فضاؤں کی تسخیر آج بھی خواہشِ اولیں

484

آسمان کی وسعتوں کی پیمائش ہمیشہ سے انسان کا خواب رہا، دور افق پر اڑتے پرندوں کو دیکھ کر انسان کے دل میں کسک جاگتی کہ کاش اس کے بھی پر ہوتے اور وہ بھی اڑ پاتا۔ اسی خواب کی تکمیل کی جہد مسلسل میں انسان نے نت نئے تجربات کیے۔ کہیں کوئی پر لگا کر اڑا تو کہیں کسی نے غباروں کی مدد سے فضائے بسیط کی بلندیوں کو پاٹنے کی کوشش کی۔ ڈاونچی سمیت بہت سے ماہر طبیعات اس خواب کو پلکوں پر سجائے چلے گئے لیکن یہ سہرا رائٹ برادران کے سر رہا اگرچہ ان سے قبل ائیرشپ کی تخلیق اڑنے کی خواہش پوری کر چکی تھی لیکن اڑان کو اس کے موجودہ مفہوم سے آشنا رائٹ برادرز نے کیا۔ تب سے اب تک اڑان انسانی زندگی کا بھی ایک اہم جزو بن کر رہ گئی۔

لیکن مخلوق کب خالق کا مقابلہ کر سکی ہے۔ ۔ ۔؟ انسان کو جب بھی اس سفر میں کوئی مشکل درپیش آئی جب بھی کسی خاص مقصد کے لیے کچھ ڈیزائن کرنے کی بات آئی، انسان کی نظریں بلا اختیار خالقِ کل کی بنائی ہوئی مشین کی جانب اٹھ گئیں۔ اولین طیاروں سے لے کر آج بنائے گئے جدید ترین جہاز بھی کسی نہ کسی پرندے کی ساخت کی بنیاد پر بنائے گئے اور قدرت نے کبھی انسان کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔ انسان نے جو بھی سوال قدرت کے حضور پیش کیا قدرت نے اس کا بہترین ممکن جواب انسان کی جھولی میں ڈالا۔ ہم سب آج کے جدید ترین طیاروں میں سفر کرتے ہوئے انہیں بنانے والے ذہین و فطین انسانوں کے شکرگزارتو ہوتے رہتے ہیں۔ پر آئیے ایک نظر خالق کائنات کی بنائی ہوئی ان مشینوں پر بھی ڈالیں جنہوں نے انسان کو اڑان کے اصول و قوانین سے روشناس کرایا۔

اولین طیاروں کے سامنے سب سے بڑا ٹاسک صرف ہوا میں بنے رہنا ہوا کرتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے انسانی ہنر میں بہتری آتی گئی، وہ نئی سمتیں تلاشنے لگا۔ پہلی جنگ عظیم میں تو ہوائی جہاز نوزائیدہ تھے لیکن دوسری جنگ عظیم اور اس سے قبل ان کی مانگ اور مخصوص مقاصد کے لیے جہاز بنانے کا رجحان کافی ترقی پا چکا تھا۔ باربرداری اور سامان کی نقل و حمل اس دور میں ایک بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی۔

اس چیلنج کو ذہن میں رکھ کر جب انسان نے قدرت کو کھنگالا تو اس کی نظرسنہری عقاب، راج ہنس اور کیلی فورنیا کونڈر پڑی جو کئی کئی کلو وزنی ہونے کے باوجو د اپنی مخصوص ساخت کی بنا پر یوں اڑتے تھے جیسے کاغذ کے بنے ہوں۔

ان پرندوں پر کی گئی تحقیق نے ہی انسان کو کارگو طیاروں کے پر چوڑے اور لمبے رکھنے کے گر سکھائے۔ اس کے بعد بڑا مرحلہ طیارے کو فضامیں بلند کرنے کے لیے اسے مطلوبہ طاقت فراہم کرنے کا تھا۔ اس سوال کا حل انسان کو قدرت نے راج ہنس یعنی سوان سے عطا فرمایا۔ راج ہنس اپنے بہت زیادہ وزن کی وجہ سے سیدھا فضا میں بلند نہیں ہوپاتا بلکہ پہلے کچھ دور تک پانی کی سطح پر دوڑتا ہے اور مطلوبہ رفتار پانے کے بعد ہی فضا میں بلند ہو پاتا ہے۔ اس سے انسان نے سبق سیکھتے ہوئے لمبے رن ویز اورٹیک آف کے پیٹرن ترتیب دیئےـ

اسی طرح اگلا بڑا مرحلہ اتنے زیادہ بھرے ہوئے طیارے کو بحفاظت زمین پر اتارنے کا تھا۔ اتنے زیادہ وزن کے ساتھ کوئی بھی طیارہ اگر ایک مخصوص رفتار سے زیادہ تیزی سے لینڈ کرتا تو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا جبکہ اگر ہوا میں رفتار زیادہ کم کرتا تو زمین پر آگرتا۔ اس گتھی کو پھر سلجھایا ہنسوں نے۔ راج ہنس جب اترتا ہے تو اپنے دونوں پروں کو پھیلا کر ایک پیراشوٹ سابنا لیتا ہے جس سے اس کی رفتاربھی کم ہو جاتی ہے اور اسے زمین پر اترتے وقت زیادہ جھٹکے کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔

انسان نے یہی اصول طیاروں پر لاگو کیا اور ان میں ایک آلہ فلیپ کے نام سے لگایا جس کا کام کسی پیراشوٹ کی مانند اترے طیارے کی رفتار کم کرنا اور ساتھ ہی ساتھ اسے اتنی اوپری لفٹ فراہم کرنا بھی ہوتا ہے جس سے طیارہ ہوا میں قائم رہ سکے۔ فلیپ کے استعمال سے بھاری سے بھاری طیارے کو اتارنا انتہائی آسان ہو گیا اور اس کھوج کا سہرا ایک بار پھر قدرت کے سر رہا۔

اسی طرح جب طیارے جنگی مشین کے طور پراستعمال ہونے لگے تو ڈاگ فائٹ (ہوا میں دو جہازوں کی لڑائی) کے لئے طیارے بنانے کا مرحلہ آیا تو انسان نے پھر ایک نگاہ پرندوں کی دنیا پر ڈالی۔ اس بار اسے پھرتی اور تیزی کی تلاش تھی۔ نگاہ انتخاب شکرے اور باز پر جا کر پڑی جو دونوں فضا میں ہی شکار پکڑنے کے ماہر اور انتہائی تیز رفتار پر پر خطر قلابازیاں کھانے کے ماہر تھے۔ انسان نے ان کی ساخت اور بناوٹ کا جائزہ لیا۔ اس سے قبل تمام جہاز سیدھے پروں والے بنائے جاتے تھے۔ پنکھے والے ٹربو پراپ طیارے تو سیدھے پروں والے ہوتے ہی تھے پر ابتدائی جیٹ بھی سیدھے پر ہی رکھتے تھے۔ لیکن جب رفتار اور تیزی کی کھوج میں انسان نے شکرے کا جائزہ لیا تو اسے پہلی بار پیچھے مڑے ہوئے اور باریک نوکدار پروں کی افادیت سمجھ آئی. انہی پرندوں پر تحقیق نے بیک سویپٹ ونگز(پیچھے مڑے ہوئے پر) کو جنم دیا۔

ڈاونچی نے کئی سو سال قبل انسان کو ایک ایسی اڑنے والی مشین کی خیال دیا جو ہوا میں معلق رہ سکتی تھی۔ معلق رہنے والی مشین تو دور کی بات اس دور میں اڑنے کی بات بھی پاگل پن کا سرٹیفیکیٹ سمجھی جاتی۔ لیکن ڈاونچی کی تحقیق سے لے کر ہیلی کاپٹر کے معرض وجود میں آنے تک اس ساری جدوجہد کا مرکز وہ چند پرندے تھے جنہوں نے انسان کی نظروں کو یہ خواب دیکھنے کی جرات دی۔ کنگ فشر وہ پرندہ تھا جس پر کی گئی تحقیق نے اس خواب کے خاکے میں رنگ بھرے۔ کنگ فشر اپنی مخصوص بناوٹ کی بنا پر ہوا میں معلق رہ سکتا ہے اور اس کے ساخت کے ہی بنیادی اصول ہیلی کاپٹر کی تیاری میں بھی بنیاد بنائے گئے۔

اس عروج پر پہنچ کر بھی انسان کی خوب تر کی پیاس ٹھنڈی نہ ہو سکی اور اب کی بار اس کی نگاہ دنیا کی شاید سب سے عمدہ فلائنگ مشین پر پڑی جسے ہم شکرخورہ یا ہمنگ برڈ کا نام دیتے ہیں۔ یہ پرندہ اپنے بے پناہ لچکیلے پروں کی بنا پر آگے اور پیچھے دونوں سمتوںِ میں اڑان بھر سکتا ہے۔

انسان نے اس کی بناوٹ اور ساخت کا بغور مطالعہ کیااور کئی سالوں سے اس جستجو میں تھاکہ اس جیسی کو ئی ٹیکنالوجی اس کے بھی ہاتھ لگے۔ سالوں کی محنت کے بعد جا کر اس خزانے کی کنجی انسان کے ہاتھ لگی اور اس نے تھرسٹ ویکٹرنگ کا عجوبہ پیدا کیا۔ اس ٹیکنالوجی میں وہ حصہ جس سے طیارے کے انجن میں سے گرم گیسیں نکلتی ہیں اس کا رخ اچانک تبدیل کرنے سے طیارے کے اندر عام طیارے کی نسبت کہیں زیادہ تیزی سے مڑنے کی صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے۔ اور سب سے بڑی بات کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کچھ دور تک طیارے کو نہ صرف الٹا اڑایا جا سکتا ہے بلکہ اس کو ہوا میں ایک ہی جگہ معلق بھی کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ جدید ترین طیاروں جیسے ایف تھرٹی فائیو میں یہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

آج کئی سال کی تلاش اور جستجو کے بعد بھی انسان کی پیاس نہیں بجھی اور وہ بہتر سے بہتر فلائنگ مشین کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اس تلاش میں اسے جب کبھی کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ آج بھی قدرت سے ہی رجوع کرتا ہے اور قدرت ایک مہربان ماں کی مانند آج بھی اس کے ہر سوال کا جواب فراہم کرتی ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صبیح الحسن ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی حوالے سے مضامین ضبط تحریر لاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.