عمران خان کی تجویز کردہ سزا میں نجات

606

دورحاضر میں تحفظ نسواں کے دعوے اور نعرے محض مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ خواتین جو پہلے ہی معاشرے کا ایک محروم اور پسا ہوا طبقہ ہیں اور جنہیں مرد حضرات کے مقابلے میں زیادہ تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک اسلامی مملکت میں رہتے ہوئے بھی غیر محفوظ ہیں۔

بھارت کو چھوڑیں، اپنے ملک کی ہی بات کریں کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 2 گھنٹے میں ایک ریپ کا کیس سامنے آرہا ہے جبکہ ہر آٹھ گھنٹے کے بعد ایک اجتماعی زیادتی کا اندوہناک سانحہ پیش آتا ہے۔
ان کیسوں میں سے صرف 9 فیصد ایسے کیس ہیں جو رجسٹرڈ ہوتے ہیں جبکہ 91 فیصد کا کبھی اندراج ہوا ہی نہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2019 میں تقریبا 3881 ایسے ہی کیس سامنے آئے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی صرف آج کل ہی ہو رہی ہے جیسا کہ موٹروے کیس سامنے آیا یا پھر کراچی میں رہنے والی معصوم بچی مروہ کے ساتھ جو درندگی کا واقعہ ہوا۔ ایسا بالکل نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل اسلام آباد میں ایک معصوم بچی فرشتہ کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بات محض اتنی سی ہے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی ہر دورمیں ہوتی رہی ہے، معاملہ اب اس لئے سامنے آتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی وجہ سے لوگوں میں زیادہ شعور اجاگر ہوا ہے اور زیادتی کے خلاف اب آواز زور دار انداز میں اٹھائی جانے لگی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات میں زیادتی کے واقعے کے بعد مجرم قانون کے شکنجے میں نہیں آتا، مظلوم کو انصاف نہیں ملتا تو پھر جرائم بڑھتے ہیں۔ آج کا ریپ کرنے والا ڈرتا نہیں بلکہ اسے اس بات کا یقین ہے کہ وہ ایسا کر سکتا ہے اور یہ کر سکنے کی طاقت اسے اور بھی مضبوط بنا رہی ہے۔ دن دیہاڑے مختلف علاقوں، شہروں اور دیہاتوں میں اجتماعی زیادتی کے واقعات میں شدت آرہی ہے جو کسی بھی معاشرے کیلئے انتہائی شرمندگی اور ایک بڑا چیلنج ہے۔

موٹروے اجتماعی زیادتی کیس پر عوام کا انتہائی شدید ردعمل سامنے آیا جس کی وجہ سے وزیراعظم کو بھی انتہائی نوعیت کے بیانات دینا پڑے ۔ انھوں نے حال ہی میں ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور ریپ کے مجرموں کی مردانہ صفت ہی ختم کر دینی چاہئے جس کے زعم میں وہ کسی لڑکی کو نشانہ بناتے ہیں، ان کا وہ زعم ہی توڑ دینا چاہئے۔

عمران خان نے کہا کہ جب عہدہ سنبھالا تو وہ سرعام پھانسی اور جنسی صلاحیت سے محرومی کی سزائوں کے حق میں تھے لیکن انھیں بتایا گیا کہ ایسا کرنے سے انھیں عالمی دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا اور یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی تجارت پر منفی اثرات پڑیں گے۔ عمران خان نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ریپ کے معاملے میں فرسٹ ڈگری کا ارتکاب کرنے والوں کو آپریشن کے ذریعے ناکارہ بنا دینا چاہیے اور دنیا کے کئی ممالک میں بطور سزا ایسا کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات کی بھی حمایت کی کہ اجتماعی زیادتی کرنے والوں کو چوک میں لٹکانا چاہیے اور اس سلسلے میں قانون سازی ہونی چاہیے۔

لیکن ایک جانب وزیراعظم کی جانب سے ایسی سزائوں کے بارے میں بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب حیرت انگیز طور پر اس تجویز کی مخالفت حکومتی عہدیداروں کے ٹویٹس سے بھی ہو رہی ہے۔ جیسا کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایسے مطالبات کی مخالفت کرتے ہوئے اسے تشدد میں اضافے کا سبب قرار دیا تھا۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’زندہ جلا دیں، سرعام پھانسی دے دیں، جسمانی اعضا کاٹ دیں، عوام کی جانب سے ایسا ردعمل آنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہمارے وزرا اور پڑھے لکھے طبقات کی جانب سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسی باتیں کرنا ہمارے معاشرے کی متشدد سوچ کی عکاس ہیں جو تشدد کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے اور اسلامی سزائوں کا کہنا بڑا آسان ہے لیکن ان پر عمل درآمد کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘

اگر اس پہلو کا جائزہ لیا جائے تو یہ بہت ہی بودی دلیل ہے، کیونکہ جو سزا قانون قدرت میں ہے اس پر انسان کو تو اعتراض کا قطعی حق نہیں چہ جائیکہ وہ کھلم کھلا تنقید کر کے دوسروں کو بھی اسلامی قوانین سے بدظن کرے، یقینا ایسے شخص کو اپنے انجام کے بارے میں سوچ لینا چاہئے کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ قیامت کا دن بالآخر ظہور پذیر ہونا ہی ہے۔

اگر موجودہ قوانین ایسے ہی مضبوط ہوتے تو آج خواتین در بدر کی ٹھوکریں نہ کھا رہی ہوتیں۔ سچ پوچھیں تو پاکستان کے عائلی قوانین میں کئی سقم ہیں لیکن خواتین کے لحاظ سے اور بھی زیادہ مشکلات ہیں۔ 1979 میں بنائے جانے والے حدود آرڈیننس ہی دیکھ لیں جو جنرل ضیاءالحق کے دور میں بظاہر خواتین کو تحفظ دینے کے لئے بنائے گئے لیکن الٹا خواتین کو نقصان ہوا۔

حدود آرڈیننس کی شق میں یہ ہے کہ اگر زنا ثابت کرنا ہے تو متاثرہ خاتون کو ثابت کرنا ہو گا اور اسکے لئے 4 بالغ صادق اور امین مردوں کی گواہی ضروری، پھر خواتین کی عدالتوں میں پیشی۔ کیا یہ سب مذاق نہیں ہے؟ یعنی ایک خاتون جس کے ساتھ زیادتی ہوئی، ایک تو اسکے ساتھ زیادتی ہو، پھر وہی چار گواہوں کو لے کر آئے؟َ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ متاثرہ خاتون کے ساتھ بھلائی ہے۔ کیا وہ ریپ کے وقت چار مردوں کو دعوت دے کہ انسان کی شکل میں ایک درندہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے چلا ہے۔ دوسری جانب تمام تر کوششوں کے باوجود اگر جرم ثابت ہو بھی جائے تو بتائیے کہ کتنے زناکار مردوں کو سزا سے دی گئی؟ ظلم یہ ہے کہ ہمارے ہاں تو متاثرہ خاتون کو ہی مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ کیا یہی انصاف کے تقاضے ہیں؟ کیا یہی خواتین کو دیا جانے والا تحفظ ہے؟

ذرا سوچئے کیونکہ اب مزید وقت نہیں رہا۔ اجتماعی زیادتی کا قبیح عمل ایک کینسر کی طرح پورے معاشرے کو اپنے پنجوں میں جکڑ رہا ہے، یہ جنگل میں لگنے والی ایک چنگاری کی مانند ہے جس کے شعلے بلند ہو کر ہر شہری کا گھر جلا کر خاک کر سکتے ہیں، اس سے پہلے ہم، آپ سب کو مل کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی۔ جس جس کو اپنی ماں، بہن اور بیٹی کی حفاظت کرنی ہے وہ وزیراعظم عمران خان کی اس تجویز کی حمایت کرے کہ زناکار جیسے درندے نما انسان کو مردانہ صلاحیت سے محروم کر دیا جائے، اس  سزا کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہر کمینی فطرت کا شخص، زنا جیسا قبیح جرم کرنے سے پہلے ہی سزا کا سوچ کر اپنے جرم سے توبہ کر لے گا، کیونکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مردانہ صفات سے محروم ہونے کا خوف ہی اُسے اس جرم سے باز رکھے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.