انصاف کا قتل اور عافیہ صدیقی

546

وطن عزیزپاکستان میں کتنی ہی سیاسی و مذہبی جماعتیں موجود ہیں جوکسی بھی کام کے لیے اگر بھرپور کوشش کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنی جدوجہد کے مطابق کچھ حاصل نہ کر سکیں۔ بہت سی ذمہ داریوں میں سے ایک ہماری برسر اقتدار حکومت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں پر ذمہ داری عائد ہے وہ ہے دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی۔ جب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی بے بنیاد الزام کی بنا پر پابند سلاسل ہیں، اس وقت سے وطن عزیز میں کئی حکومتیں آئیں اور اپنے اقتدار کے دن گزار کر چلی گئیں، لیکن عافیہ صدیقی کے لیے سوائے بیانات کے کوئی کچھ نہ کرسکا جو کہ ہمارے اقتدار میں بیٹھے افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آخرکیا وجہ ہے کہ ملک پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھے حکومتی افراد اور ہمارے ادارے اتنے ہی بے بس اور لاچار ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے ہم وطنو ں کی رہائی اور وطن واپسی کے لئے اقدامات نہیں کرتے؟

ہمارے حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ کوئی عام خاتون نہیں بلکہ وطن عزیز کا اثاثہ تھی ۔ انھوں نے امریکی یونیورسٹی سے آئی ٹی ٹیکنالوجی کے مختلف علوم میں گریجویشن اور پی ایچ ڈی بھی کی۔ دین اسلام سے محبت اور عقیدت اتنی کہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے وہ خاص ور پر امریکہ سے پاکستان آئی۔ شوق سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی، علوم اسلامیہ سے دلچسپ اس قدر کہ ان پ اچھی طرح عبور حاصل کیا اوری ان کی اضافی ق بلیت تھی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیق کی قابلیت کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گلستان شاہ لطیف اسکول سے لے کر پی ایچ ڈ کی ڈگری کے حصول تک، ان کا تعلیمی ریکارڈ بہترین اور قابل تعریف رہا۔ معا شرے کو مثالی بنانے اور اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے اسلامی نظامِ تعلیم سے انقلاب لانے کی جستجو رکھتی تھیں۔ سادہ الفاظ میں اگر یہ کہہ لیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ وہ تعلیم کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی تھیں۔

عافیہ بہت زیادہ خوبیوں کی مالک تھی، ان کو امریکہ نے الزا مات لگا کر2003ء میں گرفتار کر لیا اور باقاعدہ طور پر 23 ستمبر2010ء کو عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت کے متعصب جج نے بغیر ثبوت اور گواہوں کے دنیا کے عدالتی نظام پر سیاہ دھبہ لگا کر 86 سسال کی قید سنا د ی۔ اس امریکی عدالت کے فیصلے کو اگر “انصاف کا قتل” کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جب سے وہ پابند سلاسل ہے اسی وقت سے قوم کا دکھ درد رکھنے ولے عافیہ بہن کی رہائی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اپنے اپنے انداز میں عافیہ کی ظلم کی داستان بیان کرتے ہیں۔

باوجود اس کے ہر شخص، تنظیم، فاؤنڈ یشن اور اداروں کو اپنی استطاعت کے مطابق بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ بے گناہ سزا جلد ختم ہو جائے اور اس حوا لے سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افرد کو کردار ادا کرنا چاہیے، کیو نکہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔ اس ضمن میں ہمیں کیسے عافیہ مدد کرنی چاہیے۔ وہ اس طرح کہ عافیہ کے حق میں عالمی برادری کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔ اپنی تحریر، تقریر، ابلاغی، نثری اور شعری وغیرہ جس میں جیسے بھی کوئی اظہار یکجہتی کر سکتا ہے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ رب العزت اہل پاکستان کو وہ دن جلد ہی دیکھنا نصیب کرے جب عافیہ “اسلا ی جمہوریہ پاک ستان”میں آزا د ہو کر عظیم نعمعت “آزادی”س سرفراز ہو کر نسانس لے رہی ہوں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.