ووٹ کو عزت دو۔۔۔

338

‘ووٹ کو عزت دو’ کے نعرے کی ایک بار پھر گونج سنائی دے رہی ہے، اس دفعہ نواز شریف صاحب لندن سے بیٹھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عوام سے براہ راست مخاطب ہیں۔ پتہ نہیں اس بار یہ منجن بکے گا کہ نہیں لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں عوام اب ایسے پھیکے سیاسی نعروں سے تنگ آچکے ہیں۔ عوام اب حقیقی لیڈر کی تلاش میں ہیں جو ان کے 70 سال پرانے مسائل حقیقی طور پر حل کرے۔

معلوم نہیں عوام کو ان کا حقیقی لیڈر کب ملے گا لیکن یہ ضرور پتہ ہے کہ عوام کو موجودہ سیاسی لیڈروں کے حال اور ماضی کا اچھی طرح علم ہو گیا ہے کہ اب یہ لوگ اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان پارٹیوں کی جنگ عوام کے لیے بالکل نہیں بلکہ اپنی بچی کھچی سیاست بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں حالانکہ اس جنگ کا مملکت کو شدید نقصان ہو گا لیکن ان سیاستدانوں کو اس کی کچھ زیادہ پرواہ نہیں۔

جہاں تک بات نواز شریف صاحب کی ہے وہ سزا یافتہ ہیں، ملک سے علاج کی غرض سے باہر گئے لیکن اب وہ وہاں علاج کی بجائے سیاست کر رہے ہیں جو کہ ان کی اپنی سیاسی ساکھ کے لیے بھی اچھا نہیں ہے۔ انھوں نے لندن میں اپنا ٹوئٹر بھی کھول دیا ہے اب وہ وہاں سے ٹویٹ کیا کریں گے اس طرح وہ اپنی سیاست میں ان رہیں گے۔ نوازشریف صاحب نے اپنا پہلا ٹویٹ بھی یہی کیا ہے کہ ووٹ کو عزت دو، پتہ نہیں ان کا یہ پیغام کن کے لیے تھا، میرے خیال میں ان کا یہ پیغام حکومت کے لیے تو بالکل نہیں تھا۔

نواز شریف صاحب نے اے پی سی کے خطاب کے دوران بہت کچھ کہا، جو کچھ ان کے دل میں تھا وہ سب کچھ بول دیا۔ انھوں نے حکومت کو تو برا بھلا کہا سو کہا لیکن جو انھوں نے کہا کہ میری جنگ تو اس حکومت کو لانے والوں سے ہے۔ پتہ نہیں وہ لانے والے کون ہیں؟ نوازشریف صاحب نے اداروں کے بارے میں جو زبان استعمال کی ہے اس کو انڈیا کے میڈیا نے خوب اٹھایا ہے۔ انڈین میڈیا کے نیوز چینل اور اخبارات نے نواز شریف کا بیان سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ریاستی ادروں نے ملک میں ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی ہے، یہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

جہاں تک ریاستی اداروں کا کہنا ہے انہوں نے پیغام دیا ہے کہ ہمیں سیاسی نظریات اور سیاسی کاموں سے دور رکھا جائے، ہم بحیثیت ریاستی ادارہ کام کر رہے ہیں، جب بھی جہاں کہیں بھی ہماری ریاست کو ضرورت ہوتی ہے، ہر حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ہم جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہر حکومت کے ساتھ ہیں، ہم نے کبھی کسی سیاسی پارٹی کو اہمیت نہیں دی، ہمارے لیے سب سے پہلے ریاست پاکستان ہے۔

نوازشریف نے حب 2018 کے الیکشن کی بات کی ہے اس میں انھوں نے کہا کہ یہ دھاندلی زدہ الیکشن تھا۔ الیکشن والے دن آرٹی ایس بند کر دیا گیا، اس کاحساب بھی اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر کو دینا ہوگا۔ یہ سب باتیں نواز شریف صاحب پتہ نہیں کیوں کر رہے تھے، یہی باتیں جب عمران خان صاحب کر رہے تھے تو نواز شریف صاحب کو نا گوار گزرتی تھیں، اس وقت وہ ملک کے وزیراعظم ہوا کرتے تھے۔

عمران خان صاحب بھی یہی کہ رہے تھے کہ 2013کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تب نواز شریف صاحب حکومت میں تھے اور ان کے لیے سب کچھ ٹھیک تھا۔ جب یہ حکومت میں ہوتے ہیں تو سارے ادارے ٹھیک ہوتے ہیں، جیسے ہی یہ حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو سارے ادارے ان کو برے لگنے شروع ہو جاتے ہیں، تب ان کو جمہوریت بھی خطرے میں لگ رہی ہوتی ہے، نواز شریف صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود پسند بہت ہیں اور خود کوہی حقیقی عوامی اور جمہوری لیڈر سمجھتے ہیں۔ ماضی میں یہ جب حکومت سے باہر ہوتے تھے تو اس وقت کی حکومت کو ملک کے لیے سکیورٹی رسک سمجھتے تھے۔ اب بھی نوازشریف صاحب کا سیاست کا طریقہ کار وہی پرانا ہے، وہی پرانے گھسے پٹے الزام کہ ہمیں کام کرنے نہیں دیا جاتا، ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں حالانکہ ان کی اپنی پارٹیوں میں کوئی جمہوریت نہیں ہے، فیصلہ کرنے کی قوت ایک بندے کے پاس ہوتی ہے، ایک بندے کی لائن ہی پارٹی پالیسی ہوتی ہے، پوری جماعت ایک بندے پر چل رہی ہوتی ہے، عوام کو صرف مذاق بنایا جاتا ہے۔

نوازشریف فرماتے ہیں کہ ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے جس سے جمہوری عمل بے معنی رہ جاتا ہے۔ جمہوریت کی روح عوام ہے اور ملک کا نظام وہی لوگ چلائیں گے جنہیں عوام منتخب کرتے ہیں۔ نوازشریف صاحب، سیاسی لوگوں نے ہی تو جمہوریت کو مذاق بنایا ہوا ہے، ہر اپوزیشن جمہوریت کو تباہ کرنے میں لگی رہتی ہے اور حکومت وقت کو نیچا دکھانا اپوزیشن کا بنیادی ایجنڈا ہوتا ہے حالانکہ اپوزیشن کا کردار حکومت کوعوام کی فلاح کے لیے مائل کرنا اور کام کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں اپوزیشن ہمیشہ الٹ ہی چلتی ہے۔ اپوزیشن نے ہر اس کام میں روڑے اٹکانے ہوتے ہیں جو عوام کی فلاح کے لیے کیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اپوزیشن کا حکومت کو گھر بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کو چاہیے حکومت کو اداروں کی اصلاحات کرنے میں مدد دے اور اداروں کی بہتری سے ہی عوام کو ریلیف دی جا سکتی ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے، انھوں نے بھی ن لیگ کی حکومت کو کوئی کام نہیں کرنے دیا، دھرنے دیئے، ملک کو مالی نقصان پہنچایا جس سے ملک آگے نہیں بڑھ سکا۔

نواز شریف صاحب نے کہا اگر ووٹ کو عزت نہ ملی تو ملک مفلوج ہوکر رہ جائے گا، انھوں نے مثال دی کہ جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست ہے۔ اس ایک فقرے کی وجہ سے ان کو وزیراعظم کی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ فواد چوہدری صاحب نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ نواز شریف صاحب نے یہ تذکرہ ادھورا چھوڑا کہ کیسے ماضی میں ریاستی اداروں سے ساز باز سے سیاست میں اپنی جگہ بنائی وہیں وہ یہ بات بھی بتانا بھول گئے کہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف افتخار چوہدری کے کہنے پر وہ خود کالا کوٹ پہن کر عدالت پہنچ گئے تھے اب یہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا تھا ملک میں حقیقی جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے ہماری عالمی برادری میں ساکھ ختم ہورہی ہے، جس طرح نواز شریف صاحب منتخب ہوکر وزیراعظم بنے تھےویسے ہی عمران خان بنے ہیں۔ پاکستان کے اداروں کی تذلیل جس طرح 3 دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نے کی ہے شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کسی نے کی ہو۔ نوازشریف صاحب، آپ نے ہر ادارے کی توہین کی ہے، آپ نے جو کہا ہے ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ حکومتیں بنانے اور گرانے میں لگا رہتا ہے۔ اصل میں تو آپ نے اپنی سابقہ حکومتوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں کہ آپ تین دفعہ وزیراعظم کیسے بنے؟ آپ نے پاکستان میں ہونے والے ہر الیکشن پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

دیکھا جائے تو ایک طرف اپوزیشن نواز شریف کی صورت میں اداروں کے خلاف باتیں کرتی ہے، اگلے ہی دن بلاول اور شہباز شریف اداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، یہ سیاست میں منافقت کی نشانی ہے۔ پاکستان میں ایک ہی ادرہ ہے جو عوام کےدلوں میں بستا ہے آپ ان کو عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔ انھی اداروں سے ہی ملک کی بقاء ہے۔ آپ جب ملک کے اداروں کے ساتھ بغض رکھیں گے، ملک کے اداروں کو سیاست نظر کریں گے تو آپ ملک میں سیاست نہیں، ملک اور قوم کے ساتھ منافقت کر رہے ہیں۔

اے پی سی عمران خان کے خلاف نہیں ملک کے اداروں کے خلاف تھی، عمران خان نے اچھا کیا کہ اے پی سی کو میڈیا پر چلنے دیا جس سے ان سیاستدانوں کےچہرے عوام کے سامنے عیاں ہو گئے۔ یہ کہتے ہیں ملک میں جمہوریت نہیں، بھائی آپ نے ملک میں جمہوریت کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا ؟ آپ نے جمہوریت جیسے خوبصورت نظام کو عوام کی نطروں میں گالی بنا دیا ہے، سیاستدان ہی سیاسی اور جمہوری نظام کے خلاف ہیں۔ ملک میں جمہوریت کو چلنے ہی نہیں دیتے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہتے ہیں۔ اداروں کو غلط کہنے کی بجائے اپنےآپ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ مثبت سیاست کرنے کی ضرورت ہے جو عوام کے حق میں بھی بہتر ہے۔ خدارا عوام کا سوچیں، ملک کا سوچیں ۔عمران خان کو بھی چاہیے جیسی تیسی اپوزیشن ہے، اس کو ساتھ لے کر چلے اور یہ عمران خان کے اپنے لیے بھی بہتر ہے۔ پھلدار درخت ہمیشہ جھکا ہوا ہوتا ہے عمران خان صاحب کو چاہیے وہ خود ملک کی خاطر اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں، عمران خان صاحب کی اپنی سیاسی بقاء بھی اسی میں ہے۔ عمران خان صاحب کو چاہیے سابقہ حکومتوں سے سبق سیکھیں کوئی ساری زندگی کے لیے وزیراعظم نہیں رہتا، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، دل کو بڑا رکھنا پڑتا ہے، اپوزیشن کے ساتھ تعاون کے بغیر کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.