چلو پھر سے مُسکرا دیں!

496

عید آئی ہے کیسی دھوم دھام سے

مناتے ہیں مسلمان،س

اسے بڑی شان سے

*

کہیں بنتی ہیں سوّیاں

تو کہیں شیر خورما

سجتا ہے دستر خوان پر،س

بریانی اور قورمہ

*

نت نئے رنگوں کی

پوشاک ہے پہنی جاتی

رنگِ حنا ہاتھوں کی،س

زینت بھی ہے بڑھاتی

*

ہنسنا، ہنسانا، ملِنا، ملانا

پر دیکھو یہ نہ بھول جانا

رکھنا خیال اُنکا،س

جو ہیں نادار

*

بے بس و مجبو ر ۔ ۔ ۔ اور لاچار

دے دینا دسترخوان پر تھوڑی سی جگہ اُنکو

دینا تحفے میں کچھ کپڑے،س

ہو ضرورتِ لباس جن کو

*

بُھلا کر ساری ناراضگیاں

پہل کرکے مل لینا

اور جو چاہو خود کی معافی،س

تو سیکھو معاف کرنا

*

منظور تھی شہادت جن کی

ماہِ صیام میں خدا کو

جدا وہ لوگ ہوئے حادثے میں

عظیم تر ’’الوداع“ کو

*

سائے میں اپنی رحمتوں کے

رکھے سب کو ربِ ذوالجلال

دیکھا جو عید کا ہلال،س

آیا یہ دل میں خیال

مٹ جائے ہر دکھ زمانے سے

جو کرلیں سب،س

سب کا خیال!س

***

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.