روزگار میں‌ برکت کے آزمودہ اصول

716

زندگی کے کچھ ایسے سبق ہیں جن پر اگر بروقت عمل کر لیا جائے تو ساری عمر سکون سے گزرتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ یہ سبق دینے والے بروقت مل جائیں۔

تقریباً پانچ برس پہلے میں اپنی موٹرسائیکل جسے میرے دوست ڈولی کہتے ہیں پر سفر کررہا تھا۔ ایک بابا جی نے لفٹ کے لیے ہاتھ بڑھایا، میں نے فوراً سے ڈولی کو روکا اور بابا جی کو ساتھ بِٹھا لیا ۔ ان سے تعارف پوچھا تو معلوم ہوا کہ بابا جی اِس عمر میں بھی نوکری کر رہے ہیں ۔ بابا جی کے حالات و واقعات صاف بتارہے تھے کہ وہ انتہائی نیک دل اور مخلص انسان ہیں۔ پھر بابا جی نے میرا تعارف پوچھا۔ جب میں نے اپنے تعارف میں اپنی نوکری کے متعلق بتایا تو بابا جی مجھے اپنا بیٹا سمجھ کر نصیحت کرنے لگے۔ کہا کہ پتر ہمیشہ یاد رکھنا۔ جس بھی ادارے میں کام کررہے ہو، پہلے تو اپنا کام اپنی طرف سے سوفیصد کرنے کی کوشش کرنا، پھر اپنے ادارے کا کبھی نقصان نہ کرنا۔ جہاں تک ممکن ہواُس ادارے کو اپنا گھر سمجھ کر کام کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ پتر تم افسروں کے سامنے تو اپنے آپ کو کام والا پیش کرو مگر جب افسر سر پر نہ ہوں تو تم کام کو بوجھ سمجھ کر چھوڑ دو یا اپنے کام میں ڈنڈی لگاؤ۔

کہنے لگے کہ پتر میری ذندگی کا بڑا حصہ نوکری میں نکل گیا ہے۔ ایمانداری سے کام کرتا رہا ہوں، بچوں کی شادیاں اِسی نوکری سے کی ہیں اور ایک گھر بنایا ہے۔ اس وقت میں بڑے سکون میں ہوں۔ میرے سامنے بہت سے ملازمین ایسے ہیں کہ جو افسروں کے جوتے اُٹھاتے رہے ہیں اور افسروں کے سامنے اپنے آپ کو کام والا پیش کرتے رہے ہیں، پھر وقت کے ساتھ ساتھ میں نے اُنہی افسروں سے ایسے ملازمین کو ذلیل و خوار ہوتے دیکھا ہے۔

یاد رکھو کہ کبھی بھی افسروں کو دِکھانے کے لیے کام مت کرنا بلکہ یہ سوچ کر کام کرنا کہ یہ کام میری ذمہ داری ہے۔ اور یہ سوچ کر کام کرنا کہ کیا ہوا افسران جو نہیں دیکھ رہے، میرا اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ پھر دیکھنا آپ کو اپنے کام میں مزہ بھی آئے گا اور آپ اپنے کام سے بہت کچھ سیکھو گے بھی۔ پھر کہنے لگے کہ ہمیشہ اپنے ادارے کو نفع دینے کے بارے میں سوچنا اور اپنے ادارے کی در و دیوار سے بھی محبت کرنا، آپ کے لیے اللہ بند راستوں کو بھی کھول دے گا بلکہ جہاں پر آپ کا گمان بھی نہ ہو گا اللہ وہاں سے بھی روزی کا بندوبست فرمائے گا۔

الحمدُ للہ میں آج بھی بابا جی کی نصیحت پر عمل کررہا ہوں اور مجھے اِس کے بےحد فوائد مل رہے ہیں۔ آپ بھی اپنے ادارے سے محبت کرو چونکہ آپ کو اِس ادارے کے وسیلہ سے اللہ روزی دے رہا ہے۔ ناقدری کرو گے تو روزی روٹی تو پھر بھی ملے گی مگر مشکل راستوں سے اور تکلیف کو کاٹ کر روزی ملے گی۔

میری اماں اکثر کہتی ہیں کہ پتر جن برتنوں میں روزی روٹی کھاتے ہو اُن برتنوں کی بھی قدر کیا کرو، ایسا کرنے سے اللہ راضی رہتا ہے۔ یقن جانیے کہ آپ جہاں سے بھی روزی روٹی کما رہے ہو اُس جگہ سے ، اُس ادارے سے، اُن در و دیوار سے محبت تو کر کے دیکھو، بڑا سکون ملے گا۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور نبی پاک ﷺ کے صدقے سے آپ کے لئے آسان راستوں سے اعلیٰ روزی کا بندوبست فرمائے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.