“حصول علم کی حقیقت”

453

علم ابنِ آدم کو زندگی کا مقصد سمجھنے اور اپنی تلاش کرنا سکھاتا ہے، علم حاصل کرنے والے انسان کے اندر شعور کی شمع روشن ہوتی ہے جو اس کے حال کو سنوار کر مستقبل میں کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے۔ اب ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہم علم حاصل تو کررہے ہیں لیکن کیا یہ ہماری شخصیت میں وہ مثبت تبدیلیاں لارہا ہے یا نہیں۔

کیا ہمارے حصول علم کا کوئی فائدہ ہورہا ہے یا پھر ہم بھی اس جانور کی مانند ہیں جو اپنے اوپر وزنی بوجھ لیے چلتا ہے، ہاں فرق بس کتابوں کا ہے۔ علم حاصل کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ پورا سال کتابوں کا اس طرح رٹا لگایا جائے کہ امتحان میں شاندار نمبر ملیں جسکے نتیجے میں انعامات اور عزیزوں سے داد سمیٹ لی جائے اور بعد ازاں پورے سال کی محنت یا یوں کہیں کہ رٹا لگایا سبق اسطرح بھلا دیا جائے کہ کس کلاس میں پڑھا ہو یہ بھی یاد نہیں۔ حصول علم کے معاملے میں ذہانت اور عقل کا استعمال لازم ہے، یہی وجہ ہے کہ علم، عالم اور جاہل کے درمیان حد فاصل ہے اور اسی فرق کو رب العزت نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے کہ:

“اے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کیا علم رکھنے والے (عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہو سکتے ہیں. نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں.”سورۃ الزمر آیت 9۔

تو پھر حصول علم کیا ہے، چلیں آئیں حصول علم کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے ہیں. سب سے پہلے تو اللہ تعالٰی نے علم حاصل کرنے والوں اور اسکی اہمیت سمجھنے والوں میں رکھا یہی بہت بڑی نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنے کیلئے یہ زندگی بھی کم پڑ جائے گی۔ آپ کبھی غور کریں کہ جب پتھر کو تراشا جاتا ہے تو اسے ایک مخصوص عمل سے گزارا جاتا ہے جسکے بعد ہی وہ پتھر ایک پرکشش مجسمے میں تبدیل ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح علم انسان کو تراش کر اسکے اندر ان صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے جسے دیکھ کر اسکے اشرف المخلوق ہونے پر رشک آتا ہے. تاہم علم زندگی کی سمت دکھاتا ہے. علم حاصل کرنے والے شخص کے اندر سیکھنے کی لگن ہمیشہ زندہ رہتی ہے جسکے بل پر وہ ہر مقام پر کچھ نہ کچھ سیکھتا ضرور ہے۔ چنانچہ جس طرح ہم اپنے سیل فونز کو اپڈیٹ رکھتے ہیں اسی طرح سیکھنے کا عمل انسان کی شخصیت میں مسلسل نکھار پیدا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علم حاصل کرنے والے شخص کے اندر سیکھنے کی آگ سلگتی رہتی ہے. اس بات کی وضاحت حدیث کی روشنی میں اس طرح ہے کہ معلم انسانیت پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

“دو بھوکے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتے 1۔ علم کا بھوکا (طالب علم) 2۔ مال کا بھوکا (طالب دنیا).”الکافی ج 1، ص 46۔

یہ انتہائی اہم بات ہے کہ خالص علم حاصل کرنے سے انسان کے اعمال میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں جس میں سے ایک تبدیلی خود اعتمادی بھی ہے۔ علم انسان کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے، فرد کو ہمت و حوصلہ دیتا ہے جسکی مدد سے وہ دنیا کے سامنے اپنی دلیل پیش کر سکتا ہے یا اپنی بات کو دوسروں تک پہنچا اور سمجھا سکتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ کوئی شخص علم والا اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک اپنے اندر اُس ڈر اور خوف کو ختم نہ کر دے جو اسے مقابلہ کرنے یا اپنی رائے دینے سے روکتا ہو۔

المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد کے علم حاصل کرنے کا مقصد صرف اچھی نوکری کا حصول ہوتا ہے اور یوں ہی بس ساری زندگی نوکری کرنے میں ہی گزر جاتی ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں ایسے بھی آئے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے مختلف اور منفرد ایجادات کیں جن سے آج تک دنیا استفادہ حاصل کررہی ہے۔ حقیقی علم انسان کے اندر کچھ نیا بنانے، ایجاد کرنے یا تخلیق کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے جسکی بدولت آدمی کی کامیابی کا معیار بنتا ہے جو حصول علم سے پیدا ہونے والی ایک بہترین تبدیلی اور خوبی ہے۔

علم کے ذریعے ہونے والی ایک بڑی مثبت تبدیلی یہ بھی ہے کہ علم انسان کی کردار سازی کرتا ہے. حصول علم انسان کے ایمان و یقین کو مزید پختہ کر دیتا ہے. ابنِ آدم کے اندر تقوی و پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے اور اس شخص کے دنیا سے رخصت ہونے بعد بھی اسکا کردار اور اخلاص ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور وہ دلوں پر راج کرتا ہے. اللّٰہ ذوالجلال قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:

“اللّٰہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کردے گا جو ایمان لائے اور جنہوں نے علم حاصل کیا.” سورۃ المجادلہ آیت 11.

یاد رکھیں! علم ہی ہمارے ہر عمل کا حوالہ ہے اور یہی علم کی حقیقت ہے. رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے حصول علم کا کوئی نیک مقصد بنانے میں ہماری مدد فرمائے اور ہمیں سچے علم والوں میں شمار کرے جو اپنی اور دوسروں کی اصلاح کا باعث بنیں… آمین۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

عمیمہ ساجد تاریخی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.