ضامن پڑے مصیبت میں…؟

551

نواز شریف بیمار تھے، اتنے بیمار کے خبریں آنے لگیں کہ ان کا علاج بیرونِ ملک ہی ممکن ہے۔ اگر انہیں جلد علاج کے لئے باہر نہ بھیجا گیا تو ان کی حالت ابتر سے ابتر ہوسکتی ہے اور شاید ان کی جان بھی جانے کا امکان ہے۔ ایک یہ صورت جو ہمارے سامنے آئی جس پر عمران خان بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کو باہر جانے دیا جائے۔ وہ اب پچھتا رہے ہیں کہ ان کو باہر جانے دینا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اب یا تو ان کو ان کی حکومتی میڈیکل ٹیم کی جانب سے مِس گائیڈ کیا گیا یا پھر انہیں اپوزیشن کا دباؤ لے بیٹھا۔

اپوزیشن کہتی تھی کہ نواز شریف کی حالت بہت خراب ہے اور عمران خان اس پر سیاست کر رہے ہیں اور اگر ان کو کچھ ہوگیا تو پھر حکومت خود اس کی ذمہ دار ہوگی۔ وزیراعظم کو شاید یہ ڈر ہو کہ اگر انہوں نے میاں صاحب کو نہ جانے دیا تو ان کی حکومت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ایک ناگہانی آفت حکومت کا بوریا بستر گول کرنے کے لئے کافی ہے اور اس کی ایک تاریخ ہے۔
دوسرا یہ کہ عین ممکن ہے نواز شریف کی صحت کے معاملے پر خان صاحب کی میڈیکل ٹیم نے ان کے ساتھ ہاتھ کیا ہو گو کہ میڈیکل ٹیم کی سرپرستی ڈاکٹر یاسمین راشد کے ہاتھ تھی۔ وزیرِ سائنس بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ میڈیکل ٹیم سے پوچھا جانا چاہئے بلکہ وہ تو براہ راست ڈاکٹر صاحبہ کو مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ آپ بتائیے کہ اگر نواز شریف ٹھیک تھے تو پھر ان کی رپورٹ جس میں اَن گنت بیماریاں بتائی گئیں اور ایسی رپورٹ جس کو اس طرح سے میڈیا میں ظاہر کیا کہ نوازشریف خدانخواستہ ابھی اپنی جان سے ہاتھ دھونے کے قریب ہیں۔ پلیٹ لیٹس کم سے کم تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سانسوں میں سانسیں نہیں۔ دل میں درد ہے، کمر بھی سکون میں نہیں۔ دماغ کی شریان پھٹنے کا خطرہ بھی الگ لیکن پھر سب نے دیکھا کہ نواز شریف لندن کی اُڑان بھرتے وقت کتنے تازہ تازہ دکھائی دے رہے تھے اور بغیر کسی سہارے کے اپنے پاؤں پر جہاز کی جانب جاتے ہوئے نظر بھی آئے اور اب لندن کی سڑکوں پر آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں۔

اب وزیراعظم صاحب اب ہاتھ ملتے جا رہے ہیں۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ نواز شریف اب کبھی بھی واپس نہیں آئیں گے کیونکہ خان صاحب نے ان کےساتھ خفیہ این آر او کرلیا ہے اور اب صرف دکھانے کے لئے کہ نواز شریف نے ہمیں دھوکہ دیا اور وہ اب مفرور ہیں۔ لہذا حکومت کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ان کی واپسی کے لئے سنجیدہ ہے اور انہیں واپس لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔

اسحاق ڈار تاحال مفرور ہیں۔ حسن نواز اور حسین نواز کا بھی یہی سٹیٹس ہے۔ سلمان شہباز اور علی عمران بھی لاپتہ ہیں، ان کو لانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تو نواز شریف کی واپسی تو ناممکن عمل نظرآتا ہے۔ ایک طرح سے نواز شریف کا باہر جانا حکومت کے لئے سودمند ہے۔ وہ ایسے کہ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے اتنی دیر بعد جا کر بالآخر 20 ستمبر کی تاریخ اے پی سی کے لئے لئے رکھ ہی لی۔ اس سے پہلے اپوزیشن کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اے پی سی کی قیادت کون کرے گا اور اے پی سی کی متعدد بار تاریخیں بھی بدلی گئیں۔ اندرونِ خانہ پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، کون کس کو کاٹ جائے اور چونکہ مفادات کی سیاست میں سب کچھ جائز ہے اس لئے کوئی بھی کسی کا پتہ صاف کرسکتا ہےاور ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ اپوزیشن انتشار کا شکار ہے۔ مسلم لیگ ن بھی اندرونی رنجشوں کا شکار ہے تو ایسے میں حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، ہاں کچھ کچھ خطرہ نواز شریف سے ضرور ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف کا فی الوقت کوئی سیاسی مستقبل نہیں، جب تک عدالت سے ان پر لگی نا اہلی کی مہر مٹ نہیں جاتی۔ لیکن جب نواز شریف کی جانب سے سیاست میں فعال ہونے کی خبریں گردش کرنے لگتی ہیں تو نوازشریف کو واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں اور ساتھ ہی مریم نواز کو نیب پکارنے بھی لگتی ہے۔ ٹائمنگ کی بات نہیں، نہ ہی یہ اتفاق ہوسکتا ہے اس کے پچھے کہیں نہ کہیں حکومت کو نواز شریف سے خطرہ لاحق ہے۔ کیونکہ ان کی نا اہلی ختم ہوسکتی ہے جیسا کہ ماضی میں بھی سابق وزیر اعظم کی نا اہلی ختم کر دی گئی۔ تو ایسے میں ممکن ہے حکومت کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں تو اِس کو کوئی مشکل ہوسکتی ہے جبکہ ماضی میں ووٹ کو عزت دو کی تحریک کچھ بہت زیادہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آئی۔

وزیر اعظم عمران خان کو اس بات کا اطمینان ہوگا کہ ایک طرف اپوزیشن کے آپس کے جھگڑے ختم نہیں ہو رہے کہ بلاول کے بقول گرتی دیوار کو ایک دھکا دیا جاسکے لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ ن کے سربراہ نے سیاسی محاذ سجانے کا اعلان کیا کیا کہ نیب مریم نواز کے خلاف متحرک ہوگیا اور دوسری جانب نواز شریف کو واپس لانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا سوچی سمجھی منصوبہ بندی؟ایک دفعہ مریم نواز پھر حکومت کے خلاف مورچہ زن ہوگئ ہیں۔

سیاسی پیش گوئی کرنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مریم نواز بھی لندن اپنے والد کے پاس چلی جائیں گی۔ یعنی ان کو بھی این آر او مل جائے گا۔ شاید اسی کے پیشِ نظر کبھی یہ کہتی پائی جاتی ہیں کہ نواز شریف جلد واپس آجائیں گے تو کبھی یہ کہتی ہیں کہ میرے والد کو مشورہ ہے کہ وہ اس سال واپس نہ آئیں۔ یعنی کہ وہ خود ان کے پاس جانا چاہتی ہیں اور انہیں اس کی اُمید بھی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑے میاں کو صاحب کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور وہیں ضامن بننے والے شبہاز شریف کے خلاف بھی ممکنہ کارروائی کرنے کا عندیہ دے دیا۔ اب معاملہ پہلے ہی کورٹ میں ہے تو ایسے میں اب سے شہباز شریف پر نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ شہباز ایسے وقت میں زرداری صاحب کے پاس جا پہنچے اور بیمار زرداری ایک ٹانگ پر بھاگتے بھاگتے شہباز شریف کو خوش ٓآمدید کہنے پہنچ گئے۔ کیا مسیحا ہیں شہباز شریف صاحب جو سڑکوں پر گھسیٹنے کے لائق لوگوں کا علاج کرنے لگے اور اپنے بڑے بھائی کے معاملے میں ہاتھ کھڑے کر دئیے۔

شہباز شریف میں کوئی ایسی طاقت ہے جن کو ملتے ہی بیمار بندہ اپنی دونوں ٹانگوں پر چلنے لگتا ہے۔ شاید انہیں بھی اپنی ٹانگوں پر چل کر عدالت جانا پڑے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ان کا ضامن ٹائپ کا کوئی کردار نہیں جبکہ ان کے معاہدے پر دستخط منظر عام پر موجود ہیں۔ یہ اوپن اور شٹ کیس ہے جس میں بد دیانتی پر ان کے اوپر نا اہلی کی تلوار گرسکتی ہے۔شہباز شریف سے اس وقت حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔لیکن ان کی نا اہلی کی صورت میں حکومت کی پوزیشن پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوجائے گی۔

وفاق کو کسی سے خطرہ نہیں خطرہ محض انہیں اپنی کارکردگی سے ہے۔ اگر کچھ ڈلیور ہوگیا تو پھر بچت ہی بچت ہے لیکن شہباز شریف کی بچت صرف اور صرف نواز شریف کی واپسی میں ممکن ہے ورنہ وہ بہت جلد نواز شریف کی طرح کہتے نظر آئیں گے مجھے کیوں نکالا۔ پھر وہی مظلومیت کے قصے دکھڑے روئے جائیں گے۔ بڑے میاں میں تعلقات پہلے ہی اچھے نہیں ہونے کی باتیں گردش کرتی ہیں، اللہ واعلم اس میں کتنی حقیقت اور کیا افسانہ ہے لیکن ایک بات طے ہے نواز شریف کے واپس نہ آنے کی صورت میں شہباز شریف اور ان کے درمیان نہ ختم ہونے والی جنگ ضرور چھڑ جائے گی اور ان کے تعلقات کو لے کر سب راز افشاں ہوجائیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

طیب ظاہر پاکستانی سیاست پر کے گہرے نقاد ہیں، سمجھتے ہیں کہ ملک کا سیاسی نظام ٹھیک ہو جائے تو پاکستان کے 99 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.