آن لائن کلاسز اور مولانا!

291

کورونا وبا کا چند ماہ سے ہر طرف دور دورہ ہے جس سے ہر شخص کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ ہر شعبہ اس بیماری کے سبب فی الوقت معمول پر آنے سے قاصر ہے۔ موجودہ حالات سے تعلیمی شعبہ بھی ماوریٰ نہیں۔ وبائی دور میں طلبا پر مبنی طبقے کی بھی چاندی ہو گئی ہے۔ چھٹیاں منائی جا رہی ہیں، مرضی کی زندگی گزاری جا رہی ہے، روزمرہ پڑھائی سے عارضی ریلیف ملا ہوا ہے۔ لیکن طلبا کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو گھر رہتے رہتے عاجز آ گیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں اور وہ اپنی پرانی مصروفیات میں ایک بار پھر سے مشغول ہوجائے۔ بعض طلباء اپنے دوستوں یاروں کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں۔ کوئی کسی کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ کوئی اپنی شعبدہ بازی سے اپنا آپ منوانا چاہتا ہے۔ کسی کو ٹیچرز کی نظر میں اچھا رہنے کی فکر کھائی جا رہی ہے۔ غرضیکہ ہر کسی کی اپنی اپنی آرزو ہے۔ ہر کسی کا اپنا اپنا خواب جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بے چینی ہے کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ سب سے اہم بات جس کا آخری سمسٹر ہے وہ تو بہت ہی زیادہ مضطرب پایا گیا ہے۔ اس دعا میں لگا ہوا ہے کہ اے اللہ پاک جلدی سے اس بیماری کو ختم کردے یہ میرا آخری سمسٹر ہے اور مجھے کالج یا یونیورسٹی جانا ہے۔ کیفے میں بیٹھنا ہے، اس کیفے کی چائے سے لطف اندوز ہونا ہے، کلاسز سے باہر بیٹھ کر اور (ضروری) کام بھی کرنے ہیں۔ آخری سمسٹر والوں کا دکھ اس وقت کیا ہے وہ، وہی بہتر بتا سکتے ہیں۔

کچھ اسٹوڈنٹس ایسے بھی ہیں جن کو اپنا سال کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے گو کہ کچھ اسٹوڈنسٹس کو وزیر اعظم کے طفیل پڑھنے کی زحمت تک نہ کرنا پڑی نہ امتحان کی تیاری، سیدھا ہی اگلی جماعت کی مل گئی انہیں سواری، لیکن کچھ تعلیمی اداروں میں ایسا نہیں ہوا۔ ان کے طلبا کو اپنا سال ضائع ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اسی کے پیش نظر کچھ اداروں نے آن لائن کلاسز کا آغاز کردیا ہے۔ کچھ اس سے خوش ہیں اور کچھ وہی ہیں جن کا ذکر میں پہلے کرچکا ہوں۔ آن لائن کلاسز اُن لوگوں کے لئے نعمت سے کم نہیں جو باہر نہیں جانا چاہتے۔ بچپن میں جب میں اسکول نہیں جانا چاہتا تھا اور اتفاق سےاسکول کا ڈرائیور کسی بھی وجہ سے آنے سے قاصر رہتا تو اُس وقت خوشی کی انتہا نہیں ہوتی تو والدہ مرحومہ فرمایا کرتی جس طرح کی روح اُسی طرح کے فرشتے۔ تو وہ لوگ جو آن لائن کلاسز سے بےحد خوش ہیں ان کے لئے میری والدہ کا کہا یہ جملہ بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔

آن لائن کلاسز کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب استاد کے لیکچر سے بوریت ہونا شروع ہوجائے تو ویڈیو لنک آن نہ ہونے کی صورت میں بوریت کو دلچسپی میں بدلا جاسکتا ہے اور یقینی طورپر بہت سے اسٹوڈنٹس ایسے بھی ہوں گے جو لیکچر کے دوران بہت زیادہ لطف اندوز ہوئے ہوں گےْ اگر انہیں بوریت ہونا شروع ہوجاتی ہوگی تو کوئی موبائل پر لڈو اسٹارتو کوئی کینڈی کریش کھیل کر وقت گزاری کر رہا ہوگا۔ اور اب تو پب جی نامی گیم کی ہوا اُڑی ہوئی ہے جس کو دیکھو یہی گیم کھیلتا ہوا پایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو دعوت بھیج کر ٹیم کی صورت میں بھی اس گیم کو کھیلا جاسکتا ہے اور بہت سے ایسے اسٹوڈنٹس بھی ہوں گے جو استاد کی presentation کے لئے گروپ بنانے کی بجائے اس گیم میں اپنا گروپ بنانے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہوں گے ۔اور ایسے گیم کھیل کر اور کبھی chicken dinner کا مزہ لے کر زیادہ مؤثر انداز میں وقت کو خوشی خوشی گزار لیتے ہوں گے۔ طلبا کی ایسی تعداد زیادہ ہو گی جو بے بسی کی تصویر بنے کلاسز لینے پر مجبور ہوں گے۔

طلبا کی طرح کچھ سیاستدان بھی ایسے ہیں جو اپنی کلاس یعنی قومی اسمبلی جانا چاہتے ہیں ملکی مسائل یا اصلاحات کے لئے نہیں بلکہ اُن اسٹوڈنٹس کی طرح جو کالج یا یونیورسٹی فقط اس لئے جانا چاہتے ہیں کہ وہاں وقت گزاری کرسکیں اور اپنے اپنے (اہداف) کو حاصل کرسکیں۔ ٹھیک اسی طرح کچھ سیاستدان بھی قومی اسمبلی صرف اس لئے پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مراعات اور فُل پروٹوکول کو انجوائے کرسکیں۔ لیکن افسوس کچھ سیاستدان 2018 کے پیپرز مراد انتخابات میں برے طریقے سے fail ہوگئے ہیں کہ وہ نہ اب اسمبلی کے اندر داخل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی آن لائن کلاسز کے ذریعے اس کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ سپلی دے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے 2023 تک صبر کرنا پڑے گا لیکن مولانا فضل الرحمان صبر نہیں کرنا چاہتے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کو گریس مارکس دے کر پاس کر دیا جائے یعنی کوئی ایسی تدبیر ہو جس سے ان کی منسٹر انکلیو جانے کی راہ ہموار ہوسکے۔

تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لے
اپنے پہ بھروسہ ہے تو یہ داؤ لگا لے

لیکن صد افسوس مولانا کے پاس داؤ لگانے کا موقع 2018 کے انتخابات میں تھا لیکن وہ داؤ لگانے کی بجائے بازی ہار بیٹھے۔ اب مولانا بگڑی بنا نہیں پائے۔ مولانا گھر بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے ہیں اب ان کی برداشت ختم ہوچکی ہے۔ پانی سر کے اوپر سے گزر چکا ہے۔ مولانا نے بہت ہاتھ پاؤں بھی مارے لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ ملین مارچ کے لئے اپوزیشن کو ساتھ ملانا چاہا لیکن ایسا نہ ہوسکا.مولانا ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ قومی اسمبلی میں جاکر بیٹھ جائیں اور پھر سے وہی مزے لے سکیں جس کے وہ برسوں سے عادی ہوچکے ہیں لیکن سب لاحاصل رہا ۔پھر کورونا آگیا جس نے مولانا کا رونا وقتی طور پر کم کردیا اور مولانا اچھے بچوں کی طرح ہمت ہار کر چھپ چھاپ ایک کنارے بیٹھ گئے۔ پھر بی این پی کے سردار اختر مینگل نے ہاؤس آف دی فلور پر حکومت سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کردیا۔بی این پی کی جانب سے علیحدگی کے بعد مولانا کی خواہش نے ایک بار پھر سے انگڑائی لی اور یوں مایوس مایوس نظر آنے والے مولانا کی ایک بار پھر جان میں جان آئی۔

مولانا نے سردار اختر مینگل کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور دل کی بات زبان پر لاتے ہوئے یہ بھی کہہ ہی ڈالا کہ ان کے اس فیصلے سے اُمید کی کرن پیدا ہوگئی ہے۔ ملک کے لئے نہیں قوم کے لئے نہیں یہ مولانا اپنے لئے کہہ رہے تھے کہ ان کو ایک راستہ نظر آیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ مولانا اس اُمید پر ہیں کہ اب حکومت گرسکتی ہے اوراس کے بعد وہ ایک بار پھر سے قومی اسمبلی کی کرسی کے زینے پر چڑھ سکتے ہیں۔

اختر مینگل اور مولانا کی ملاقات میں یقینی طور پر فضل الرحمان کی زبان سے مٹھاس ہی مٹھاس برسی یعنی سیدھے الفاظ میں وہ اختر مینگل کی چاپلوسی کرتے ہی پائے گئے۔ظاہری بات ہے مولانا اتنے سالوں کبھی بھی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے کشمیر کے حوالے سے نہ کچھ بولے نہ کوئی اقدامات کرنے تک کی کوشش کی تو اختر مینگل سے بلوچستان کے مسائل پر وہ کیا بات کریں گے ؟وہ یہی درخواست کرتے رہے ہوں گے کہ سردار صاحب اب مڑنا نہ اپنے فیصلے پر قائم رہنا ۔اس حکومت سے جان چھڑائیں تاکہ ہم نئے الیکشن کی طرف جاسکیں اور مجھے میری کھوئی ہوئی کرسی بھی واپس مل جائے۔

مولانا ہر صورت اپنی (کلاس) میں جانا چاہتے ہیں چاہے اس کے بعد اُن کو آن لائن کے ذریعے ہی قومی اسمبلی یا یوں کہہ لیا جائے کہ اپنی کرسی کا نظارہ کرنا پڑے لیکن فی الحال دلی دور ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

طیب ظاہر پاکستانی سیاست پر کے گہرے نقاد ہیں، سمجھتے ہیں کہ ملک کا سیاسی نظام ٹھیک ہو جائے تو پاکستان کے 99 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.