مسئلہ کشمیر پر عملی اقدام کا وقت آن پہنچا

383

دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، عالم کفر کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ دنیا میں دو بلاک بن چکے ہیں ایک عالم کفر اور دوسرا عالم اسلام۔ اسلامی ممالک کے عوام اس تلخ حقیقت کو جان چکے ہیں کہ جو بھی اسلامی ملک اسلام کی نظریاتی حیثیت کے مطابق ابھرنے کی کوشش کرتا ہے تمام عالم کفر مل کر اسے تباہ کرنے کی یا اس حکومت کو گرانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔

سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پوری دنیا میں مسلمان ممالک الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہیں اور ان مسلم ممالک پر کٹھ پتلی حکمران، جو عالم کفر کے پٹھو ہونے کے سبب اپنی حکومت بچانے کی خاطر عالم کفر کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔ مسلم ممالک تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں اپنے مفاد کی خاطر مسلم ممالک ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور عالم کفر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مصر میں محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے نے تمام عالم پر یہ بات ثابت کر دی کہ اسلامی نظریاتی ریاست کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے ختم کرنے میں مسلم ممالک ہی پیش پیش ہوں گے۔

ایک مسلم ملک کی جانب سے ترکی کو غیر مستحکم کرنے کے بھرپور عزائم دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کا کشمیر کے معاملے کو طول دینا بہت بڑی حماقت ہے مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم ممالک سب اپنے مفاد کی خاطر ہرحد کو پار کر لیتے ہیں لیکن پاکستان کے معاملہ کسی طور پر سمجھ نہیں آتا۔ بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے میں پورے ملک کی سرحدیں غیر مستحکم ہو چکی ہیں، ایک طرف سے سکھوں کے لیے بارڈر کھول دیا تو دوسری طرف بارڈر پر بھارت روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ بھارت ڈیم پر ڈیم بنائے جا رہا ہےاور پاکستان میں پانی کی قلت اور قحط سالی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

پاکستان اندرونی طور پر بھی غیر مستحکم ہے اور بیرونی طور پر بھی خطرات میں گھرا ہوا ہے، معاشی حالات سب کے سامنے ہیں، پیٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ان حالات میں غریب عوام کا دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے۔ بھارت پاکستان کو سفارتی اور ثقافتی محاذ پر مسلسل شکست دے رہا ہے۔ ان حالات میں پی ٹی آئی حکومت کی کشمیر پالیسی سمجھ سے باہر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے حوالے سے لفظی گولہ باری کرکے یہ ثابت کردیا کہ پی ٹی آئی حکومت صرف گفتار کے غازی ہیں، تلوار کا غازی بننے کے لیے انہیں نیا جنم لینا پڑے گا جو کہ ممکن نہیں ہے۔ عوام کی ساری امیدیں پاکستانی افواج سے وابستہ ہیں۔

گزشتہ ایک سال سے کشمیری لاک ڈاؤن کی صورتحال سے گزر رہے ہیں، فاقوں سے مر رہے ہیں اور خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں اور اب بھی پاکستانی حکومت سے امید اور آس لگاۓ بیٹھے ہیں۔ کیا پاکستانی افواج کے سوا کوئی اور مسیحا کشمیر کی مدد کر سکتا ہے، ہرگز نہیں۔ اب بھی وقت ہے بھارت کو اکہتر کی جنگ کا منہ توڑ جواب دینے کا۔ 6 ستمبر والے بھرپور جذبے کے ساتھ پاکستان کا دفاع کرنا اور پاکستان کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنا اور کشمیر کو حاصل کرکے کشمیری مسلمانوں کی داد رسی کرنا ہی پاکستانی افواج کا فریضہ ہے اور اس فریضہ کو سر انجام دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ایک طرف چین، بھارت کو ہر محاذ پر پسپا کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا کشمیر میں فوج داخل کرنا بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دے گا اور اسی شش و پنج میں ہندو بنیا کشمیر سے سر پر پیر رکھ کر بھاگے گا۔ پاکستانی قوم قدم بڑھائے، اللہ کی مدد ضرور آن پہنچے گی۔ ان شاءاللہ۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صائمہ واحد تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ خواتین سے متعلق معاشرتی مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.