مثبت سوچیں اور مثبت رویہ اپنائیں

519

مثبت سوچ ایک ذہنی رویہ ہے جس کی وجہ سے آپ اچھے نتائج کی توقع کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں مثبت سوچ وہ سوچ پیدا کرنے کا عمل ہے جو توانائی کو حقیقت میں تبدیل کردیتا ہے۔ آج کے دور میں بہت سے لوگوں کی سوچ مثبت کی بجائےمنفی ہوتی جا رہی ہے۔ انسان جب تنہا ہوتا ہے تو مثبت سوچ کی بجائے منفی سوچوں میں گھر جاتا ہے جو اس کے تمام مثبت ارادوں اور امیدوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔

قول ہے: “اندھیرے کی سب سے بھیانک قسم منفی سوچ ہوتی ہے جو امید کے ہر چراغ کو گل کر دیتی ہے۔” شائد آپ اتفاق کریں کہ مثبت سوچ کی طاقت قابل ذکر حد تک حقیقت، یہ خیال کہ آپ کا دماغ اور آپ کی سوچ دنیا کو تبدیل کر سکتی ہے، تقریبا یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق سے ثا بت ہوا ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والوں کا دل زیاد ہ صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ ہوتا ہے۔ مثبت سوچ ہماری ذندگی میں بہت سی تبدیلیاں لاتی ہے۔

انسان صرف اپنی سوچوں کی وجہ سے خوش یا پریشان ہوتا ہے۔ آج اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ منفی سوچ کی وجہ سے عوامی سطح سے لے کر ایلیٹ کلاس تک میں مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہيں۔ خوش امیدی ن ر نہیں آتی۔ پاکستان کو ایک ناکام ریاست تصور کر لیا گیا ہے کیوںکہ ہماری نظر میں تمام تر منفی پہلوؤں کا ہی احاطہ کرتی ہیں۔ اگر ہم مثبت پہلوؤں کو مدنظر رکھيں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر کام اچھا ہونے لگے گا۔ منتحب حکومت اگر تہیہ کر لے کہ ہمیں پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو منوانا ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو درست کرنا ہے، اصل بات مثبت سوچ اور پھر اس پر عمل درآمد کی ہے۔ اپنی ناک میں کا اعتراف کرنا اچھی بات ہے مگر اس ناکامی کے نتیجے میں مایوس ہو کر مقصد سے ہٹ جانا یا آنکھیں چرانا بزدلی حتی کہ موت ہے۔ مقصد پایہ تکمیل تک پہنچانے تک جدوجہد کرنا او ر اصولوں پر سودے بازی نہ کرنا ہی مقصد کے حصول کو ممکن بنا سکتا ہے کیوںکہ ہمارے خیالات دراصل ہمارے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔

آئن سٹائن کی زندگی وہ ہے جو اس کے خیالات نے بنائی ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہے۔ جیسا ہم سوچتے ہیں ویسے ہی بن جاتے ہی۔ ہم جو کچھ بھی ہیں اپنی سوچ کی وجہ سے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیےکہ اپنی سوچ کوبدلیں کیونکہ جس طرف ہمارا دماغ اور ہماری سوچ ہو گی، ہماری قوت بھی اسی سمت لگتی ہے۔ اچھی سوچ ہماری عزت میں اضافہ کر تی ہے جبکہ بری سوچ کمی کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ اچھا اور مثبت سوچیں زندگی پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ نورمن ونسٹ پیل کا قول ہے” اپنی سوچ بدلیے ، آپ کی دنیا بدل جائے گی۔

آئیے ہم سب مل کر اپنے آپ سے عہد کریں کہ اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو تبدیل کریں یونکہ ہم ہی صرف اپنی زندگی کو بدل سکتے ہیں، کوئی دوسرا شخص ہماری ذندگی کو نہں بدلے گا۔ حب ہم اپنی سوچ کو ٹھیک کریں گ تو بہت مسائل خود ہی حل ہو جائیں. آخر میں صرف یہی کہنا ہے کہ اپنی سوچ کو مثبت بنائیں۔ معاشرہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ جب آپ اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو درست کریں گے تو معاشرہ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اقرا رزاق پاکستان سے شدید محبت کے ناطے ملک میں مثبت تبدیلی کی خواہاں ہیں اور قلم کے ذریعے جہاد کی قائل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.