دوسروں کیلئے جینا ہی اصلِ زندگی

313

پُرانے زمانے میں کسی دشوار گزار جگہ ایک ادھیڑ عمر خاتون رہتی تھی۔ اس کی پرانی سی جھونپڑی میں پانی کے دو ہی برتن تھے جن میں وہ روز دور ندی سے جا کر پانی بھرتی اور گھر میں موجود گھڑے کو اگلے دن کی ضرورت کیلئے بھر لیتی تھی۔ برتنوں میں سے ایک تھوڑا پرانا تھا اور وہ تڑخ چکا تھا۔ یہ خاتون جب بھی پانی بھر کر لاتی تھی تو جو برتن ٹھیک تھا اس میں تو پورا پانی آ جاتا تھا مگر جو برتن اب تڑخ چکا تھا اس میں سے پانی راستے بھر میں گرتا چلا آتا تھا اور گھر پہنچتے پہنچتے بمشکل نصف پانی ہی اس برتن میں باقی رہ جاتا تھا۔

کچھ عرصہ تک یہ سلسہ یوں ہی چلتا رہا، ایک دن جب خاتون پانی بھر کر واپس آ رہی تھی تو صاف برتن نے ٹوٹے ہوئے برتن کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ تم کمال کے برتن ہو، اپنے آپ کو سنبھال ہی نہیں پاتے، جتنا پانی تم میں ڈالا جاتا ہے تم اس کا آدھا بھی نہیں سنبھال پاتے اور گھر آتے آتے کتنا ہی پانی گرا دیتے ہو۔ تم غیر ذمہ دار بھی ہو اور نااہل بھی۔ یہ بات اس ٹوٹے ہوئے برتن کے نازک سے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئی اوروہ روز بروز شرمسار ہوتا گیا اور اپنی نا اہلی اور بے بساعتی پر کڑھتا رہتا تھا۔

تقریبا ایک مہینہ ایسے ہی گذر گیا، پھر تنگ آ کر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خاتون سے درخواست کرے گا کہ اسے اس ذمہ داری سے فراغت دے دی جائے کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں تھا۔ پھر ایک دن جب خاتون ندی سے واپس جا رہی تھی تو ٹوٹے برتن نے حوصلہ مجتمع کر کے خاتون سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔

خاتون اس کی بات سن کر مسکرائی اور کہنے لگی کہ وہ جانتی تھی اس برتن میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہو چکے تھے۔ اور یہ بھی کہ جب بھی وہ پانی بھر کر گھر لے کر جاتی تھی تو زیادہ تر پانی راستے میں ہی بہہ جاتا تھا مگر اس کے باوجود اس خاتون نے اس برتن کو اپنے پاس کیوں رکھا ہوا تھا اور اسے ابھی بھی پانی بھرنے کے لیے کیوں لے کر جاتی تھی اس کا جواب وہ خاتون راستے میں سے گذرتے ہوئے دے گی۔

واپسی پر خاتون نے دونوں برتنوں سے کہا کہ وہ راستے میں اپنی اپنی جانب بغور دیکھتے ہوئے جائیں اور گھر جا کر بتائیں کہ انہوں نے کوئی خاص چیز دیکھی۔ گھر جا کر خاتون نے پہلے اُس برتن سے سوال کیا جو ٹھیک تھا۔ اس نے جواب دیا کہ کچھ خاص نہیں دیکھا۔ پھر خاتون نے یہی سوال ٹوٹے ہوئےبرتن سے کیا۔ اس برتن نے جواب دیا کہ وہ جب راستے سے گذرا تو اس طرف پھول کھلے ہوئے تھے۔ خاتون اس بات پر مسکرا پڑی اور کہا تم نے بالکل ٹھیک کہا کیونکہ جس راستے سے تم گذر کر آتے تھے وہاں تمہارے گرائے ہوئے پانی سے پھول ہی پھول کھل چکے تھے جبکہ جس برتن سے پانی نہیں گرتا تھا اس راستے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اپنی ذات کے لیے تو لوگ حفاظت اور ذمہ داری کے تمام تر تقاضے پورے کرتے ہی ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو دوسروں کے راستےمیں پھول اُگاتے ہیں۔

ابتدائی دنوں میں جب کورونا قیامت ڈھا رہا تھا اور دنیا اس کے ہاتھوں بے بس تھی تو لو گ اپنی بے بسی اور بےبضاعتی کی وجہ سے مایوس ہوتے چلے جا رہے تھے۔ اپنوں کی تڑپتی، سسکتی موت ہلاکت خیزی اور اپنے کامل بے بس ہو جانے کے احساس نے پوری دنیا میں لوگوں کو شدید قسم کے ڈپریشن اور مینٹل ٹراما میں مبتلا کردیا تھا۔ زندگی جیسے بے معنی، بدرنگ اور بدنما سی ہو گئی تھی۔ ایسے میں اکثر لوگوں نے اس قیامت کو جھیلنے کی بجائے اس عذاب سے جان چھڑاتے ہوئے خود کشی کرنے کو ترجیح دی۔

یاد پڑتا ہے کہ اٹلی میں جب سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں اور ان لاشوں کو اٹھانے والا کوئی نہیں تھا تو ایک ارب پتی اٹالین کی کہانی نگاہوں سے گذری جس نے اپنے سامنے اپنے بہت سے پیاروں کو تڑپتے سسکتے جان دیتے ہوئے دیکھا۔ باوجود اس کے کہ وہ بے پناہ دولت اور وسائل کا مالک تھا، اس نے مایوس ہو کر چھت سے کود کر اپنی جان دے دی تھی۔ یہ مایوسی کی انتہا تھی مگر اسی دوران ایسی کئی تنظیمیں بھی سامنے آئیں جنہوں نے وبأ کے خطرے کے باوجود دن رات ایک کر ڈالے اور دامے، درمے، سخنے ہر ممکن لوگوں کی مدد کی۔

سلام ایسے تمام افراد پر اور ایسے تمام ڈاکٹرز، پیرا میڈکس سمیت تمام عملے پر جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر اس تمام عرصہ میں لوگوں کی نہ صرف خدمت کی بلکہ بہت سارے لوگوں کو موت کے منہ سے نکالا۔ ایسے میں ریسکیو 1122 کے عملے کی تعریف و تحسین نہ کرنا ان کی عظیم خدمات کے انکار جیسا ہو گا۔ سلام ان عظیم سپوتوں پر جو اس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ ان کی گاڑی میں ایک ایسا مریض موجود ہےجو کووڈ 19 کا شکار ہے اورغالب امکان یہ ہے کہ اس مریض کوہسپتال پہنچاتے ہوئے ان کو خود بھی مرض لاحق ہو سکتا ہے، پھر بھی انھوں نے حفاظتی لباس اور کٹ نہ ہوتے ہوئے بھی ایسے تمام مریضوں کو تمام تر توجہ اور احتیاط کے ساتھ ہسپتال پہنچایا۔ سلام ان تمام ہیروز پر جو کورونا کے خلاف اس جنگ میں گمنام رہے مگر اپنے فرض پر ایسا پہرا دیا کہ اسلاف کی یاد تازہ کر دی اور اس بات کا جواب دیا کہ انسان اشرف المخلوقات کیوں کہلاتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.