پاکستان میں‌ گونگے بچوں کا علاج ممکن

483

پاکستان میں گونگے بچوں کا علاج اب ممکن ہے، وطن عزیز میں ہزاروں کے حساب سے بچے یا تو پیدائشی طور پر گونگے ہیں یا پھربولنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ دیر سے بولنے والے بچے، ایسے بچے جن کی زبان کے نیچے تندوا ہوتا ہے یا وہ لوگ جو فالج کے بعد بول نہیں پاتے۔ ایسے لوگ بھی جو صاف واضح الفاظ نہیں بول سکتے یا کچھ مرد جو خواتین کی آواز میں بولتے ہیں، انہیں بھاری بھرکم اخراجات اٹھا کر بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں، اب پاکستان میں ہی اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کوئی مناسب علاج بھی نہیں تھا، اگر ممکن تھا بھی تو بہت مہنگا ہونے کے سبب ہر شخص کے بس کی بات نہیں تھی۔

اسپیچ جنریٹنگ ڈیوائس پاکستان میں آ چکی ہے، یہ ایک ایسا جدید آلہ ہے جس سے پیدائشی طور پر بول چال سے محروم بچوں کا کم وقت میں علاج کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ علاج ایک لمبے عرصے تک چلتا تھا لیکن اب اس ڈیوائس کے ذریعے بہت کم عرصہ میں علاج ممکن ہو گیا ہے، ڈیوائس کو والدین خود بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے جس کے بعد ڈیوائس والدین کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

IMG-20200730-WA0044

تھراپسٹ اور والدین مل کربچے کا علاج کرتے ہیں۔ اس سے پہلے والدین کو ہر روز تھراپسٹ کے پاس جانا پڑتا تھا۔ اب بہت کم وقت میں یہ علاج مکمل ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس ڈیوائس کو اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ قُدسیہ زہرا اپنے کلینک میں استعمال کروا رہی ہیں جس میں اس ڈیوائس کا رزلٹ 100 فی صد دیکھا گیا ہے۔ جب میں نے اس کے متعلق اسپیچ لینگویج پیتھالوجسٹ قدسیہ زہرا سے پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ”یہ علاج پہلے کی طرح مہنگا نہیں، بلکہ بہت کم پیسوں میں ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں اسپیچ تھراپی کے دو طریقے ہیں۔ ایک روایتی طریقہ ہے جبکہ دوسرا جدید طریقہ ہے۔ ہمارے ہاں پہلے صرف روایتی طریقہ ہی استعمال کیا جا رہا تھا جس کے نتائج بہت دیر سے نکلتے ہیں۔ اِس کے پیشِ نظر اسپیچ جنریٹنگ ڈیوائس پاکستان میں متعارف کروائی گئی ہے تا کہ فوری نتائج برآمد ہوں۔“

لینگویج پیتھالوجسٹ قدسیہ کا کہنا تھا کہ ”پاکستان میں اسپیچ تھراپی کا شعبہ بہت زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے۔ اِس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اِس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں۔ دوسری وجہ غیر تربیت یافتہ ڈاکٹرز یا اسپیچ تھراپسٹ ہیں۔ وہ لوگوں کی بہت کم رہنمائی کرتے ہیں۔ زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز سیرپ یا ٹیبلٹس دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ اسپیچ تھراپی کی بچوں کو یقینا ضرورت ہوتی ہے۔ اسپیچ تھراپی کے لیے دور دراز کے علاقوں سے ہر روز بڑے شہروں میں آنا نا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر کوہاٹ ، مردان ، کشمیر، کوئٹہ ، صوابی ، لورالائی اور لیہ و بھکر کے علاقوں سے لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد آنا جانا بہت مشکل ہے۔ اِس لیے مریض کی سہولت کے لیے یہ ڈیوائس اُس کے گھر والوں کو دے دی جاتی ہے تاکہ وہ خود استعمال کر سکیں۔ اِس سے پہلے ایسے مریضوں کا علاج 10یا 12سال تک چلتا تھا لیکن اب یہ علاج دو یا تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔“

انہوں نے مزید بتایا کہ ” ڈیوائس اُن بچوں کے لیے بنائی گئی ہے جن کا کلیئر امپلانٹ ہو چکا ہے یا وہ بچے جو آلہ سماعت لگاتے ہیں۔ آپریشن کروانے کے بعد ایک لمبے عرصے کے لیے اسپیچ تھراپی کروانی ہوتی ہے، تب جا کے بچہ بولتا ہے۔ جو بچے مثال کے طور پر دو سال تک ایک لفظ بھی نہیں بولتے، ایسے بچوں کو اسپیچ تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس کے علاوہ وہ بچے جن کی زبان کے نیچے تندوا ہوتا ہے وہ بھی یہ ڈیوائس استعمال کر سکتے ہیں۔ جو لوگ آلہ سماعت لگاتے ہیں، پیدائشی گونگے ہیں، بول چال میں دشواری ہوتی ہے، کچھ خواتین مردانہ آواز میں بولتی ہیں۔ جدید طریقہ علاج سے ہکلاہٹ، آرٹیکلیشن کے مسائل ، فالج کے بعد بول چال کے مسائل، آٹیزم ، ڈاﺅن سینڈروم، لقوہ ، سماعت سے محرومی، کوکلیئر ایمپلانٹ سے متعلقہ بچوں کی اسپیچ تھراپی کی جا سکتی ہے۔“

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

نعیم کاندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.