جٹی، عزت نفس اور ہماری روایت!

576

بہت عرصہ قبل جٹی نامی ایک فلم آئی تھی جس کا ایک منظر ابھی کچھ عرصہ قبل میری نگاہوں سے گذرا۔ اس منظر میں ایک سینی ٹیشن ورکر ایک امیر گھر میں کام کر رہی ہے۔ اچانک اس گھر کا مالک کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ وہ صفائی کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور سینی ٹیشن ورکر کو ڈانٹتا ہے۔ بحث کے بعد غصے میں آ کر وہ اس ورکر کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کردیتا ہے۔

اس فلم کے آن ائیر آنے کے بعد ملک بھر کے سینی ٹیشن ورکرز نے ہڑتال کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تھپڑ اس سینی ٹیشن ورکر کے منہ پر نہیں بلکہ تمام ملک کے اس نوعیت کے ورکرز کے منہ پر مارا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان تمام سینی ٹیشن ورکرز کی ہتک تھی اور یہ کہ یہ منظر ان کی اور اس پیشہ کی تذلیل تھی۔ مزید براں کہ ایسے مناظر اس رویئے کی حوصلہ افزائی کے مترادف تھے جو ان سینی ٹیشن ورکرز کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر ان کا مطمع نظر یہ تھا کہ اے ڈرامے بازی نیٔں چلنی ہُن۔ شروع شروع میں تو عوام یا میڈیا نے کوئی گھاس نہ ڈالی مگر جب ہڑتال لمبی ہوئی اور لینے کے دینے پڑنے شروع ہو گئے تو فلم ساز اور پروڈیوسر کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس فلم میں سے اس سین کو نکال دیا گیا۔

شائد آپ کو حیرانی ہوئی ہو کہ اس قبیل کے لوگوں کی بھی کوئی عزت نفس ہوتی ہے بھلا۔ جواب ہے کہ ہوتی ہے۔ ہر شخص کی، ہر ذی روح کی ایک عزت ہوتی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ آپ اس عزت کو اہم سمجھتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اپنی عزت کو اہم سمجھتے ہیں تو آپ کسی بھی شخص کو، چاہے وہ کوئی بھی ہو، یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ آپ کی تذلیل کرے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے اس بےحس معاشرے میں اچھی اقدار دم توڑ چکی ہیں جو کچھ باقی ہیں وہ بھی جاں بلب ہیں۔

اپنی عزت پر تو ہم حرف نہیں آنے دیتے مگر جب بات دوسرں کی عزت کی ہوتی ہے تو ہم بڑے آرام سے شانے اچکا کر آئی ڈونٹ کیئر والا فارمولا استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ہر شخص کے لیے ایک ہتک آمیز نام ، ایک تذلیل کرنے والا مذاق موجود ہے۔ اپنی گاڑی ٹھیک کروانے کے لیے شہر کے کسی بھی گیراج میں چلے جائیں اپنی تذلیل کروانے کے لیے ایک چھوٹا آپ کو لازمی ملے گا۔ چاہے یہ چھو ٹا بڑا ہو کر پچاس برس کا ہی کیوں نہ ہو جائے وہ چھوٹا ہی کہلائے گا اور اسے اتنی ہی غیر مہذب زبان اور مغلظ مذاق کے ساتھ مخاطب کیا جائے گا۔ اپنی تذلیل کروا کروا کر شہر بلکہ ملک کے ہر کونے میں موجود چھوٹے کی عزت نفس ختم ہو چکی ہے، آپ اسے اس نام سے پکاریں، طنز کریں وہ برا نہیں منائے گا۔

چند دن پہلے میں دفتر سے واپس گھر آ رہا تھا کہ گاڑی خراب ہو گئی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود مجھے نقص سمجھ نہ آیا تو ایک غیر معروف جگہ بریک لگاتے ہی بنی۔ ورکشاپ کے مالک نے کہا کوئی بڑا مسئلہ نہیں بس ‘کن کٹا’ (کٹے کان والا) باہر گیا ہوا ہے، آتے ہی منٹوں میں آپ کی گاڑی ٹھیک کر دے گا۔ آپ بس تھوڑا سا انتظار کر لیں۔ لہذا میں انتظار کی سولی چڑھ گیا۔ دل میں سوچنے لگا شائد کن کٹا مذاق میں کہا ہے۔

کوئی دس منٹ انتظار کے بعدایک ایسی شخصیت ورکشاپ میں داخل ہوئی جس کو اگر سورج کے سامنے بھی کھڑا کر دیا جاتا تو بھی ہر طرف اندھیرا چھا جاتا۔ اس کے اتنے میلے کپڑے جو کسی دور میں شائد کسی اور رنگ کے ہوں مگر اب کالے ہی لگتے تھے اور اس کا واقعی کان ایک جگہ سے کٹا ہوا تھا، یقینا کوئی حادثہ پیش آیا ہو گا۔ ورکشاپ کے مالک نے اسے دور سے ہی پھر آواز لگائی، اوئے کن کٹے ایتھے آ، صاب ہوراں دی گڈی دا مسئلہ چیک کر۔ بے حد سیاہ رنگت والا وہ لڑکا اچانک میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ لو جی ہن دسو کن کٹے نوں کی کرنا اے، ورکشاپ مالک نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔

اسی طرز کا واقعہ مجھے ایک ایسی دکان پر پیش آیا جہاں میں کسی شادی سے واپسی پر رکا۔ میں نے دکاندار سے اپنا مدعا بیان کیا۔ اس نے جھٹ پٹ آواز لگائی، اوئے کالے جلدی سے کوکا کولا کے چار ٹھنڈے ٹن پیک لے کر باہر آ۔ تھوڑی دیر میں ایک انتہائی گورا چٹا لڑکا ہاتھ میں مطلوبہ اشیأ لیے باہر آ گیا۔ میں سمجھا کہ شائد کسی اور کی آئٹم ہیں لہذا آرام سے کھڑا رہا۔ تب دکاندار نے اس سے کہا اوئے کالے پیک کر کے دے دے ان کو۔ جب اس لڑکے نے مجھے یہ سامان دیا تو میں نے اسے دوبارہ غور سے دیکھا کہ یہ کالا ہے تو نہیں مگر کہلاتا کیوں ہے۔

اس قسم کے واقعات ہمارے معاشرے میں اس طرح سے عام ہیں جیسے غلط العام محاورے ہماری زبان میں باالعموم مروج ہیں۔ دوسروں کی عزت وہی شخص کر سکتا ہے جو خود عزت دار ہے۔ جو اس بات کو سمجھتا ہے کہ دوسروں کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی خود اس کی اپنی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ان فرسودہ روایات اور سٹئیریو ٹائپ مائنڈ سیٹ سے باہر آئیں اور اپنی گفتار اور اپنے کردار میں شائستگی اور شستہ پن لے کر آئیں اور ان گھسے پٹے خیالات اور روایات کو خیرباد کہہ دیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.