‘ڈیل آف سنچری’ منصوبہ امن لائے گا؟‌

334

یورپی ارکانِ پارلیمان نے غربِ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ایک خط سامنے آیا ہے جس میں 25ممالک کے 1ہزار سے زائد یورپی ارکانِ پارلیمان نے ٹرمپ اورنیتن یاہو کی مشترکہ کارروائی کو خطرناک قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ 2 روز بعد یکم جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے جو امریکی صدر کے تجویز کردہ نام نہاد امن منصوبے ’’ ڈیل آف سنچری‘‘ کا حصہ ہے۔

اِس وقت دنیا میں دو بڑے تنازعات ہیں، پہلا تنازعہ مسئلہ فلسطین جبکہ دوسرا مسئلہ کشمیر ہے۔ دونوں تنازعات کی وجہ سے کئی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں لاکھوں لوگ یا تو مارے جا چکے ہیں یا اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر عالمی برادری کی توجہ کا منتظر ہے۔ کشمیر میں 73سالوں سے بھارتی فوج مظالم ڈھا رہی ہے۔ ہزاروں معصوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ ہزاروں معصوم بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ کتنی ہی خواتین کی بے حرمتی کی جا چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود عالمی برادری اِس مسئلے کا حل نکالنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

مسئلہ فلسطین دوسری جنگ عظیم کے بعد باقاعدہ سازش سے وجود میں لایا گیا۔ یہ بھی عالمی توجہ کا منتظر ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد یورپی عالمی طاقتوں نے ایک یہودی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی ،جسے اسرائیل کا نام دیا گیا۔ اِس مسئلے پر عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان کئی تباہ کن جنگیں ہو چکی ہیں۔ اِن جنگوں میں پہلی عرب اسرائیل جنگ 1948ء ، دوسری عرب اسرائیل جنگ 1956 ء، تیسری عرب اسرائیل جنگ 1967ء اور لبنان جنگ 1982ء شامل ہیں۔ بلکہ شام کی جنگ بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے۔

اِن جنگوں میں لاکھوں مسلمان یا تو مارے جا چکے ہیں یا اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ رواں سال جنوری میں امریکی صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کا نام نہاد امن منصوبہ پیش کیا ، جسے ڈیل آف سینچری کا نام دیا گیا۔ اِس گھنائونے منصوبے میں کہا گیا کہ مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے۔ شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا جو یہودی بستیاں اب تک تعمیر ہو چکی ہیں وہ اسرائیل کی ملکیت تصور ہوں گی۔ جو فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے۔ اس منصوبے کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول یعنی مسجد اقصی پر اسرائیل کا قبضہ ہو جائے جو کسی غیرت مند مسلمان کو کسی صورت قبول نہیں ہو سکتا۔ کئی ممالک اِس گھنائونے منصوبے کی مخالفت کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ دنیا بھر کے مسلمانوں خصوصا مظلوم فلسطینیوں پر ایک شب خون ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے خلاف بڑی سازش ہے۔

اب یورپی اراکینِ پارلیمان نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے اِس منصوبے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ یورپ کے1ہزار سے زائد اراکین پارلیمان نے اسرائیل کو اِس گھنائونے منصوبے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔ ان اراکین پارلیمان نے اس کے خوفناک نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔ یہ خط متعدد اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو اسرائیل کا دائرہ اختیار غرب اردن میں قائم کی گئی یہودی نو آبادیوں تک وسیع کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو اِس سے مقبوضہ غرب اردن کا وہ 30فیصد علاقہ اسرائیل میں شامل کر لیا جائے گا جس پرفلسطینی مستقبل میں اپنی خود مختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی اس طرح فلسطینیوں سے ان کی ریاست یعنی گھر بار چھین لئے جائیں گے۔ امریکہ اِس منصوبے کا سب سے بڑا حامی ہے جس نے ہمیشہ اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کے خون بہانے سمیت ہر ظالمانہ اقدام کی کھل کر حمایت کی ہے۔ یورپی اراکینِ پارلیمان کی جانب سے لکھے گئے خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے امکانات کے لیے زہر قاتل ہو سکتا ہے۔

یورپی اراکینِ پارلیمان کا یہ خط پوری عالمی برادری کے لیے ایک الرٹ کال ہے۔ کیونکہ اگر اسرائیل کے اِس منصوبے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی۔ پوری دنیا کی معیشت کرونا وائر س کی وجہ سے تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ امریکہ جیسا ملک معاشی لحاظ سے اِس صورتحال کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہے۔

تمام عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو لگام دیں کیونکہ موجودہ حالات میں دنیا کسی اور جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ لیکن اسرائیل ہمیشہ کی طرح اپنے غیرقانونی منصوبے پر اڑا ہوا ہے، اس ملک کی حکومتوں نے نہ صرف فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ جمایا بلکہ ان کا خون بھی بہایا، ہزاروں فلیسطینی مرد اور عورتیں اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں جنہیں انتہائی درد ناک اذیتیں دی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو اب بھی کوئی پرواہ نہیں کہ دنیا کا امن تباہ و برباد ہو جائے، اگر اسرائیل کو روکا نہ گیا تو کورونا کے وار سے زخمی دنیا کو ایک خطرناک ترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں 

نعیم کاندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.