی تحریر سے لگائی جا سکتی ہے:

”انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ قسم ہے جو اپنے زخموں سے درد کا اندازہ کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان انسانوں کی ہے جو دوسروں کے زخم دیکھ کر درد کا اندازہ کرتے ہیں۔ درد اور اس کی تہ کی جلن کو وہ انسان صحیح طور پر محسوس کرسکتا ہے جن کو زخم لگے ہوتے ہیں۔ فلموں میں اصل کی اچھی نقل وہی اتار سکتا ہے جسے اصل کی واقفیت ہو۔ ناکام محبت میں دل کیسے ٹوٹتا ہے، یہ ناکام محبت کرنے والا اچھی طرح بتا سکتا ہے۔ وہ خاتون جو پانچ وقت جائے نماز بچھا کر نماز پرھتی ہے اور عشق ومحبت کو گناہِ عظیم تصور کرتی ہے، کیمرے کے سامنے کسی مرد سے اظہارِ محبت کیا خاک کرے گی“.

معاشرے کو بحثیت مجموعی دیکھا جائے تو ہمارے اندر سے احساس ہی ختم ہو چکا، دوسروں کی تحقیر، غیبت اور بہتان تراشی جیسی بدترین عادات انتہائی عام ہو چکی ہیں۔ اہل علم جن کی ہاتھ میں ڈگریاں ہیں، وہ بھی بنیادی اخلاقیات سے عاری ہیں۔ ہم جامعات، کالجوں میں ایک عرصہ گزارنے کے باوجود اخلاقیات سے کوسوں دور ہیں۔ اخلاقیات کے حوالے سے باقاعدہ کسی مضمون کی عدم موجودگی بھی معاشرتی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ لوگوں میں برداشت کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، اسی سبب کسی بھی قسم کے علمی و نظریاتی اختلاف کو برداشت نہیں کر پاتے۔ بات بات پر انسانیت کی تذلیل اور فساد برپا کرنا عام سی بات ہے۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر کمنٹس پر بھی لڑائیاں ہماری اخلاقی تنزلی کا ثبوت ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی ذہنی تربیت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک انسانی و عمرانی علوم کی ترقی نہ ہو۔ جب تک معاشرتی و انسانی نظریات کو معاشرے میں رائج نہیں کیا جاتا اس وقت تک معاشرے میں برداشت نہیں بڑھے گی۔ مغرب میں برداشت کی ایک بڑی وجہ وہاں سماجی و انسانی علوم کا رائج ہونا ہے۔ ہمارے ہاں ان علوم کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ٗ یہ علوم تعلیمی اداروں میں ان افراد کے لئے مختص ہیں جن کو کہیں بھی داخلہ نہیں ملتا، نتیجتاً ان علوم میں نظریاتی و فکری ارتقاء کا فقدان نظر آتا ہے۔

کسی بھی معاشرے کی ذہنی و فکری بلندی کا اندازہ اس معاشرے میں انسانی علوم کے ماہرین یا اسکالرز کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ ہمارے نوجوان معاشی فوائد کی وجہ سے چند مخصوص علوم پڑھنے پر توجہ دیتے ہیں۔ مہذب دُنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر ہم اب بھی پرانی ڈگر پر پرانی ریت و رواج کو اپنائے گزرے کل میں جی رہے ہیں، پتھر کا زمانہ ہزاروں برس پہلے گزر چکا مگر ہم پھر بھی اسٹون ایج میں گزر بسر کررہے ہیں۔

آخر وہ صبح کب طلوع ہو گی جب ہم بھی مہذب دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مغربی اقوام ہماری اقدار کی نقل کر کے چاند پر پہنچ چکیں، خلاء کی سیر اور مریخ پر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہی ہیں۔ ہمارے رہبر ﷺ جنہوں نے پتھر کا جواب دعا سے دیا، کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کی عیادت کی، با ایں ہمہ ہم ابھی تک انسانیت بھی تلاش نہ کرسکے، آخر وجہ کیا ہے؟ ہم کہاں جارہے تھے، ہم کہاں پہنچنے والے ہیں؟ حوا کی بیٹیاں عزت بچانے کی فکر میں خود کشیاں کر رہی ہیں، نوجوان حالات سے دلبرداشتہ ہو کر موت کو گلے لگا رہے ہیں، یہ سب کیا ہے؟ تربیت کا فقدان؟ سوشل میڈیا، ڈراموں کی تہذیب، روشن خیالی، برداشت کا فقدان، احساس کمتری؟ دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کا لالچ؟ یا پھر نفسا نفسی ہے؟

ہماری پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ ہمارا نفاق ہے، ہم اگر اس بے لگام گھوڑے کو قابو کرلیں تو ہمارے 90 فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں کیونکہ جب اخلاقی رویئے نہیں ہوتے تو بے چینی بڑھنے لگتی ہے اور یہی بے چینی طبیعت میں اضطراب کا باعث بنتی ہے۔ جس کے بعد انسان مایوسیوں کے ایسے صحرا میں اتر جاتا ہے جہاں نہ تو برداشت کے پھول کھلتے ہیں اور نہ ہی پیار و محبت کی بارش ہوتی ہے۔ برداشت اور مستقل مزاجی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے، اگر نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو جس بندے میں برداشت ہوگی وہ بلا کا مستقل مزاج بھی ہوگا۔ برداشت کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے تو مستقل مزاجی وہ اڑن کھٹولہ ہے جس میں اڑ کر انسان بام عروج تک پہنچتا ہے۔

کیا ہمارے معاشرے کو صحت مند معاشرہ کہا جاسکتا ہے؟ کیا یہاں شر میں خیر کے پہلو ٹٹولے جا سکتے ہیں؟ تنقید میں تعمیر کے عنصر شامل ہیں؟ اختلاف کو خندہ پیشانی سے سہا جاتا ہے؟ کیا یہاں آئینوں کا کاروبار نابیناؤں کے ہاتھ میں نہیں؟ ہم شاید بھٹکی ہوئی قوم ہیں جنہیں اخلاقی تربیت چاہیے جو اس طوفاں خیز وقت میں اس قوم کا ہاتھ تھام لے اور مایوسی کی بجائے اُمید کے خواب دے۔ اسی میں ہماری فلاح ہے، یہی ترقی کا راز ہے، دُنیاوی امثال ایک طرف، ہمارا دین اسلام بھی پھیلا تو اخلاق کی بنیاد پر، اور پھر بحثیت امت مسلمہ ہمیں اعلیٰ اخلاق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لینا چاہیے کہ ”اعلیٰ اخلاق کی بدولت جنت کی ضمانت دی گئی۔ اختلاف رائے حسن ہے معاشرے کی بہتری کا، اختلاف رائے سے خون کی ہولی تک کا سفر نہ کیجیے! بلکہ معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.