کورونا اور پاکستان میں آبادی کا عفریت

354

پاکستان کورونا کے باوجود ایک چیز میں ترقی کر رہا ہے اور وہ ہے آبادی، اگر بے روزگاری، سہولیات کا فقدان اور دیگر مسائل کو دیکھا جائے تو سب کی جڑ آبادی میں بے ہنگم اضافہ ہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے۔ پہلے ہی کورونا جیسی عالمی وباء نے بے روزگاری سمیت معاشی حالات کو ابتر کرنے کے ساتھ ہی دُنیا کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ 1950ء میں 2.5 ارب آبادی والی دُنیا صرف 6 دہائیوں میں 7 ارب سے آگے نکل چکی ہے۔ عالمی ادارے یو این پالولیشن فنڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دُنیا بھر کے بے شمار مسائل میں اضافہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے جن میں خوراک کی کمی، علاج، رہائش، تعلیم اور بنیادی اشیاء ضروریات کی فراہمی شامل ہے۔

اِس وقت دُنیا کی آبادی پونے آٹھ ارب کے قریب ہے۔ یہ قانونِ قدرت ہے ہر زندہ شے نمو پاتی ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے بے چین ومضطرب رہتی ہے۔ اسی لئے لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربو ں میں شمار ہونے والی آبادی کے مسائل بھی اسی رفتار سے بڑھتے ہیں۔

آبادی میں اضافہ کی شرح یہی رہی تو بائیسویں صدی میں دُنیا میں سانس لینے والے انسانوں کی تعداد ممکنہ طور پر گیارہ ارب سے تجاوز کر چکی ہوگی۔ اگر ہم فہرست بلحاظ آبادی اور اس کا دُنیا میں تناسب دیکھیں تو یوں ہے چین 1,404,110,000، 18.4%،بھارت، 1,361,820,000، 17.8٪، ریاست ہائے متحدہ،333,624,000، 4.37%، انڈونیشیا، 5,015,300،3.47 26%، پاکستان 22،10،00،000، برازیل 213,326,000 2.79%، ،بنگلہ دیش 8,901,000،2.21 16٪، فلپائن 9,657,000،1.44 10% یہ جند ممالک ہیں لیکن دُنیا بالخصوص پاکستان میں آبادی کا بے تحاشہ اضافہ ام المسائل بن رہا ہے۔

ہم وطن عزیز کی بات کریں تو قیاس ہے کہ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 35کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے اور اتنی بڑی آبادی کے لئے بنیادی سہولتوں، خاص طورپر صحت عامہ کی سہولیات اور اس تک رسائی مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو اب کورونا کے باعث اور آگے آبادی میں اضافہ سے بے روزگاری کی تشویشناک صورت حال بن سکتی ہے۔ آبادی کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے۔

1951کی پہلی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ 40 ہزار تھی جب کہ 1998 کی پانچویں مردم شماری کے مطابق بڑھتے ہوئے 13کروڑ 23لاکھ52ہزار ہو چکی تھی۔ اب 48 سال میں 292 فیصد اضافہ ہوا جب کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پالولیشن سٹڈی کے مطابق 1951سے 2016ء تک پاکستان کی کل آبادی میں 443 فیصد اضافہ ہوا۔ جب کہ 2017 کی رپورٹ کے مطابق وطن عزیز کی آبادی کچھ یوں ہے: 1998 سے 2017 کے دوران سالانہ اوسطاً2.40 فیصد اضافہ ہوا۔ جو کہ 1998سے 2017 کے دوران 2.4 فیصد کی سالانہ شرح نمو کے ساتھ 20 کروڑ 77 لاکھ 74ہزار ہو گئی۔ ملکی آبادی میں 1998 کی نسبت 57 فیصد اضافہ جبکہ 1981 کی مردم شماری کے بعد ملکی آبادی میں 146.6فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

پاکستان کے گھرانوں کی مجموعی تعداد3 کروڑ 22 لاکھ 5ہزار 111 ہو چکی۔ کے پی کے کی آبادی 3کروڑ 5لاکھ ٗ23ہزار 371جبکہ گھرانوں کی تعداد 38لاکھ 45ہزار 168ہے۔ فاٹا کی آبادی 50لاکھ1ہزار 676 ہے جبکہ گھرانوں کی تعداد 5 لاکھ 58 ہزار 379 ہے۔ پنجاب کی آبادی 11 کروڑ 12 ہزار 442افراد پر مشتمل ہے جبکہ گھرانوں کی تعداد 1 کروڑ 71 لاکھ 3 ہزار 835 ہے۔ سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار51 ہے اور گھرانوں کی تعداد 85لاکھ 85ہزار 610ہے اور بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 ہے جب کہ گھرانوں کی تعداد17لاکھ 75ہزار 937 ہے۔ اسلام آباد دارلحکومت کی آبادی 20لاکھ 6ہزار 572جبکہ گھرانوں کی تعداد 3لاکھ 36ہزار 182ہے۔ آزاد کشمیر کی آبادی 40لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہری آبادی میں اضافے کا رجحان 36-38فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں سہولیات کے فقدان کے باعث لوگ مسلسل شہروں کا رخ کر رہے ہیں جن سے شہروں کی آبادی میں مزید اضافہ جب کہ سہولیات کا فقدان ہو تا جا رہا ہے۔

پاکستان کے شہروں میں گھروانوں کی تعداد1 کروڑ 21 لاکھ 92 ہزار 314 جب کہ دیہی علاقوں میں گھرانوں کی تعداد 2 کروڑ 12 ہزار 797 ہے۔ دیہی علاقوں میں 2.23فیصد سالانہ کی اوسطاً شرح نموکو ظاہر کرتی ہے جب کہ شہری علاقوں کی مجموعی آبادی 7کروڑ 55لاکھ 84ہزار 999 ہے جو 2.70 فیصد سالانہ کی شرح نمو کو ظاہر کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں آبادی میں سے 3 کروڑ سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر نے کے علاوہ 06 کروڑ سے زائد لوگ پینے کے صاف پانی سمیت تعلیم، صحت و دیگر بنیادی سہولیات زیست سے محروم ہیں۔ آبادی میں ہونے والا یہ اضافہ مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ذرائع ابلاغ ٗ میڈیکل سائنس میں ترقی اور تعلیم کی بدولت ترقی یافتہ ممالک میں آبادی میں اضافہ پر قابو پالیا گیا ہے۔ غریب ممالک آبادی پر کنٹرول آسان نہیں جب کہ اقوام ِ متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے ترقی پذیر ممالک میں تعلیم اور طبی سہولیات میں سرمایہ ہی بہترین حل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ آبادی میں ہونے والا یہ اضافہ اگر کنٹرول نہ کیا گیا تو مستقبل میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، وسائل کم، مسائل گھمبیر ہو رہے ہیں، ہمیں وقت سے پہلے اقدامات کرنا ہوں گے۔ آج وطن عزیز میں اگر بے روزگاری، سہولیات کا فقدان، تعلیم، صحت کا یہ حال ہے تو دگنی آبادی پر کیا گل کھلیں گے؟

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عابد ضمیر پیشہ ور صحافی ہیں، کرنٹ افیئرز سمیت دیگر موضوعات پر قلم آزمائی کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ایکٹو ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.