عالمی سیاست میں‌ شکست خوردہ بھارت

536

بھارت کو پے درپے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ذلت بھارت کا مقدر بن چکی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ چار برس قبل 2016ء میں بھارت، افغانستان اور ایران کے درمیان تہران میں چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبوں پرکچھ معاہدے ہوئے۔ 23 مئی کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی، افغان صدر اشرف غنی اور ایران کے صدر حسن روحانی نے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے۔ اِن معاہدوں میں ایک بڑا معاہدہ ریلوے ٹریک کی تعمیر کا تھا جِس کے مطابق ایران اور بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک 628 کلو میٹر طویل ریلوے ٹریک تعمیر کرنا تھا۔ بھارت کی ارکون کمپنی کے انجینیئرز نے کئی بار ایران کا دورہ کیا اس کے باوجود یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ ایران کی حکومت کے کئی بار کہنے کے باوجود بھارت پس و پیش سے کام لیتا رہا۔ اِس میں امریکہ کی طرف سے ایران پر پابندیوں کا عنصر بھی یقینی بات ہے۔ بلاشبہ بھارت پر امریکہ کا دباﺅ ہو گا کہ وہ یہ منصوبہ مکمل نہ کرے۔ کچھ دن پہلے ایران نے طویل حیلے بہانوں کے سبب بھارت کو اِس منصوبے سے الگ کر دیا۔ ایران نے یہ غیر معمولی اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا جب اِس نے چین کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے پچیس سالہ اقتصادی اور سکیورٹی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اِس کے نتیجے میں ایران میں بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، بندرگاہوں، ریلوے اور درجنوں دیگر پروگراموں میں چین کی موجودگی نمایاں طور پر دکھائی دے گی۔ ایران نے بھارت کو نہ صرف چاہ بہار زاہدان ریلوے معاہدے سے الگ کیا بلکہ گیس کے منصوبوں سے بھی نکال باہر کر دیا۔

چین، ایران تعلقات نئی بات نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے قریبی تعلقات موجود ہیں۔ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔ دونوں کے مفادات اور مسائل کسی حد تک مشترک ہیں۔ دونوں کو امریکہ کی مخالفت کا سامنا رہتا ہے، جس طرح امریکہ اور چین روایتی حریف ہیں، اِسی طرح ایران اور امریکہ بھی روایتی حریف ہیں۔ اِن کی دوستی کا ثبوت 13جولائی کو چینی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والا بیان ہے جس میں کہا گیا کہ ایران چین کا قریبی دوست ہے۔ اِس منصوبے نے امریکہ کے دو بڑے حریفوں کو متحد کر دیا ہے۔

پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے کہ ایران نے بھارت کو منصوبوں سے الگ کر دیا ہے۔ بھارت کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ بلوچستان میں مداخلت کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔ کلبھوشن کی مثال سے واضح ہے کہ بھارت کی چاہ بہار میں موجودگی کس حد تک خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

بھارت کو اِن دنوں پے درپے ناکامیوں اور ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 15 جون کی شب لداخ سیکٹر کی وادی گلوان میں چینی فوجیوں کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی پٹائی بھارت کے لیے ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔ اِس چھڑپ میں بھارت کے 20فوجی مارے گئے۔ اس کے بعد ایران کا بھارت کو اپنے منصوبوں سے الگ کرنا اور چین کے ساتھ چار سوارب ڈالر کے معاہدے کرنا بھارت کے لیے ذلت آمیز سیاسی اور اسٹریٹجک شکست ہے۔

چین ایران پچیس سالہ منصوبے سے خطے میں طاقت کا تواز ن یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ طاقت کا توازن کسی حد تک مغرب سے مشرق میں منتقل ہو چکا ہے۔ یہ صدی ایشیا کی صدی ہے، چین اور ایران ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے باوجود ایران کا ملٹری راکٹ کامیابی سے خلا میں بھیجنا اور پھر چین کے ساتھ پچیس سالہ معاہد ہ کرنا یقینا ایران کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے امریکہ کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ امریکہ کو تاریخ کے بد ترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اِس کے علاوہ امریکہ میں نسل پرستی کے واقعات کے خلاف احتجاج، 18سالہ طویل جنگ میں ناکامی کے بعد افغانستان سے امن معاہدہ کی صورت میں انخلا اور مشرقِ وسطیٰ خصوصاَ عراق اور شام میں ایران کی طرف سے غیر معمولی مزاحمت بھی امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو چکی ہے۔ یہی وجہ سے کہ یورپی یونین حکام بھی کہہ چکے ہیں کہ طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔

2017ءمیں امریکہ میں پروفیسر گراہم ایلیسن کی ایک کتاب شائع ہوئی جس میں پروفیسر گراہم ایلیسن مستقبل میں امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والی ممکنہ جنگ کا ذکر کرتا ہے۔ گراہم ایلیسن کی پیشینگوئی کسی حد تک ٹھیک ثابت ہو رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان حالات دن بدن کشیدہ ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کسی حد تک منقطع ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں تین چینی باشندوں کو چین کی مسلح افواج کے ساتھ تعلقات کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ چین کے خلاف ممکنہ تصادم کے پیشِ نظر ایشیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار کسی حد تک بھارت ہے ۔

خطے کے حالات دن بدن خراب ہوتے جار ہے ہیں جس کی اہم وجہ بھارت کا جنگی جنون ہے۔ بھارت جس کا دفاعی بجٹ 77 کھرب 85ارب روپے ہے، پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی حکومت کے اِس جنگی جنون کو لگام دینے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

نعیم کندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.