اعتکاف میں لیلتہ القدر کی تلاش

217

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی اہم ترین عبادت اعتکاف ہے، اعتکاف کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ جس میں انسان صحیح معنوں میں سب سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کے حضور یکسو ہو کر بیٹھ جاتا ہے، خلوت میں خوب توبہ و استغفار کرتا ہے۔ تلاوت، نوافل ، ذکر و اذکار کرتا ہے، دعا و التجا کرتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ وہ شب قدر کی تلاش اور اس مبارک رات کی عبادت میں کامیاب ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ’’رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، دنیائے فانی سے پردہ فرما جانے تک آپ کا یہ معمول رہا، آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں‘‘ (بخاری)۔

فضلیت اعتکاف کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے‘‘۔

نزول قرآن سے پہلے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب سے الگ ہو کر گوشہ تنہائی میں ﷲ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر کیلئے مسلسل کئی کئی مہینے غار حرا میں خلوت نشینی کرتے، یہ گویا اعتکاف ہی تھا اور اسی دوران آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ چنانچہ غار حرا کے اعتکاف کے آخری ایام میں اﷲ ربّ العزت کی طرف سے حضرت جبرائیلؑ سورۂ اقرأ کی ابتدائی آیات لے کر نازل ہوئے۔ تحقیق کے مطابق یہ رمضان المبارک کا مہینہ اور اس کا آخری عشرہ تھا اور وہ رات شب قدر تھی، اس لئے بھی اعتکاف کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا انتخاب کیا گیا۔

روح کی تربیت اور نفسانی خواہشوں کو ترک کرکے تقویٰ اختیار کرنے کے لئے رمضان المبارک کے روزے تمام افراد امت پر فرض کئے گئے ہیں اور اپنے باطن میں روحانیت کو غالب اور شیطانیت کو مغلوب کرنے کے لئے اتنا مجاہدہ اور نفسانی خواہشات کی اتنی قربانی تو ہر ایک مسلمان کے لئے لازم کر دی گئی کہ وہ اس پورے مہینے میں ﷲ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی عبادت کی نیت سے دن کو نہ کچھ کھائے نہ پیئے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے گناہوں بلکہ فضول باتوں سے بھی پرہیز کرے اوریہ پورا مہینہ ان پابندیوں کے ساتھ گزارے۔

اس سے ایک قدم اور آگے اللہ تعالیٰ سے خصوصی ترقی پیدا کرنے کے لئے اعتکاف رکھا گیا ہے، کہ اس میں ﷲ کا بندہ سب سے کٹ کر اور سب سے ہٹ کر اپنے مالک و رازق کے در پر پڑ جاتا ہے، اسی کو یاد کرتا ہے، اسی کے دھیان میں رہتا ہے اس کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے۔ اس کے حضور میں توبہ و استغفار کرتا ہے، اپنے گناہوں اور قصوروں پر روتا ہے اور رحیم و کریم مالک سے رحمت و مغفرت مانگتا ہے۔ اس کی رضا اور اس کا قرب چاہتا ہے۔ اسی حال میں اس کے دن گزرتے ہیں اور اسی حال میں اس کی راتیں، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی بندے کی سعادت اور کیا ہوسکتی ہے۔

حدیث قدسی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے’’ میرابندہ جب میری پسندیدہ اورفرض کردہ کسی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے، اورجب میرا بندہ نوافل کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، اورجب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور آنکھ بن جانتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کی ٹانگ بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اوراگر وہ مجھے سے مانگے تو میں اسے دیتا ہوں، اورمیری پناہ میں آنا چاہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں‘‘( صحیح بخاری)۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ معتکف کے لئے شرعی دستور اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کو جائے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے باہر نکلے نہ عورت سے صحبت کرے نہ بوس و کنار کرے اور اپنی ضرورتوں کے لئے بھی مسجد سے باہر نہ جائے، سوائے ان ضرورتوں کے جو بالکل ناگزیر ہیں (جیسے پیشاب و پاخانہ وغیرہ ) اور اعتکاف (روزہ کے ساتھ ہونا چاہیے) بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد میں ہونا چاہیے، اس کے سوا نہیں ‘‘(سنن ابی دائود)۔

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی ﷲ علیہ والہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ (اعتکاف کی وجہ سے) گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرف جاری رہتا ہے اور نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے‘‘ (ابن ماجہ)۔ یعنی جب بندہ اعتکاف کی نیت سے اپنے آپ کو مسجد میں مقید کر دیتا ہے تو اگرچہ وہ عبادت اور ذکر و تلاوت کے راستہ سے اپنی نیکیوں میں خوب اضافہ کرتا ہے لیکن بعض بہت بڑی نیکیوں سے وہ مجبور بھی ہو جاتا ہے، مثلاً وہ بیماروں کی عیادت اور خدمت نہیں کر سکتا جو بہت بڑے ثواب کا کام ہے، کسی لاچار مسکین یتیم اور بیوہ کی مدد کے لئے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتا، کسی میت کو غسل نہیں دے سکتا، جو اگر ثواب کے لئے اور اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑے اجر کا کام ہے، اسی طرح نماز جنازہ کی شرکت کے لئے نہیں نکل سکتا، میت کے ساتھ قبرستان نہیں جاسکتا، جس کے ایک ایک قدم پر گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

لیکن اس حدیث میں اعتکاف کرنے والے کو بشارت سنائی گئی ہے کہ اس کے حساب اور اس کی نامہ اعمال میں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے وہ سب نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے کرنے سے وہ اعتکاف کی وجہ سے مجبور ہوجاتا ہے، اور وہ ان کا عادی تھا۔ اللہ پاک ان محروم نیکیوں کا نعم البدل بہت بڑے اجر کی شکل میں عطا فرماتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں آخری عشرہ رمضان کے اعتکاف کی توفیق عطاء فرمائے، جوکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک سنت، لیلتہ القدر جیسی مبارک رات کی عبادت کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.