مذہبی رواداری یا ظلِم عظیم کی ترویج

374

حکومت وقت کی جانب سے سکھ کمیونٹی کی سہولت کے لئے کرتارپور راہداری کھولنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے چار کنال اراضی مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ 20 کروڑ کی رقم بھی مختص کی گئی ہے۔ ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ عوامی املاک کو کسی دوسرے مذھب کی عبادت گاہ کی تعمیر میں صرف کیا جارہا ہے۔ اگرچہ اس پر علمائے کرام کی رائے آ چکی ہے لیکن کچھ نکات پیش خدمت ہیں جو عام طور پر مندر کی تعمیر کے حمایتیوں کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں ، مثلا ایک خیال ہے کہ : ہر مذہب کے ماننے والے کو عبادت گاہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے مسلمانوں کو کسی ایسے ملک میں جہاں ہم اقلیت میں ہوں مسجد چاہیے، اسی طرح غیر مسلموں کو اپنی عبادت گاہ چاہیے، اپنے دل کو وسیع رکھیں تاکہ غیر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کیلئے وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا جائے۔

ایک اور جذباتی نکتہ یہ ہے کہ اتنی مساجد کے ہوتے ہوئے ایک مندر کی تعمیر ہمارا کیا بگاڑ لے گی یا اپنے اخلاق کی درستگی کی فکر کرو ۔ دل اخلاق سے بدلے جاتے ہیں، مندروں ک تعمیر سے نہیں ۔ سب کو حق ہے کہ اپنی عبادت گاہ تعمیر کریں۔ سب سے پہلے تو یہ تعین ہونا چا یئے کہ اسلام میں غیر مسلموں کے لئے گنجائش نکالنے اور دلوں میں وسعت پید کرنے کی حد کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ان کو عبادت کرنے کی پوری اجازت دی جائے۔ ان کی عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یہ مثالیں دور نبوی ﷺ، دور صحابہ (ر) اور عہد خلافت و ملوکیت کے علاوہ مسلمان سلاطین کے زمانے میں موجود رہی ہیں لیکن اس کے لئے عبادت گاہوں کی باقاعدہ تعمیر کا ذکر نہ تو دور نبوی ﷺ اور نہ دور خلافت راشدہ میں ملتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مشہو زمانہ “شروط عمریہ” جو انھو نے اہل ذمہ کے لئے مقرر کی تھی، میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ہم اپنے شہر یا اس کے ارد گرد کوئی دیر، کلیسا، راہب کا جھونپڑا نہیں لگائیں گے اور نہ ہی اس میں سے جو خراب ہو گیا اس کی تزئین و آرائش کریں گے اور نہ ہی ان میں سے جو مسلمانوں کے علاقوں میں ہو اسے آباد کریں گے۔

جہاں تک پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تعلق ہے تو یہاں اقلیتوں و حکومتی سطح پر ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں ۔ قانون توہین رسالت ﷺ میں اقلیتوں پر زیادتی کے خیال سے تبدیلیاں کرنے کی ماضی میں بھی کوششیں کی گئیں اور آج بھی جاری ہیں ۔ ایسے میں ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ آخر اس کی کیا ضرورت پیش آ گئی کہ عبا دت گاہ کی تعمیر ناگزیر ہو گئی۔ یہاں اقلیتوں کو جان و مال، تعلیم و ملازمت اور نمائندگی کا حق حاصل ہے لیکن اس کے باوجود اگر ان کی کوئی حق تلفی ہو تو اس کا ازالہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن مسلم باشندوں کے ادا کر دہ ٹیکسز اور ان کی قومی املاک کو غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی تعمیر میں صرف کرنے کا کس طرح سے حق دیا جا سکتا پے۔ وہ بھی ایک ایسے شہر میں جو مسلمانو ں نے ہی بسایا ہو۔ ازروئے شریعت ایسا شہر جس کو بنایا اور آباد دونوں مسلمانوں نے ہی کیا وہاں مندر نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام آباد پاکستانی حکومت نے خود بنایا اور آباد کیا ہے لہذا یہاں پر مندر کی تعمیر اسلامی اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

دوسرا اسلامی اصول بھی پیش نظر رہے کہ اسلامی حکومت کبھی بھی کسی مندر، گردوارہ یا کلیسا کی زمین یا تعمیر کے لیے مدد نہی کر سکتی کیونکہ ملک میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ٹیکس کا پیسہ مسلمانوں کا ہے جو مندر کی تعمیر پر خرچ نہی کیا جا سکتا۔ اگر کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ تعمیر ہوگی تو اس مذہب کے ماننے والے اس کی زمین اور تعمیر کا خرچہ خود اٹھائیں گے۔

ایک مسلم حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں اشاعت و ترویج اسلام کا ماحول تشکیل دے۔ سورۃ الحج آیت41 میں فرمان الہی ہے کہ “جب ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوۃ دیں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے قبضہ میں ہے”۔ اللہ نے شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے۔ فرمایا گیا اس ظلم عظیم اور بڑی برائی کا خاتمہ اسلامی معاشرے اور مسلم حاکم سے مطلوب ہے اور یہی امن وامان اور غلبہ دین کی اساس ہے۔

غیرمسلموں سے وسعت النظری و قلبی اور ہمدردی کا پیمانہ یہ ہے کہ ان کی اسلام کی طرف رہنمائی کی جائے۔ ان کو گمراہیوں کی دلدل سے نکالا جائے، دین حنیف ک طرف راغب کیا جائے۔ اگر کسی غیر مسلم سے تعلقات ہیں تو ان کی نوعیت ایسی ہو کہ ان کو دین اسلام کی خوبیوں کی طرف مائل کیا جائے۔ اشاعت و تبلیغ اسلام کا فریضہ ہر مسلمان پر عائد ہوتا ہے۔ اگر اپنے طرز عمل سے مسلمان غیر مسلموں کو اسلام سے متنفر کرنے کا باعث بن رہے ہیں تو یہ مسلمانوں کی چھوٹ کا نہیں شدید پکڑ کا ذریعہ ہے۔ دوسرا یہ کہ آج بھی غیر مسلم جو اسلام قبول ر رہے ہیں وہ اسلام کے پیرو کا روں کا طرز عمل دیکھ کر نہیں بلکہ دین اسلام کی حقانیت اور اس کے حسنات و خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اور اپنے اندر امڈے ہوئے سوالات کی دین اسلام میں تشفی حاصل کر کے مسلمان ہو رہے ہیں۔

ہمیں بحیثیت مسلمان اپنے معذرت خواہانہ رویوں کو ترک کرتے ہوئے یہ سوچنا چا ہیئے کہ ہم ایک غالب دین کے ماننے والے ہیں، ہم اپنے ملک میں یہ سوچ کر غیرمسلموں کو عبادت گاہ بنانے دیں کہ ہمیں دنیا میں پریشانی نہ ہو ایک گمراہ کن فلسفہ ہے۔ ہماری اولین کوشش یہی ہونی چاہئے کہ اہل علم کی رائے آنے کے بعد باہمی بحث و مباحثے میں الجھنے کی بجائے اپنی توانایاں غلبہ اسلام کی جدوجہد پر صرف کریں۔

  •  مندرجہ بالا مضمون لکھاری کی رائے ہے، موضوع پر مزید نگارشات کو خوش آمدید کہا جائے گا

     نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صفیہ نسیم معاشرتی اور تاریخی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. fundacja-helios.pl کہتے ہیں

    Truly no matter if someone doesn’t understand after that
    its up to other people that they will help, so here it occurs.

تبصرے بند ہیں.