ماہِ رمضان کا انعام پاکستان

463

متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ تھا، ہندؤ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر نے کے لیے ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ایسی سازشیں تیار کرتے جو کہ مسلمانوں کی طبع پر گراں گزرتی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ہندؤ قوم کے خطرناک عزائم کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے دین و مذہب، جان و مال، تہذیب و تمدن کی حفاظت اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی فکری اور عملی توانائیاں ایک علیحدہ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے وقف کر دیں۔ بالآخر برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی رنگ لائی، ہجری و قمری تقویم کے اعتبار سے وہ 26 رمضان کا دن اور ستائیس رمضان کی شب تھی جب خالق ارض و سماء اللہ ربّ العزت کے خاص فضل و کرم سے ایک آزاد خود مختار اسلامی فلاحی ریاست ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔

رمضان کی مبارک ساعتوں میں پاکستان کا معرض وجود میں آنا درحقیقت قدرت الٰہی کا بہت بڑا انعام اور رمضان المبارک میں مسلمانوں کی دعاؤں کی قبولیت، قرآن کریم کی تلاوت اور کلمہ طیبہ کی برکت تھی۔ مالک ارض وسما اللہ عزوجل نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو انتہائی زرخیز خطہ سرزمین کے علاوہ بے شمار قدرتی و سائل اور معدنیات سے نوازا۔ سرزمین پاکستان کی دبیز تہوں میں قیمتی دھاتیں اور غیر دھاتی معدنیات کثیر مقدار میں رکھے۔ چاغی اور پنجاب میں کروڑوں ٹن خام لوہے کے ذخائر، بگٹی مری کے علاقہ میں سونا چاندی، تانبے کے وسیع ذخائر، بلوچستان میں کرومیٹ، بارینیٹ کوارٹرائیٹ کے ذخائر موجود ہیں۔

صوبہ سندھ میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر اور تھر میں کوئلہ کے ذخائر کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس خشک صحراء میں قیمتی و نایاب چیزیں چھپا کر اہل پاکستان کو قدرتی نعمتوں سے مالا مال کیا۔ ان لامحدود خزانوں کے علاوہ خالق ارض و سما اللہ ربّ العزت نے اہل پاکستان کو انتہائی خوبصورت خطہ سرزمین سے نوازا ہے جہاں ایڈونچر سے بھرپور ٹورازم، قدرتی حسن و خوبصورتی سے مزین مقامات کے علاوہ مذہبی و تاریخی مقامات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ سرزمین پاکستان کے قدرتی مناظر میں ساحل سمندر سے لے کر آسمان کو چھوتی برف پوش پہاڑی چوٹیاں، خوبصورت آبشاریں، چشمے و جھرنے، سرسبز گھنے جنگلات اور وادیاں ، خوابوں سے بھری رومان خیز جھیلیں اور وسیع و عریض دنیا کے مشہورصحرا شامل ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ قیام پاکستان کی بدولت اہل پاکستان کو غلامی کے طوق سے نجات ملی جو کہ قدرت الٰہی کی انمول ترین نعمت ہے۔

مگر صد افسوس کہ ہم اہل پاکستان قیام پاکستان سے آج تک اس بحث کا شکار ہیں کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا۔ تحریک پاکستان کا اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے کہ مختلف صوبوں، علاقوں اور مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو جس قوت نے ایک متحدہ قوم بنا دیا وہ قوت اسلامی نظریہ تھا، تحریک پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پرزور موقف یہ تھا کہ مسلمان اپنے الگ مذہب کی بنیاد پر ایک جداگانہ قوم ہیں۔ تحریک پاکستان کی بنیاد اسلام ہے، اسلام ہی نے ہمیں قیام پاکستان کے مخالفین کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔

قائد اعظمؒ کے مشہور سلوگن ایمان، اتحاد اور تنظیم پر ہی غور کر لیں کہ ایمان کی طاقت نے ہمیں متحد کیا۔ ہم ایک قوم بنے اور ہم اپنے لئے ایک الگ علاقہ، مملکت اور وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ 8 مارچ 1944ء کی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں قائداعظمؒ کی تقریر کا یہ مختصر ترین اقتباس دیکھیں۔ ’’پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندؤ مسلمان ہوا تھا۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے، وطن اور نسل نہیں‘‘۔

جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ قائد اعظمؒ سیکولر ذہن رکھتے تھے اور وہ پاکستان میں سیکولر نظام لانے کے حق میں تھے، سیکولر ازم کا ڈھول بجانے والا یہ گمراہ کن ٹولہ اگر اس دور کے ہندو اخبارات میں ہندو سیاست دانوں کے بیانات پڑھ لے تو انہیں علم ہو جائے گا کہ ہندو طبقہ پاکستان کی مخالفت ہی اس وجہ سے کر رہا تھا کہ وہ پاکستان کے مطالبہ کو اسلام ازم کی ایک کڑی سمجھتے تھے۔ وہ سیکولر طبقہ جو یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ پاکستان اسلام کے نفاذ کے لئے نہیں بنایا گیا تھا اور نہ ہی پاکستان کا یہ مقصد تھا کہ یہاں اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہونے والی اللہ کی آخری اور جامع کتاب قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق نظام حکومت قائم کیا جائے گا، شاید انہیں قائد اعظمؒ کے درج ذیل فرمان ہی سے کچھ سمجھ آ جائے۔ ’’اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی اور مکمل ضابطہ حیات ہے جو معاشرت، مذہب، تجارت، عدالت، فوجی امور، دیوانی، فوجداری اور تعزیرات کے ضوابط کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے‘‘۔

قائد اعظمؒ نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ حکم بھی یاد کروایا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن حکیم کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھے تاکہ وہ اس سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کر سکے۔ قائداعظمؒ نے بڑے واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’پاکستان سے صرف حریت اور آزادی مراد نہیں اس سے فی الحقیقت مسلم آئیڈیالوجی مراد ہے جس کا تحفظ ضروری ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ جس نظریہ پاکستان کی برکت سے ہم نے پاکستان حاصل کیا اسی نظریئے یعنی قرآن کریم کی اصولی ہدایات پر عمل کر کے اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اور پاکستان میں اسلامی نظام نافذ العمل کرکے پاکستان کو ایک بہترین اسلامی و فلاحی مملکت بنا سکتے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.