گہری رنگت کی سزا موت کیوں؟

260

امریکی ریاست وسکونسن میں 23 اگست کو نسلی امتیاز کا ایک اور بہیمانہ واقعہ پیش آیا جس سے امریکہ بھر میں امن و امان کی صورتحال پھر داؤ پر لگ گئی، متشدد مظاہرے شروع ہوئے جو تاحال تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔   29 سالہ سیاہ فام جیکب بلیک کو کینوشا شہر کے وحشی پولیس اہلکاروں نے 7 گولیاں ماریں، اس کے وکیل نے انتہائی تشویش کے عالم میں کہا کہ جیکب کو ڈاکٹروں نے انتھک کوششوں سے بچا تو لیا لیکن اب وہ شائد ہی کبھی اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑا ہو سکے۔ نسل پرستی اور خصوصاً سیاہ فام افراد سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کی ایک اور مثال جارج فلوئیڈ کے قتل کی صورت میں دیکھی گئی، امریکہ کے اس نہتے شہری کو سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں صرف اس لئے جان سے ہاتھ دھونا پڑا کہ اس کی جلد کا رنگ کالا تھا۔ اس واقعے کے باعث صرف امریکہ نہیں، دنیا بھر میں غم و غصے نے جنم لیا جس میں سفید فام عوام بھی سیاہ فام کے ساتھ امریکی پولیس کے خلاف سراپا احتجاج نظر آئے اور دنیا بھر کے میڈیا میں “سیاہ فام جانیں اہم ہیں” کی صدائیں گونجے لگیں۔

بد قسمتی سے نسل پرستی کے یہ واقعات نئے نہیں، اس سے پہلے بھی کئی سیاہ فام لوگ، سفید فام پولیس افسروں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں مگر خطرناک بات یہ ہے کہ پچھلے تمام واقعات میں قاتل بغیر کسی خاطر خواہ سزا کے نہ صرف بآسانی بری ہو گئے بلکہ سفید فام لوگوں کے ایک خاص طبقے کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے اس گھناونے عمل کی طرف داری بھی کی گئی۔

ان واقعات سے ایک کتاب میں پڑھی نو عمر سیاہ فام لڑکے کی موت پر مشتمل کہانی یاد آ گئی جس کو سفید فام پولیس آفیسر نے بلا وجہ قتل کر دیا تھا۔ نوعمر لڑکے کی قریبی دوست جو اس کے اندوہناک قتل کی چشم دید گواہ بھی تھی، کو قتل کو ثابت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لڑکی کے اردگرد موجود لوگوں کی اکثریت اس کی کہانی کو سچ تو تسلیم کرتی ہے لیکن معاملہ جب عدالت میں ساتھ دینے کا آتا ہے تو پھر اس کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ مزید برآں اس لڑکی کی اندرونی کشمکش بھی اس کو بے چین رکھتی ہے جو اس کو سفید فام اکثریتی آبادی والے سکول میں اکلوتی سیاہ فام لڑکی ہونے کے نا طے، ایک دہری زندگی گزارتے ہوئے برداشت کرنا پڑتی ہے۔

کہنے کو تو امریکہ میں نسلی امتیاز کو ختم ہوئے عرصہ بیت چکا ہے مگر حقیقت میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف تعصب اسی تسلسل سے جاری ہے، اسی شدت پسند رویئے کے مختلف زاویئے امریکی معاشرے میں آج بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سیاہ فام لوگ ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے دگنی محنت کرتے ہیں جبکہ سفید فام آبادی کو بعض حقوق کسی پیدائشی حق کے طور پر پہلے سے طے شد ہ ملتے ہیں جیسے تعلیم کے جو مواقع سفید فاموں کو حاصل ہیں، سیاہ فام شہریوں کو نہیں ملتے۔ ان کی آ بادیوں میں کاروباری امریکہ کبھی نوکریاں نہیں لاتا، مگر کسی نہ کسی طرح کروڑوں ڈالرز کی منشیات کی انڈسٹری اس کمیوٹی میں اپنے خریدار ڈھونڈ لیتی ہے جس کے باعث سیاہ فام علا قوں کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

کچھ ایسا ہی تصویر کا ایک رخ دکھاتا تاثر سیاہ فام لوگوں کی فلمی نمائند گی کے ذریعے بھی پیش کیا جاتا ہے جس سے ان کے تعلق غلط یا نصف سچے تصورات کی ترویج ہوتی ہے، جو روز مرہ زندگی میں ان کے لئے انفرادی اور اجتماعی طور پر مزید مشکلات کھڑی کرتے ہیں اور ان کے خلاف معاشرے میں پھیلی نفرت مزید بڑھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاہ یا سفید سمیت تمام نسلی و مذہبی تعصب کو ختم کیا جائے اور ملکی نہیں، عالمی سطح پر نسلی امتیاز کیخلاف قوانین بنائے جائیں جو دنیا بھر میں نافذ العمل ہوں تا کہ اس معاشرتی کینسر کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ماروی خالد نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد میں انگر یزی ادب اور لسانیات کی طالبہ ہیں اور معاشرتی موضوعات کو مشق تحریر بناتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.