فزیکل ڈسٹینسنگ ضروری ہے سوشل نہیں

487

کورونا کسی عذاب سے کم نہیں، ہر فرد اپنے گناہوں کے حساب سے گرفتار ہے۔ وزیر تعلیم نے لاک ڈاؤن سے قبل ہی تعلیمی ادارے بند کر کے بچوں کو گھر میں مقید کردیا تھا۔ جیسے ہی لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور دفاتر بند کر دیئے گئے، مقصد یہ تھا کہ جتنا فزیکل ڈسٹینس (انسانی فاصلہ) زیادہ ہوگا اتنا کورونا پھیلنے کا خطرہ کم ہو گا۔ ٹی وی پر کورونا کے بڑھنے کی خبریں لگاتار آتی رہیں۔ بازار کھلے تھے اور اس میں ایس او پی کی دھجیاں بکھیری جا رہی تھیں۔ تمام چینلز سے یہ ہدایت جاری کی جارہی تھیں کہ فزیکل ڈسٹنس رکھنا ضروری ہے آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ لفظ سوشل ڈسٹینس کے متبادل فزیکل ڈسٹنس استعمال کرنے کی کیا وجہ ہے؟

وجہ صرف اتنی ہے کہ ہمیں کورونا کے حالات میں انسانیت نہیں بھولنی اور نہ ہی کورونا کے سبب آپس کے تعلقاتِ توڑنے ہیں۔ صرف اور صرف اپنا آپ دوسرے خاندان کے فرد سے دور رکھنا تھا مگر سوشل ڈسٹینسنگ کا لفظ استعمال کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور ہر شخص نفسانفسی کا شکار نظر آیا۔ حالانکہ یہ فزیکل ڈسٹینس ہونا چاہئے تھا یعنی انسان ایک دوسرے کے قریب مت جائیں ، 6 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھیں، لیکن معاشرتی میل جول برقرار رکھیں سوشل ڈسٹینسنگ (ملنا جلنا چھوڑ دینا) پر عمل نہ کریں کیونکہ یہ تو آپ کی رشتے داریاں چھڑوا دے گا، اگر آپ اپنے دوست، رشتے دار سے ملیں گے نہیں تو زندگی کیسے گزرے گی۔ سوشل ڈسٹینسنگ کا ایک اور نقصان یہ ہوا کہ عام لوگوں کے معاش پر چوٹ پڑی تو سب سے پہلے اپنی فیملی کی بھوک کی فکر ہونے لگی۔ کورونا کا مزید یہ بھی نقصان ہوا کہ لوگوں کو بے ایمانی کرنے کا موقع مل گیا، کراچی میں بڑے پیمانے پر راشن کی تقسیم ہوئی مگر یہ دیکھنے میں آیا کہ ایک خاندان سے دس لوگوں نے راشن وصول کئے اور دوسرے لوگوں کا حق مارا۔

مکمل لاک ڈاون کے منفی نتائج سامنے آئے تو حکومت نے معاشی بدحالی کے سبب نجی دفاتر کھولنے کی اجازت دے دی۔ ٹیکسٹائل ملز، فارماسیوٹیکل کمپنیز اور مختلف ادارے کھولے گئے مگر بازار اور شاپنگ مال نہیں کھولے گئے کہ اس سے کورونا کے پھیلنے کا خدشہ زیادہ تھا۔ تقریبا سترہ روزے سے بازار ہفتے میں چار دن کھولنے کی اجازت دی گئی۔ عید سے ایک دن قبل بازار کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور کورونا ان سے دور کسی کونے میں آرام فرما رہا تھا کہ جیسے عید تک کہیں چھٹیوں پر بھجوا دیا گیا ہے۔ جیسے عید کے ایام ختم ہوئے پھر سے کورونا کا شور مچ گیا حالانکہ عید کے بعد صوبہ سندھ میں خصوصاً کراچی میں کورونا کے باعث صبح 8 سے شام سات بجے تک کی چھوٹ دی گئی مگر اکثر علاقے رات ایک بجے تک کھلےنظر آئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ عید کے بعد کورونا کیسز میں تیزی دیکھی گئی اور کورونا نچلی سطح پر پھیلنا شروع ہو گیا۔ یہ حال ہو گیا کہ ڈاکٹرز مشورہ دینے لگے اگر آپ کو کرونا کی علامات ہیں تو آپ گھر پر ہی کوارنٹائن ہو جائیں۔ اسی دوران بہت سی چیزوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اسی عرصے میں بھائی کی اہلیہ کو پیٹ کے درد کے باعث ہسپتال لے جانا پڑا۔ ہسپتال کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہسپتال کا نچلا عملہ کسی بھی ایس او پی کو فالو نہیں کر رہا تھا تو پھر ڈاکٹرز کی جان تو خطرے میں ہو گی ہی، وہ ہمارے بھائی، بہن ہیں جو اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر کورونا مریضوں کا علاج کر رہے ہیں مگر یہ آیا اور اس طرح کے دیگر عملے سے ہی اگر کام صحیح نہیں لیا جائے گا تو ڈاکٹروں کی زندگیاں تو ہر وقت خطرے میں رہیں گی۔ اسی دوران ایک ماہر امراض جِلد کے کلینک جانے کا موقع ملا، ماسک سب نے لگائے ہوئے تھے مگر چھ فٹ کا فاصلہ کہیں نظر نہ آیا۔ رش کا یہ عالم تھا کہ کورونا اب کہ تب پھیلا۔

ایک رشتہ دار کی ہاں فوتگی ہوئی، گھر والے سب کو ہسپتال کی رپورٹ دکھا رہے تھے کہ ہماری والدہ کا انتقال کورونا سے نہیں ہوا یعنی ان کے گھر آ کر کسی نے کوئی غلطی نہیں کی، اور ان میں سے کسی کو کورونا نہیں ہے۔ ہمارے پڑوس میں انکل اپنے بھائی کی میت کا ذکر کر کے رونے لگے کہ میں بھائی کے جنازے پر نہیں جا سکا اور نہ میری بیوی میری بھابھی سے ملنے جا سکیں کیونکہ بیٹے نے منع کیا تھا کہ اگر آپ وہاں گئے تو پھر کورونا لے کر ہمارے گھر مت آئیے گا حالانکہ میرے بھائی کا انتقال کورونا سے نہیں ہوا تھا۔

کورونا کیلئے سوشل ڈسٹینس کا لفظ استعمال کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے، بھائی بھائی سے نہیں مل سکتا، یہاں تک کہ اپنے بھائی کی میت میں شرکت نہیں کر سکتا۔ موت اور جنازے پر لوگ اپنے پیاروں کے دکھ درد نہیں بانٹ سکتے۔ کورونا نے جہاں لوگوں کے معاش، روزگار اور کاروبار پر کاری ضرب لگائی۔ وہیں آپس کی رسمی محبتوں کی پول پٹیاں بھی کھول دیں کہ ہمارے نزدیک انسانیت اور جذبات کی کیا اہمیت باقی رہ گئی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ فزیکل ڈیسٹینسنگ رکھیں یعنی 6 فٹ کی جسمانی دوری رکھیں جو کورونا سے بچنے کیلئے ضروری بھی ہے، مگر سوشل ڈسٹینسنگ نہ کریں یعنی رشتے داروں کو چھوڑ نہ دیں، ملنے جلنے والوں سے بات چیت رکھیں، ان کا حال احوال پوچھتے رہیں چاہے فون پر ہی پوچھ لیں، خیال رہے یہ کورونا ہمارے خونی رشتے توڑنے میں کامیاب نہ ہو پائے، کورونا کو اس محاذ پر بھی شکست دینی ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صائمہ واحد تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ خواتین سے متعلق معاشرتی مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.