کیا کروں بھئی میرے بچوں کا باپ ہے…

661

حمیرا آج بھی پریشان صورت لئے بیٹھی تھی ، وجہ وہی روز کا جھگڑا ، وہی گھریلو تشدد کا معمول ۔ آج بھی ہمیشہ کی طرح اسکا شوہر باسط اسکے ساتھ مارپیٹ کر کے گیا تھا ۔ 7 سالہ ازدواجی زندگی میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ وہ اپنے خاوند کے ہاتھوں پٹی ہولیکن ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کا سہانا سپنا کبھی اسکے ذہن سے باہر نہیں نکلتا تھا۔

کبھی کھانا پکانے میں تاخیر ہو یا باسط کے گھر آنے پر پانی کا گلاس بروقت نہ پیش کیا جائے ، بچوں کی چیخ و پکار ہو یا اسکے بہن بھائیوں کا اسکے گھر آنا ہو ۔ کوئی نہ کوئی بدمزگی باسط کی طرف سے ہوتی جس کے بعد باسط کی تان اسکی مار پیٹ پر ہی ٹوٹتی تھی۔

اب تو لگتا تھا کہ ہم سب محلے دار بھی اس شور وغل اور مارپیٹ کے سیشن کے عادی ہو چکے تھے ۔ اس لئے کوئی بھی حمیرا کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا تھا ۔ سب محلے والوں کو زیادہ غصہ اسلئے آتا تھا کہ جب بھی حمیرا سے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو کہا جاتا تو وہ یہی ایک روایتی جملہ کہہ کر چپ ہو جاتی کہ میں کیا کر سکتی ہوں ، باسط میرے بچوں کا باپ ہے ، میں اپنے بچوں کی خاطر گذارا کر رہی ہوں۔

یہ کہانی گھر گھر کی ہے اور اس مصیبت سے خواتین کی ایک بڑی تعداد ضرور دوچار ہے بلکہ اسے مصیبت یا آزار نہیں، ایک المیہ کہہ دینا زیادہ مناسب ہے ۔ اس دردناک کہانی کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ پہلے تو لڑکیوں کی شادی میں ان کی پسند ناپسند کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا پھر شوہر جیسا بھی ہو اور کیسا ہی ظلم و ستم ڈھاتا ہو اسکی اطاعت کرنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔

مارپیٹ کے اس روئیے کی بات صرف ناخواندہ مردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ پڑھے لکھے افراد بھی اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ وہ بھی اپنی نام نہاد مردانگی کو ثابت کرنے اور اپنا رعب جمانے کے لئے خواتین پر ہاتھ اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔

حالانکہ جو بات آپ نرمی اور پیار سے کہہ سکتے ہیں اسکے لئے سختی اختیار کرنا کسی طور پر بھی بہادری اور جواں مردی نہیں ۔ ہمارا معاشرہ پڑھا لکھا جاہل ہو چکا ہے ۔یہاں پر کوئی بھی بات روایت سے ہٹ کر کریں تو آپ کے خلاف ہی متششد رویہ اختیار کر کے آپ کو ایک عبرت ناک روایت بنا دیا جاتا ہے۔

گھریلو تشدد سے نجات کے لئے قانون سازی موجود ہےلیکن ان کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ۔ جو این جی اوز ایسے مسائل پر آواز اٹھاتی ہیں ان پر مغرب زدہ ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے اور الٹا وہ خواتین تشدد کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ یہ بات اور ہے کہ بعض مظلو م خواتین کو کئی این جی اوز اپنے ناجائز مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں ،ان کے خلاف مظالم کو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کر کے اپنے مفادات کو پورا کیا جاتا ہے لیکن اس میں ان سادہ خواتین کا کیا قصور، یہ تو ریاست کو ایسا نظام بنانا چاہئے کہ اسی خواتین مغرب زدہ این جی اوز کے ہتھے نہ چڑھیں۔

کچھ بھی ہو سب سے اہم جملہ ہمیشہ ہی سننے کو ملتا ہے کہ کیا کریں میرے بچوں کا باپ ہے ۔ کوئی بھی لڑکی خود سے یہ جملہ نہیں کہتی ۔ یہ جملہ اسے معاشرہ اور اسکے گھر والے سکھاتے ہیں ۔ شادی ہوتے ہی ایک لڑکی کو یہ سننا پڑتاہے کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہو گئی ۔اب تم جانو اور تمھارا خاوند ۔ جیسا ا ور جوکچھ تمھارے ساتھ ہو اسے اپنا نصیب سمجھ کر قبول کرو۔

اگر تمھارے ساتھ مارپیٹ بھی ہو توبرداشت کر لو لیکن اپنا گھر مت خراب کرو کیونکہ بیٹیاں اور بہنیں اپنے گھروں میں ہی اچھی لگتی ہیں ۔ اور پھر دیکھو کہ اگر تم نے اپنے خاوند کے خلاف ہی قانونی امداد حاصل کر لی تو یہ پورے خاندان کی بے عزتی کے مترادف ہو گا ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تمھارا خاوند اگر بچوں کو لےگیا تو کیا کرو گی تو اپنے بچوں کا ہی کچھ خیال کر لو۔

بچے اگر باپ کے مخالف ہو گئے تو ان کا نان نفقہ کون اٹھائے گا ؟ کون تمھیں اپنے گھر میں پناہ دے گا ؟ کون تمھاری ذمہ داری اٹھائے گا ؟ والدین ہیں نہیں ، بھائی بھاوج برداشت نہیں کریں گے اور ہم بہنیں ہیں اپنے اپنے گھر والی۔

یہ سب سوالات اس مظلو م عورت کے دل پر نقش ہو جاتے ہیں جب ان کا کوئی جواب نہیں ملتا تو یہی جملہ کہہ اور سن کر خود کو تسلی دی جاتی ہےکہ کوئی بات نہیں مجھے سب برداشت کرنا ہے ، مار سہنی ہے ، تھپٹر کھانے ہیں اپنے بچوں کے لئے ، اپنے گھر کے لئے ۔ مجھے کبھی اف نہیں کرنا کبھی آواز تک نہیں نکالنی کہ یہی میری قسمت ہے۔

لیکن سب مار پیٹ سہتے ہوئے ، تلخ باتوں کو سنتے ہوئے ہر عورت یہ ضرور سوچتی ہے کہ سب مرد برے نہیں ہوتے لیکن وہ جو اچھے مرد ہوتے ہیں ناں وہ ہر کسی کو نہیں ملتے…

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

راضیہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، گذشتہ 16 سال سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بطور محقق، رپورٹر اور پروڈیوسر منسلک ہیں اور ملکی و غیر ملکی پلیٹ فارمز پر قلم کاری بھی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.