ایسا سسرال ہر لڑکی کا خواب!

964

ہر لڑکی نے ایک دن سسرال جانا ہوتا ہے اور خواتین میں اکثریت کی خواہش ہوتی ہے کہ سسرال ایسا ہو جہاں اپنی مرضی کی زندگی گزاریں اور ملازمت تو لازمی کریں مگر ہمارے معاثرے میں کئی لڑکیوں کے خواب شادی کے بعد چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ البتہ کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جنہیں سسرال میں وہ سب کچھ کرنے کی کھلی اجازت مل جاتی ہے جس کی انہیں‌ تمنا ہو۔

پاکستان کرکٹ بورڈ سے پچھلے چار سالوں سے وابستہ ایسی ہی ایک باہمت اور عظمت کی مثال ثمن ذوالفقار جو کہ اب پاکستان کی پہلی ویمن کرکٹ میچ ریفری بن گئی ہیں، شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی ثمن ذوالفقار نے پنجاب یونیورسٹی سے اسپورٹس اینڈ سائنسز میں ماسٹرز کیا، دورانِ تعلیم ثمن کرکٹ کی آل راونڈر پلیئر تھیں مگر انہیں میچ ریفری کا شوق تھا اور یہ شوق پاکستان کرکٹ بورڈ جوائن کرکے پورا کیا۔

اگست 2016 سے پی سی بی سے منسلک ہونے والی ثمن ذوالفقار اب تک 30 سے زائد کرکٹ میچز میں ریفری کے فرائض نبھا چکی ہیں، ثمن نے اب تک ایک وومن کرکٹر کو آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی کیا اور کچھ کو وارننگ دی، 2019 میں ثمن ذوالفقار کی دیپالپور کے قریب دانیال چودھری نامی شخص سے شادی ہوئی اور اب ان کی 7 ماہ کی بیٹی ہے جس کا نام ماہا چودھری ہے۔

ثمن زولفقار کا پہلا رشتہ دیکھنے والے دانیال کے اہل خانہ تھے اور انہوں نے ورکنگ خاتون ہونے کی پرواہ کیے بغیر ثمن کو اپنے بیٹے کے لیے پسند کر لیا، عام طور پر شادی کے بعد خواتین کو ملازمت سے سسرال والے روک دیتے ہیں اور چونکہ مرضی بھی سسرالیوں کی چلتی ہے، ثمن ذوالفقار کے زندہ دل سسرالیوں نے جاب سے نہیں روکا اور اجازت دی جب تک چاہے ملازمت کریں، اب چونکہ انکی بیٹی بہت چھوٹی ہے اس کے باوجود سسرالیوں نے ثمن ذوالفقار کو اپنی مرضی کرنے کی اجازت دے دی ہے، ثمن کو گھر والوں کی مکمل اسپورٹ حاصل تھی کہ جو چاہیں آزادی سے کریں اور اب سسرال بھی ایسا ملا ہے جو ثمن ذوالفقار کی پاکستان کرکٹ بورڈ میں میچ ریفری کے عہدے پر مطمئن ہیں۔

ثمن کی شیر خوار بیٹی ہے جس کے ساتھ ثمن جلد ہی شروع ہونے والے ڈومیسٹک میچز کے لیے پی سی بی کو دستیاب ہوں گی، ثمن کا کہنا کہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ پہلی بار میچز میں ریفری کے فرائض سرانجام دوں گی اور بیٹی ساتھ رہے گی تو میرا فوکس کھیل کی جانب بہتر رہے گا، گھر والوں اور سسرال والوں کی اسپورٹ سے مجھے بہت حوصلہ ملتا ہے۔

ثمن ذوالفقار کے سسر سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ثمن ذولفقار بہت سی خواتین کے لیے رول ماڈل ہیں، ہمارے ملک میں خواتین کو جائز حقوق نہ دینا افسوس کی بات ہے، خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں، ثمن ذوالفقار ایک خوش اخلاق خاتون ہیں جوکہ اپنا گھر بھی سنبھالتی ہیں اور پروفیشنل لائف میں اپنے فرائض نبھاتی ہیں جس وجہ سے ان کی زندگی متوازن رہتی ہے۔ ثمن کہتی ہیں جو خواتین ملازمت کرنے کی خواہشمند ہیں انہیں چاہیے کہ اپنے گھر کو بھی پورا وقت دیں تو سسرال والے بھی آپ کی ملازمت پر اعتراض نہیں لگائیں گے۔

عثمان بٹ ایک نیوز ویب سائٹ کے لئے بطور سپورٹس جرنلسٹ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.